ٹرینڈنگ
سچ اور جھوٹ میں "سچ” ننگا اور کڑوا کیوں ہوتا ہے؟مقبوضہ فلسطین کے عربوں اور ہندوستانی مسلمانوں کی سیاست کا قیاس نامعقول ہےUCC: مسلم پرسنل لا بورڈ نے مہاراشٹر حکومت کے سوالات کے جوابات کے لیے QR کوڈ جاری کیادارالعلوم دیوبند میں رابطہ مدارس اسلامیہ کا کل ہند اجلاس، تعلیمی و انتظامی اصلاحات کے لیے اہم تجاویز منظورممبئی میں علماء کے لیے دو روزہ پیرا لیگل ٹریننگ ورکشاپ کا انعقادقوتِ گویائی ایک عظیم ترین نعمتآذربائیجان کے الہام علیوف اپنی ہی سیاسی قبر کھود رہے ہیںعربی زبان کے نامور ادیب اور کئی نسلوں کے استاذ مولانا سعید الاعظمی کی وفات کا سانحہسچ اور جھوٹ میں "سچ” ننگا اور کڑوا کیوں ہوتا ہے؟مقبوضہ فلسطین کے عربوں اور ہندوستانی مسلمانوں کی سیاست کا قیاس نامعقول ہےUCC: مسلم پرسنل لا بورڈ نے مہاراشٹر حکومت کے سوالات کے جوابات کے لیے QR کوڈ جاری کیادارالعلوم دیوبند میں رابطہ مدارس اسلامیہ کا کل ہند اجلاس، تعلیمی و انتظامی اصلاحات کے لیے اہم تجاویز منظورممبئی میں علماء کے لیے دو روزہ پیرا لیگل ٹریننگ ورکشاپ کا انعقادقوتِ گویائی ایک عظیم ترین نعمتآذربائیجان کے الہام علیوف اپنی ہی سیاسی قبر کھود رہے ہیںعربی زبان کے نامور ادیب اور کئی نسلوں کے استاذ مولانا سعید الاعظمی کی وفات کا سانحہ

وقف ترمیمی بل کی مخالفت میں اپنی رائے دینے کے لئے مولانا بدر الدین اجمل کا عوام سے اپیل

0%
وقف ترمیمی بل کی مخالفت میں اپنی رائے دینے کے لئے مولانا بدر الدین اجمل کا عوام سے اپیل
اسلام

وقف ترمیمی بل کی مخالفت میں اپنی رائے دینے کے لئے مولانا بدر الدین اجمل کا عوام سے اپیل

Eastern
1 min read5 views
Save this article for later

وقف ترمیمی بل کی مخالفت میں اپنی رائے دینے کے لئے مولانا بدر الدین اجمل کا عوام سے اپیل

ای سی نیوز ڈیسک
07 ستمبر 2024

ممبئی / 7ستمبر:”وقف مسلمانوں کی ملکیت ہے اور مسلمان ہی اس کے محافظ و نگراں ہیں۔ وقف صرف کسی جائیداد کا نام نہیں بلکہ یہ ایک عبادت اور صدقۂ جاریہ ہے جس کا ثواب وقف کرنے والے کو‌ مرنے کے بعد بھی ملتا رہتا ہے , جس سے غریبوں، یتیموں، مسکینوں اور بیواؤں کی کفالت کی جاتی ہے۔ نیز اس سے تعلیمی ادارے، ہاسُٹلس ، ہسپتال ،مسافر خانے، درگاہیں، مدارس اور مساجد وغیرہ کی تعمیر و ترقی کا کام کیا جاتا ہے۔ وقف کسی ایک فرد یا جماعت کا مسئلہ نہیں بلکہ یہ ایک شرعی مسئلہ ہے اور شریعت کی حفاظت بحیثیت مسلمان ہم سب کی ذمہ داری ہے۔” مذکورہ باتیں تین بار کے سابق رکن پارلیامنٹ مولانا بدر الدین اجمل، صدر آل انڈیا یونائیٹیڈ ڈیموکریٹک فرنٹ، صدر جمعیت علمائے آسام اور رکن آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ نے اپنے ایک اخباری بیان میں کہا ہے۔

مولانا اجمل نے مزید کہا کہ حال ہی میں موجودہ حکومت کی طرف سے وقف ترمیمی بل 2024 کو لوک سبھا میں پیش کیا گیالیکن حزب مخالف کی شدید مخالفت کی بناء پر پاس نہیں ہوسکا اور اب اسے جوائن پارلیمانی کمیٹی( JPC) کے حوالہ کردیا گیا ہے جس پر JPC نے عوام سے رائے طلب کی ہے۔ واضح رہے کہ یہ بل وقف کے تحفظ اور مقاصد کے بالکل خلاف ہے اور یہ بل اتنا خطرناک ہے کہ چند ہی سالوں میں وقف کی جائیداد کو اس کے ذریعہ مسلمانوں کی ملکیت سے خارج کیا جا سکتا ہے۔ اس لیے مسلم پرسنل لاء بورڈ اور تمام ملی و انصاف پسند تنظیمیں حکومت سے اس بل کو واپس لینے کا مطالبہ کرہی ہیں،جس کے لیے مسلم لاء بورڈ نے ایک بار کوڈ جاری کیا ہے جس سے لوگ آسانی کے ساتھ اپنی رائے JPC کو بھیج سکتے ہیں۔اس بار کوڈ اور لنک کو مختلف اخبارات اور سوشل میڈیا کے ذریعہ عام کیا گیا ہے تاکہ لوگوں کو اپنی رائے دہی میں آسانی ہو۔

وقف ترمیمی بل کی مخالفت میں اپنی رائے دینے کے لئے مولانا بدر الدین اجمل کا عوام سے اپیل
اس QR Code کے ذریعہ اپنی رائے دیں

مولانا بدر الدین اجمل نے یاد دہانی کرتے ہوئے عوام سے اپیل کی ہے کہ "جوائن پارلیمانی کمیٹی کو اپنی رائے بھیجنے کی آخری تاریخ 13 ستمبر 2024 ہے اور اب صرف چند ہی دن باقی رہ گئے ہیں، اس لئے میں تمام مسلمانوں سے اپیل کرتا ہوں کہ اس کیو آر کوڈ کے ذریعہ اپنی رائے ضرور درج کرائیں۔ مساجد میں ہر نماز کے بعد اعلان ہو اور اس کا کاپی ہرفرد کے گھر میں پہنچایا جائے۔”

Eastern

Eastern

Staff writer at Eastern Crescent Urdu.

View all posts →

Comments (0)

Leave a Comment

اوپر تک سکرول کریں۔