مرکز المعارف کے طلباء کی مولانا بدر الدین اجمل القاسمی کے ساتھ ملاقات

Eastern
6 Min Read
123 Views
6 Min Read

مرکز المعارف کے طلباء کی مولانا بدر الدین اجمل القاسمی کے ساتھ ملاقات

از:محمد سعد قاسمی
متعلم: مرکزالمعارف  ممبئی

ممبئی ـــــــــــــــ  9 دسمبر 2025 ، بروز منگل مرکزُ المعارف ایجوکیشن اینڈ ریسرچ سینٹر، ممبئی  کے تمام اساتذہ اور طلبہ کا گروپ محمد علی روڈ میں واقع ‘ شیفی کیسل’ کی عالیشان عمارت میں جمع ہوا، جہاں محسنِ ملّت، مرکزُ المعارف کے بانی اور روحِ رواں مولانا بدرالدین اجمل القاسمی کے ساتھ ایک طویل علمی، اصلاحی اور روحانی نشست کا انعقاد کیا گیا تھا۔

عشاء کی نماز کے بعد باضابطہ پروگرام کا آغاز ہوا۔ پروگرام کی نظامت مرکزُ المعارف ممبئی کے ایک استاد مفتی جسیم الدین قاسمی کی۔ مرکزالمعارف کے ایک طالبِ علم قاری قمر الحسین تلاوتِ سے نشست کا آغاز ہوا جس کے بعد شانِ رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم میں نذرانۂ عقیدت مولانا عمر فاروق منڈل نے پیش کی۔ مرکزُ المعارف کے ہونہار طالبِ علم اور اردو زبان کے شاعر مولوی ارشد انصاری نے مولانا بدرالدین اجمل القاسمی اور مرکز کے ڈائریکٹر مولانا محمد برہان الدین قاسمی کی گراں قدر خدمات پر مشتمل اپنا کلام پیش کیا، جسے قارئین کی دلچسپی اور افادہ عامہ کیلئے رپورٹ کے اخیر میں دیدیا گیا ہے۔

مولانا اجمل نے اپنی گفتگو کا آغاز ایک سوال سے کیا: "آج ہمارے اندر وہ آگ باقی ہے جو ہمارے اکابر میں تھی؟ آج مساجد و مدارس کے آباد ہونے کے باوجود معاشرہ کیوں بگڑ رہا ہے؟ کیا معاشرے کی اصلاح علماء کی ذمہ داریوں میں شامل نہیں ہے؟” مولانا نے فرمایا کہ اگر امت مریض ہے تو علما کو طبیبانِ امت بننا ہوگا۔ طلبہ کتابوں سے زیادہ اپنے اساتذہ کے عمل سے سیکھتے ہیں۔ اگر امت کی اصلاح مقصود ہے تو علماء کو نبوت کا عملی نمونہ اپنی ذات میں دکھانا ہوگا۔ قرآنِ کریم میں "کُونُوا مَعَ الصَّادِقِین” کا حکم آیا ہے۔ علم کتابوں سے ملتا ہے لیکن درد دل سے منتقل ہوتا ہے، اور اسی کو اصطلاح میں’ انعکاس’ کہا جاتا ہے۔
علما کو اخلاص و للہیت کا ہتھیار کبھی نہیں کھونا چاہیے؛ اگر اخلاص نہیں تو قربانی محض نمائش بن کر رہ جاتی ہے۔ سادگی عیب نہیں بلکہ انبیاء کی سنت ہے۔ اس طرح کی بے شمار بیش بہا نصیحتوں کا گلدستہ مولانا نے نو فارغین علماء کے سامنے پیش کیا، جو ان کی آئندہ علمی، اصلاحی اور روحانی زندگی کے لیے نہ صرف مشعلِ راہ ہے بلکہ دلوں کو ایمانی تازگی عطا کرنے والا دائمی سرمایہ بھی ہے۔ حضرت نے اس مجموعے کی اشاعت کی خواہش کا اظہار بھی فرمایا، جس پر تمام حاضرینِ علما نے پُرزور تائید کی۔

مرکز المعارف کے طلباء کی مولانا بدر الدین اجمل القاسمی کے ساتھ ملاقات تربیتی نظام کا خاکہ پیش کرتے ہوئے مولانا نے ایک نہایت قیمتی مشورہ دیا کہ کم از کم ہفتے میں ایک مرتبہ ایسی مجلس کا انعقاد کیا جائے جس میں درس و تدریس کی باتیں نہ ہوں، بلکہ سوز و عشق اور فکر کی باتیں کی جائیں۔ بلکہ اس مجلس کا نام بھی مجلسِ عشق، مجلسِ درد یا مجلسِ فکر ہونا چاہیے۔

مزید حضرت نے نفس کی تینوں اقسام پر تفصیلی روشنی ڈالی اور طلبہ و علما کو نصیحت فرمائی کہ آپ کا کام نفسِ لوّامہ کی غلاظتوں اور پستیوں سے گزرتے ہوئے نفسِ مطمئنہ کی بلند چوٹیوں تک پہنچنا ہے، تاکہ کتاب و سنت کی پیروی آپ کی طبیعتِ ثانیہ بن جائے۔ ایک ولی اور فنا فی اللہ بزرگ کا واقعہ بیان کرتے ہوئے مولانا نے کہا کہ ایک مرتبہ ایک بزرگ نے کہا: "سورج میری مرضی سے طلوع و غروب ہوتا ہے۔” لوگوں نے سمجھا کہ یہ کلمۂ کفر ہے، لیکن تحقیق پر معلوم ہوا کہ وہ بزرگ اپنی مرضی کو خدا کی مرضی میں فنا کر چکے ہیں۔ ان کے لیے اپنی کوئی مرضی باقی نہیں رہی، بلکہ خدائی نظام ہی ان کی مرضی بن چکا تھا۔

آخر میں حضرت نے تزکیۂ نفس اور صحبتِ اولیاء پر زور دیا۔ فرمایا کہ تزکیہ کے بغیر علم ذہنی عیاشی اور محض تفریح کا سامان ہے۔ مجلس کے اختتام سے قبل مرکز المعارف کے ڈائریکٹر مولانا محمد برہان الدین قاسمی نے بے حد خوشی اور مسرت کا اظہار کیا اور مولانا کی ان قیمتی باتوں اور فکر انگیز نصیحتوں کو نہ صرف اپنانے کا عزم ظاہر کیا بلکہ آنے والے طلبہ و اساتذہ کے لیے عظیم سرمایہ قرار دیا۔ مولانا بدرالدین اجمل القاسمی کی دلسوز دعا پر اس مبارک علمی، اصلاحی اور روحانی مجلس کا اختتام ہوا۔


منظوم کلام ملاحظ ہو جسے مرکزالمعارف کے ایک طالبعلم مولوی ارشد بستوی نے  مولانا بدر الدین اجمل  القاسمی کی شان میں لکھا ہے 👇

سجی ہے بزم محبت، خوشی کی ساعت ہے
ہر ایک فرد پہ چھائی عجب مسرت ہے

ہم آئے کھنچ کے یہاں مرکز المعارف سے
تمہاری ذات میں ایسی کشش ودیعت ہے

سلام پیش ہے حضرت ہماری جانب سے
کہ ملک بھر میں نمایاں تمہاری خدمت ہے

عجیب مرد قلندر ہیں حضرتِ برہاں
بہت ہی قابل توصیف ان کی محنت ہے

تمہارا کام ہے گویا یوں حضرتِ اجمل
تمہارے نام پہ نازاں تو خود سیاست ہے

خدا دراز کرے عمر آپ کی حضرت
یہی دعا ہے ہماری، یہی تو چاہت ہے

ارشد بستوی

 

Share This Article
کوئی تبصرہ نہیں ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Trending News

مرکزالمعارف ممبئی میں اکیسواں جلسۂ تقسیمِ اسناد کا شاندار انعقاد

مرکزالمعارف ممبئی میں اکیسواں جلسۂ تقسیمِ اسناد کا شاندار انعقاد ای سی…

Eastern

ایران، عالمی مزاحمت اور مغربی بالادستی کا زوال

ایران، عالمی مزاحمت اور مغربی بالادستی کا زوال از: محمد برہان الدین…

Eastern

”سامعین کی توجہ اور فکری وزن کے بغیر تقریر بے اثر ہے“_سہیل مسعود

”سامعین کی توجہ اور فکری وزن کے بغیر تقریر بے اثر ہے“_سہیل…

Eastern

ٹریل بلیزر: فکر، ایمان و سائنس کا سنگم

ٹریل بلیزر: فکر، ایمان و سائنس کا سنگم از____ محمد توقیر رحمانی…

Eastern

ماہ ربیع الاول اور اسوۂ نبوی ﷺ کا تقاضا

ماہ ربیع الاول اور اسوۂ نبوی ﷺ کا تقاضا از____ محمد توقیر…

Eastern

انسان کی تخلیق محض وجود کیلئےنہیں ، خلافتِ ارضی کی عظیم ذمہ داری کیلئے ہے

انسان کی تخلیق محض وجود کیلئےنہیں ، خلافتِ ارضی کی عظیم ذمہ…

Eastern

Quick LInks

اسلام کا نظامِ زکوٰۃ

اسلام کا نظامِ زکوٰۃ از: مفتی جسیم الدین قاسمی کوآرڈینیٹرآن لائن دارالافتاء …

Eastern

عصرحاضر کے ‘مقدس سراب’ اور بندگی کی گمشدہ شاہراہ

عصرحاضر کے 'مقدس سراب' اور بندگی کی گمشدہ شاہراہ از: مولانا صادق…

Eastern

موجودہ وقت میں زکوۃ کے بہترین مصارف مدارسِ دینیہ کے طلبہ ہیں

زکوٰۃ کی جمع و تقسیم شرعی و دینی مسائل و  معلومات دین…

Eastern