ایک شخص سارے شہر کو ویران کر گیا
از-مولانا محمد طہ جون پوری
امام و خطیب دھانواڑی مسجد بھنڈی بازار
سوشل میڈیا کے توسط سے جوں ہی یہ خبر موصول ہوئی کہ معروف روحانی بزرگ *محبوب العلماء حضرت پیر ذوالفقار نقشبندی علیہ الرحمہ* دنیائے فانی کو الوداع کہ کر، دنیائے جاودانی کو رخصت ہو گئے ہیں، ہر طرف صورت حال ایسی تھی، کہ
بچھڑا ہے کچھ اس ادا سے کی رُت بدل گئی
اک شخص سارے شہر کو ویران کرگیا
انا للہ وانا الیہ راجعون
آپ کی ولادت و تعلیم
آپ کی ولادت، یکم اپریل 1953 کو جھنگ میں ہوئی۔ آپ نے ایک انجینیر کے طور پر تعلیم حاصل کی اور یونیورسٹی آف انجینیرنگ اینڈ ٹنیکنالوجی، لاہو ر سے ڈگری حاصل کی. بعد میں آپ نے سلسلہ نقشبندیہ سے جڑ گئے۔ سلسلہ نقشبندیہ کے بانی معروف بزرگ شیخ بہاؤالدین نقشبندرحمہ اللہ ہیں۔ ویکیپیڈیا پر آپ رحمہ اللہ کے حوالے سے یہ مواد موجود ہے۔
’’ذو الفقار احمد نقشبندی کی تعلیم اسکولوں اور کالجوں میں ہوئی۔ انھوں نے کئی عصری کورس کیے 1972ء میں بی ایس سی الیکٹریکل انجینئر کی ڈگری حاصل کرکے اسی شعبے سے وابستہ ہو گئے، پہلے اپرنٹس الیکٹریکل انجینئر، پھر اسسٹنٹ الیکٹریکل انجینئر بنے، اس کے بعد چیف الیکٹریکل انجینئر بن گئے، جس زمانے میں وہ انجینئر بن رہے تھے اس زمانے میں جمناسٹک، فٹ بال، سوئمنگ کے کیپٹن اور چمپیئن بھی رہے، ابتدائی دینیات، فارسی اور عربی کی کتابیں بھی پڑھیں، قرآن کریم بھی حفظ کیا، یہاں تک کہ جب وہ لاہور یونیورسٹی میں زیر تعلیم تھے ان کا تعلق عمدۃ الفقہ کے مصنف سید زوار حسین شاہ سے ہو گیا، جو نقشبندیہ سلسلے کے ایک صاحب نسبت بزرگ تھے، شیخ ذو الفقار احمد نے ان سے مکتوبات مجدد الف ثانی سبقاً سبقاً پڑھی، ان کی وفات کے بعد وہ خواجہ غلام حبیب نقشبندی مجددی ؒ (معروف بہ: مرشدِ عالم) کے دامن سے وابستہ ہو گئے، یہ 1980ء کی بات ہے، 1983ء میں خلافت سے سرفراز کیے گئے، اس دوران میں انھوں نے جامعہ رحمانیہ جہانیاں منڈی اور جامعہ قاسم العلوم ملتان سے دورۂ حدیث کی اعزازی ڈگری بھی حاصل کی۔

زبان میں تاثیر
بقول علامہ اقبال علیہ الرحمہ کے
دل سے جو بات نکلتی ہے اثر رکھتی ہے
پر نہیں طاقت پرواز مگر رکھتی ہے
حضرت پیر صاحب علیہ الرحمہ کے بیانات کا یہی حال تھا۔ آپ نے اپنی زبان سے نا جانے کتنے مردہ دلوں کو روشن کیا۔ اور کتنے پریشان حال لوگوں کو قلبی سکون پہنچایا۔ آپ کی اصلاحانہ تحریک کا اثر تھا کہ نا جانے کتنے بے دل، دل والے بن گئے اور کتنوں کو تعلق مع اللہ حاصل ہوگیا۔ آپ کی پوری زندگی اسلام کی خدمت، تصوف و روحانیت کی تبلیغ ، شریعت و طریقت کے فروغ میں گذری۔ سچی بات یہ ہے اس مسیحا نفس نے نور و ہدایت کا ایک چراغ روشن کیا۔
آپ کی معتبریت
دار العلوم دیوبندپوری دنیا میں امت مسلمہ، کا مسلم ادارہ ہے۔ اور اس کے ہرہر لفظ کو اعتبار بخشا جاتا ہے۔ اور سند مانا جاتا ہے. دار العلوم دیوبند کی فتوی سائٹ پر ایک فتوی موجود ہے جو آپ کے حق میں شاہد عدل ہے۔ فتویٰ مندرجہ ذیل ہے.
"سوال پاکستان میں جو پیر ذوالفقار احمد نقشبندی جو سلسلہ نقشبندی مجددی کے شیخ ہیں ان کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے؟
جواب نمبر: 35495
بسم الله الرحمن الرحيم
فتوی(م): 1828=1828-12/1432 پیر فقیر حضرت ذوالفقار احمد صاحب دامت فیوضہم، نقشبندی سلسلے کے صاحب نسبت بزرگ ہیں، اہل سنت والجماعت میں سے ہیں، دارالعلوم دیوبند اور اکابر دارالعلوم سے گہری اور سچی عقیدت رکھتے ہیں دارالعلوم کے ہم مشرب ہیں۔
واللہ تعالیٰ اعلم
دارالافتاء، دارالعلوم دیوبند
آپ کی محبوبیت
قرآن کریم میں اللہ تعالٰی نے ایک جگہ ارشاد فرمایا ہے کہ ﴿ إِنَّ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ سَيَجْعَلُ لَهُمُ الرَّحْمَٰنُ وُدًّا﴾ [ مريم: 96]
ترجمہ: بیشک جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے نیک کام بھی کیے، خدائے رحمن ان کے لیے محبت پیدا کر دے گا– 129 – تفسیر ماجدی )
مفسر قرآن مولانا دریابادی رحمہ اللہ لکھتے ہیں، کہ:
129 ۔ (خلائق کے قلوب میں بلا اسباب ظاہری کے) مشاہدہ ہے کہ بے غرض، متدین، مخلص، خادم خلق و عبادت گزار سے لوگوں کو محبت پیدا ہو جاتی ہے۔ متقیوں کے علاوہ دوسروں کو جہاں کہیں محبوبیت حاصل ہوتی ہے، وہاں کوئی نہ کوئی قریبی سبب ظاہری موجود ہوتا ہے۔ مثلا عزیز داری، ذاتی دوستی، ہم وطنی، ہمسایگی وغیرہ۔ یحبھم ويحبهم الى المؤمنین (ابن عباس” سيحدث لهم في القلوب مودة (كشاف) یہ تفسیر حدیث میں آئی ہے اور اس کا نعمت ہونا بلکہ اعظمِ نعمت ہونا ظاہر ہے۔ کیوں کہ مغز نعمت کا راحت اور امن ہے۔ اور ظاہر ہے کہ محبوبیت اس کے اعظم اسباب سے ہے۔ اور اس کا یہ مطلب نہیں کہ اس سے کسی کو بغض نہ ہوگا، بلکہ مقصود قرآن و حدیث کا یہ ہے کہ: عام خلائق جن کا نہ کوئی نفع اس مؤمن سے وابستہ ہے اور نہ کوئی ضرر اُس سے محبت کرتے ہیں۔ چناں چہ مشاہدہ ہے‘‘.
چناں چہ آپ کی محبوبیت کا اندازہ سب کو ہے. بالخصوص ہم خردوں کو اگرچہ ایک ہی بار کا موقع ملا، لیکن، آنکھوں سے اس کامشاہدہ کیا۔
تصنیف و تالیف
آپ کئی کتابوں کے مصنف بھی ہیں. آپ کے خطبات بھی مرتب ہوئے۔ اور جن سے امت نے بہت فائدہ اٹھایا. آپ کی کچھ کتابوں کے نام مندرجہ ذیل ہیں:
فقہ کے بنیادی اصول، زادِ حرم، اولاد کی تربیت کے سنہرے اصول، خواتینِ اسلام کے کارنامے، حیا اور پاکدامنی، مغفرت کی شرطیں، علم نافع، اسیر برما، عشق الہی، دوائے دل، عشق رسول، خطبات فقیر، خطبات ذو الفقار، عمل سے زندگی بنتی ہے، اہل دل کے تڑپا دینے والے واقعات

آپ سے شرف ملاقات
بندہ جس وقت 2011 میں دار العلوم دیوبند کی چھاؤں تلے سانسیں لے رہا تھا، اسی زمانے میں آپ کی تشریف آوری ہوئی۔ جہاں حسب سابق طلبہ عظام نے مسجد رشید میں، مصلی بچھاکر، تمام جگہوں پر قبضہ کرلیا۔ اس لیے قریب جانے کا موقع تو ہاتھ سے نکل گیا۔ بیک بنچر کے طور پر آپ کے بیان سے مستفید ہوا۔ اب اس کے بعد چھٹی حس کا استعمال کیا گیا۔ اس زمانے میں کچھ وسائل اختیار کیے گئے۔ قدیم مہمان خانے میں داخلہ حاصل کیا گیا۔ وہاں پہونچ کر پرسکون انداز میں آپ سے عقیدتوں بھرا مصافحہ نصیب ہوا۔ واقعی وہ لمحہ یاد آتا ہے، تو دل کی کیفیت بد ل جاتی ہے۔ آپ لمبے قد کاٹھی کے ، ہاتھ میں عصا مبارک، سر پر خوب صورت پگڑی اور پر نور چہرہ۔
آپ کے خلفاء
حضرت پیر صاحب رحمہ اللہ کے بہت سے خلفاء دنیا بھر کے طول و عرض میں پھیلے ہوئے ہیں۔ ان کی لمبی فہرست ہے۔ وطن عزیز میں ، *مولانا سلمان صاحب بجنوری استاد دارالعلوم دیوبند، مولانا صلاح الدین سیفی، مولانا سید طلحہ نقشبندی بھیونڈی*، وغیرہم ہیں۔ اللہ ان سب کو خوب خوب قبول فرمائے.
آج آپ اس دنیا سے رخصت ہوگئے۔
پروردگار عالم، جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے آمین. آپ کے درجات بلند فرمائے۔ آپ کی خدمات کو قبول فرمائے۔ آپ کی روحانی اولاد کو تا قیام قیامت اس سلسلہ کو آگے لے کر چلنا والا بنائے اور قدم بقدم دستگیری فرمائے، آمین۔
