عصر حاضر میں اشاعت دین کیلئے مناظرے کی حیثیت؟
ازـــــ محمد برہان الدین قاسمی
ایڈیٹر: ایسٹرن کریسنٹ، ممبئی
کچھ عزیز دوستوں، ایسٹرن کریسنٹ کے قارین اور میرے پیارے تلامذہ نے ذاتی پیغامات کے ذریعے مجھ سے درخواست کی ہے کہ 20 دسمبر 2025 کو دہلی میں منعقد ہونے والے اس اعلان شدہ مناظرے، جو کلکتہ کے ایک نوجوان عالمِ دین مفتی شمائل ندوی صاحب اور ممبئی میں مقیم مشہور نغمہ نگار جناب جاوید اختر صاحب کے درمیان بعنوان "کیا خدا موجود ہے؟” ہونے جا رہا ہے—اس کے بارے میں اپنی رائے پیش کروں۔
چنانچہ اختصار کے ساتھ یہ عوامی جواب تحریر کر رہا ہوں، جسے میں ان تمام واٹس ایپ گروپس میں جہاں درخواست کرنے والے احباب موجود ہیں، اور اپنے فیس بک وال پر بھی پوسٹ کر رہا ہوں۔ امید ہے یہ تحریر سب کے لیے کافی ہوگی—ان شاءاللہ۔
میرے خیال میں:
1. مناظرے عموماً نتیجہ خیز نہیں ہوتے۔ ان میں کسی جیت یا ہار کا واضح فیصلہ نہیں ہوتا، اور اگر ہو بھی جائے تو کوئی فریق اسے مانتا نہیں؛ بعد میں ہر فریق اپنی جیت کا دعویٰ کرتا ہے۔
2. اسلام کی تبلیغ کا مزاج مناظرہ یا مناقشہ نہیں رہا۔ کسی کو ہرا کر اپنی جیت درج کرانا اسلامی اسلوب نہیں ہے بلکہ تفہیم، دعوت، حکمت اور انسانوں کے دل جیت کر انھیں قریب لانا ہی ہمیشہ سے اسلام کا کامیاب نسخہ رہا ہے۔
3. مناظرے، مناقشے اور غیر مناسب مباحثے اکثر مسائل کم کرنے کے بجائے مزید مسائل پیدا کرتے ہیں۔ دوریاں بڑھتی ہیں، فضا خراب ہوتی ہے اور کبھی کبھی غیر ارادی نقصانات بھی سامنے آتے ہیں۔
4. مناظرے مناظرین کو تو مشہور کر دیتے ہیں، لیکن اسلام یا مسلمانوں کو اس کا خاطر خواہ فائدہ نہیں ہوتا۔ مثال کے طور پر: جنوبی افریقہ کے مشہور مناظر احمد دیداتؒ کے مقابلے میں فرانس کے جلیل القدر مبلغ ڈاکٹر محمد حمید اللہؒ کے حکیمانہ اسلوب نے اسلام کی دعوت کو زیادہ مؤثر طریقے سے آگے بڑھایا۔ اسی طرح موجودہ دور میں ڈاکٹر ذاکر نائیک صاحب کے جارحانہ انداز کے مقابلے میں مولانا طارق جمیل صاحب (پاکستان) اور مفتی مینک صاحب (زمبابوے) کے نرم اور دلنشین انداز نے زیادہ دل جیتے ہیں اور زیادہ لوگوں کو اسلام سمجھنے اور اپنانے میں مدد دی ہے۔ واضح رہے ان میں ایک بڑی تعداد سابقہ ملحدین کی بھی ہے۔
5. جناب جاوید اختر صاحب ایک اعلانیہ ملحد ہیں۔ ان سے متعدد اسٹیجوں پر ملاقات بھی ہوئی اور میں نے ان کی تحریریں بھی کچھ پڑھی ہیں۔ کافی ترش زبان اور مذہب کے بارے میں سخت گیر بھی ہیں۔ مفتی شمائل ندوی صاحب سے ذاتی واقفیت نہیں ہے۔ ان کے کچھ خیالات میں نے مفتی یاسر ندیم الواجدی صاحب کے یوٹیوب چینل پر دیکھے اور آج ہی ان کے اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر بھی نظر ڈالنے کا موقع ملا۔ الحمدللہ علمی پختگی موجود ہے اور الحاد پر اچھا مطالعہ بھی ہے، لیکن نوجوان اور پُرجوش ہیں، اندازِ بیان اور الفاظ کے انتخاب میں مزید شائستگی، ٹھہراؤ اور گیرائی کی ضرورت ہے۔ بہرحال، مجھے امید ہے کہ مفتی شمائل ندوی صاحب وجودِ باری تعالیٰ کے حق میں اپنی بات خوش اسلوبی سے پیش کر سکیں گے، اور ہم ان کے لیے دعا گو بھی ہیں۔
قارئینِ کرام ان پانچ نکات سے بخوبی سمجھ سکتے ہیں کہ تبلیغِ اسلام کے لیے میں مناظرے کے حق میں نہیں ہوں۔ بعض مناظرے اور مباہلے محض ذاتی تشہیر اور سوشل میڈیا ٹی آر پی کے لیے کیے جاتے ہیں۔ ان سے مثبت نتائج کم اور مجموعی طور پر منفی نتائج زیادہ سامنے آتے ہیں۔

مثال کے طور پر، گزشتہ سال ممبئی کے ایک مفتی صاحب نے نویڈا کے ایک اسلام مخالف بابا کو مباہلہ کی دعوت دی تھی۔ خوب تشہیر ہوئی، شہرت ملی، پھر معاملہ مفتی صاحب کے جیل جانے تک پہنچا۔
وہ مفتی صاحب تو بہت سے نوجوانوں کے لیے ہیرو بن گئے اور آج ان کے سوشل میڈیا فالوورز کی بڑی تعداد موجود ہے جس سے مالی فائدہ بھی ہوتا ہے، لیکن سوچنے کی بات یہ ہے کہ اس پورے عمل سے اسلام اور مسلمانوں کو کیا فائدہ ہوا؟
اسی طرح، 20 دسمبر کا اعلان شدہ یہ مناظرہ بھی، جسے مشہور یوٹیوبر ابیشار شرما اینکر کریں گے، مجھے زیادہ تر سوشل میڈیا ٹی آر پی کا معاملہ ہی لگتا ہے۔ میرے اندازے کے مطابق جاوید اختر صاحب کے پاس خدا کے وجود پر علم کی کمی نہیں، لیکن ان میں دین کی سمجھ نہیں، یا وہ پہلے سے سمجھنا ہی نہیں چاہتے، اس لیے وہ آخر میں خدا کے وجود کو تسلیم کر لیں گے یا مفتی شمائل ندوی صاحب کی بات مان لیں گے—ایسا مجھے نہیں لگتا۔
پھر بھی چونکہ ہمارے ایک نوجوان عالم نے اعلان کر دیا ہے، اور امید ہے کہ وہ اور ان کی ٹیم مخلص ہوں گے، اس لیے ہم ان کے لیے دعا گو ہیں۔
البتہ یاد رہے: کسی موجود کے وجود کا انکار کر دینے سے اس کی موجودگی ختم نہیں ہو جاتی۔ الٹا یہ انکار کرنے والے کی بصارت، سماعت، فہم اور احساس کی صلاحیت پر سوال اٹھاتا ہے۔ اس لیے مفتی شمائل ندوی صاحب جاوید اختر صاحب کو خدا کے وجود پر قائل کر پاتے ہیں یا نہیں—اس سے مجھے کوئی فکری تشویش نہیں، نہ ہی اس سے خدا کے وجود میں کوئی کمی ہونے والی ہے۔ میری فکر صرف اس بات کی ہے کہ کیا اس طرح کے مناظرے کرنا مناسب بھی ہے یا نہیں؟
موجودہ دور میں نوجوانوں کو مثبت دعوت کے ذریعے متاثر کیا جانا چاہیے، نہ کہ دوسروں کے رد اور انہیں نیچا دکھانے کے ذریعے۔ دین کی تبلیغ "تکبیرات بلند” کر کے نہیں بلکہ انسانی دلوں کو مائل کر کے ہو تو بہتر ہے۔
