اسلامی تعلیمات اور ماحولیاتی توازن: ایک فکری و عملی جائزہ

Eastern
9 Min Read
262 Views
9 Min Read

اسلامی تعلیمات اور ماحولیاتی توازن: ایک فکری و عملی جائزہ

از: محمد اسامہ قاسمی سمستی پوری
متعلم :جامعہ ملیہ اسلامیہ

کائنات کا ہرذرہ، دریا کی ہر موج، ہوا کی ہر لَے، اور زمین کا ہر پتہ ایک ہم آہنگ اور مربوط نظام کی گواہی دیتا ہے۔ یہ کارگہِ ہستی ایک توازن اور ایک حکمت سے معمور ہے، جس میں ہر شے اپنی حد میں اور اپنے دائرے میں مقصد کی تکمیل کر رہی ہے۔ انسان اگرچہ اشرف المخلوقات ہے، مگر وہ بھی اس عظیم نظمِ کائنات کا ایک ادنیٰ جزو ہے، نہ کہ مالک و مختار۔ مگر افسوس! جدید تہذیب نے ترقی کے نام پر فطرت کے اس پاکیزہ توازن کو بگاڑ ڈالا ہے۔ ماحولیاتی آلودگی، حیاتیاتی تنوع کا زوال، زمین کی بانجھ انجھ ہوتی کوکھ، پانی کی پیاسی بستیاں، جنگلات کی کٹی ہوئی سانسیں، اور ناپید ہوتی نسلیں یہ سب اُس غیر متوازن طرزِ زندگی کی نشانیاں ہیں، جس کی بنیاد حرص، خودغرضی اور فطرت سے بغاوت پر رکھی گئی ہے جس نےانسانی زندگی کے ساتھ ساتھ اس پورے کرہ ارضی کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔

ایسے پُرآشوب دور میں اسلام نہ صرف ایک دین ہے بلکہ ایک مکمل ضابطۂ حیات ہے۔ وہ انسان کو محض عبادت کا نہیں، بلکہ فطرت سے ہم آہنگی کا بھی درس دیتا ہے۔ قرآن کہتا ہے کہ "زمین میں فساد نہ پھیلاؤ”، اور نبیِ رحمت صلی اللہ علیہ وسلم نے درخت لگانے، پانی بچانے، اور جانوروں پر رحم کرنے کو عبادت کا درجہ دیا۔ اسلام انسان کو یاد دلاتا ہے کہ وہ زمین کا وارث ضرور ہے، مگر مالک نہیں؛ امانت دار ہے، اور اس پر لازم ہے کہ وہ اس امانت کا حق ادا کرے، تاکہ زمین سلامت رہے، فطرت مسکراتی رہے، اور نسلِ انسانی شرمندگی سے نہیں، فخر سے اپنے وجود کو یاد رکھے

اسلام کا نظریۂ فطرت اور ماحول
اسلام کا تصورِ فطرت، محض سائنسی تحقیق یا مظاہرِ قدرت کا مشاہدہ نہیں بلکہ ایک عمیق روحانی شعور اور اخلاقی ذمہ داری کا ترجمان ہے۔ کائنات کی ہر شے آسمان و زمین، پہاڑ و دریا، ہوا و بارش، دن و رات، شجر و حجر؛ سب کچھ ربّ ذوالجلال کی قدرت کا آئینہ ہے، اور انسان اگر آنکھِ بینا رکھتا ہو تو ہر منظر میں ایک پیغام، ہر مظہر میں ایک نشان پا سکتا ہے۔ قرآن مجید کی آیت ہے: "بیشک آسمانوں اور زمین کی تخلیق میں، اور رات دن کے آنے جانے میں اہلِ عقل کے لیے نشانیاں ہیں۔”
(سورہ آل عمران: 190)

یہ ایک پکار ہے کہ انسان فطرت کی گود میں بیٹھ کر خالقِ کائنات کو پہچانے، اس کے نظام میں توازن، حسن، اور عدل کو سمجھے۔
اسلام انسان کو زمین کا خلیفہ کہتا ہے: "اور جب تیرے رب نے فرشتوں سے کہا: میں زمین میں ایک خلیفہ بنانے والا ہوں۔”
(سورہ البقرہ: 30)
یہ خلافت کسی ملکیت کا دعویٰ نہیں؛ یہ ایک امانت اور ایک مقدس ذمہ داری ہے، جس کے تحت انسان کو اس زمین کے توازن کو، اس کے حسن کو، اور اس پر بسنے والی ہر مخلوق کے حق کو ملحوظ رکھنا ہے۔

مسلمان اور ماحولیاتی فریضہ
افسوس، مسلم دنیا نے ماحولیاتی مسائل کو محض سائنسی مسئلہ جان کر دینی شعور سے جدا کر دیا ہے، حالانکہ یہ ایک امانت ہے جس کا حساب بھی دینا ہے۔سعودی عرب کا گرین انیشیئیٹو، امارات کے شمسی منصوبے، انڈونیشیا و ترکی کی شجرکاری مہمات امید کی کرن ہیں، مگر امت کے لیے یہ کافی نہیں۔ مدارس، مساجد اور ہمارے دینی ادارے صدیوں سے امت کی فکری تربیت کا سرچشمہ رہے ہیں۔ آج وقت کا تقاضا ہے کہ منبر و محراب سے ماحولیات کی حفاظت کو اُسی شدّت سے بیان کیا جائے جس شدّت سے روزہ، نماز اور دیانت کی تلقین کی جاتی ہے؛ کیونکہ درخت لگانا صرف زمین کو سنوارنا نہیں، یہ ہمارے ایمان کا بیان ہے۔ پانی بچانا فقط عقل مندی نہیں، یہ سنتِ نبوی کی پیروی ہے اور زمین کو آلودگی سے بچانا کوئی مغربی فکر نہیں، یہ قرآن کی تعلیم ہے: "ولا تفسدوا فی الأرض بعد إصلاحها”۔

قلیل مدتی انگریزی کورس میں آج ہی داخلہ لیں
قلیل مدتی انگریزی کورس میں آج ہی داخلہ لیں

ایک عملی رہنمائی (باحوالہ قرآن و سنت)
اسلام محض نظریات کا مجموعہ نہیں، بلکہ ایک زندہ ضابطۂ حیات ہے۔ وہ انسان کو نہ صرف اخلاق سکھاتا ہے بلکہ عمل کے وہ راستے بھی دکھاتا ہے جو فرد اور معاشرے دونوں کو فلاح کی راہ پر گامزن کرتے ہیں۔ ماحولیاتی تحفظ بھی انہی اعمال میں سے ہے، جو آج کے دور میں امت مسلمہ کی ایک اہم ذمہ داری بن چکا ہے۔

ذیل میں وہ اقدامات درج کیے جاتے ہیں جنہیں ایک باشعور مسلمان اپنا کر ماحول دوست زندگی گزار سکتا ہے:

1. درخت لگانا اور سبزہ اگانا
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
"جو مسلمان درخت لگاتا ہے… وہ اس کے لیے صدقہ بن جاتا ہے۔”
(بخاری: 2320)

2. پانی کے اسراف سے بچنا
قرآن کا حکم ہے: "اور کھاؤ پیو، مگر حد سے نہ نکلو۔”
(الاعراف: 31)
اور فرمایا گیا: "دریا کے کنارے بھی ہو تو بھی وضو میں اسراف نہ کرو۔”
(ابن ماجہ: 425)

3. صفائی کا اہتمام
"صفائی نصف ایمان ہے۔”
(مسلم: 223)

4. پلاسٹک اور گندگی سے پرہیز
قرآن کہتا ہے: "زمین میں فساد نہ کرو جب کہ اس کی اصلاح ہو چکی ہو۔”
(الأعراف: 56)

5. توانائی کے وسائل میں اعتدال
"یقیناً فضول خرچ شیطان کے بھائی ہیں۔”
(بنی اسرائیل: 27)

6. جانوروں پر رحم کرنا
"ایک شخص کو اس لیے بخش دیا گیا کہ اس نے پیاسے کتے کو پانی پلایا۔”
(بخاری: 2363)

7. دینی اداروں میں ماحولیات کی تعلیم
"نصیحت کرتے رہیے، بے شک نصیحت مؤمنوں کو فائدہ دیتی ہے۔”
(اللذاریات: 55)

8. سفر میں صاف ستھرا رویہ
"راستوں کو گندگی سے آلودہ نہ کرو، یہ لوگوں کو تکلیف دیتا ہے۔”
(مسلم: 269)

9. میانہ روی اختیار کرنا
"نہ اپنا ہاتھ گردن سے باندھ لو اور نہ ہی اسے بالکل کھول دو…”
(الاسراء: 29)

10. نئی نسل کو تربیت دینا
"اور اپنے گھر والوں کو نماز کا حکم دو، اور خود بھی اس پر قائم رہو۔”
(طہ: 132)
یہی اصول تربیت میں ماحولیاتی شعور کی بنیاد بن سکتا ہے۔ یہ محض فہرست نہیں، بلکہ ایک منشور ہے، جو ہر مسلمان کو نہ صرف اپنی زندگی میں اختیار کرنا چاہیے بلکہ دوسروں تک بھی پہنچانا چاہیے۔ غرضیکہ ماحولیاتی توازن کی بحالی، زمین کی بقاء، اور نسلِ نو کے لیے ایک پائیدار اور پاکیزہ ماحول کا قیام، دراصل وہی شعور ہے جسے قرآن نے بار بار "فساد فی الارض” کے خلاف خبردار کر کے اجاگر کیا ہے۔
اگر ہم اپنے معمولاتِ زندگی کو فطرت کے اصولوں کے تابع کر لیں، اور قرآن و سنت کو رہبر بنائیں، تو یہی رویہ ہمیں دنیا کی فلاح بھی دے گا اور آخرت کی نجات بھی۔ کیونکہ جو زمین کے حق ادا نہ کر سکے، وہ خالقِ زمین کے حق ادا کرنے میں کیسے کامیاب ہو سکتا ہے؟

Share This Article
کوئی تبصرہ نہیں ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Trending News

”سامعین کی توجہ اور فکری وزن کے بغیر تقریر بے اثر ہے“_سہیل مسعود

”سامعین کی توجہ اور فکری وزن کے بغیر تقریر بے اثر ہے“_سہیل…

Eastern

ٹریل بلیزر: فکر، ایمان و سائنس کا سنگم

ٹریل بلیزر: فکر، ایمان و سائنس کا سنگم از____ محمد توقیر رحمانی…

Eastern

ماہ ربیع الاول اور اسوۂ نبوی ﷺ کا تقاضا

ماہ ربیع الاول اور اسوۂ نبوی ﷺ کا تقاضا از____ محمد توقیر…

Eastern

انسان کی تخلیق محض وجود کیلئےنہیں ، خلافتِ ارضی کی عظیم ذمہ داری کیلئے ہے

انسان کی تخلیق محض وجود کیلئےنہیں ، خلافتِ ارضی کی عظیم ذمہ…

Eastern

نئے زمانے کے نئے بت

نئے زمانے کے نئے بت ازــــــ محمد توقیر رحمانی زمانے کی گردِش…

Eastern

زندیقیت کا سیلاب، الحاد کی فکری استعماریت کا مظہر اور اسلامی شعور کا کڑا امتحان ہے

زندیقیت کا سیلاب، الحاد کی فکری استعماریت کا مظہر اور اسلامی شعور…

Eastern

Quick LInks

ابوعبیدہ یعنی حذیفہ سمیر عبد اللہ الکحلوت

ابوعبیدہ یعنی حذیفہ سمیر عبد اللہ الکحلوت از: خورشید عالم داؤد قاسمی…

Eastern

”سامعین کی توجہ اور فکری وزن کے بغیر تقریر بے اثر ہے“_سہیل مسعود

”سامعین کی توجہ اور فکری وزن کے بغیر تقریر بے اثر ہے“_سہیل…

Eastern

نیشنل کمیشن فار ویمن سے مسلم ویمن کے ایک وفد نے ملاقات کرکے  اپنی شکایت  درج کرائی!

  نیشنل کمیشن فار ویمن سے مسلم ویمن کے ایک وفد نے…

Eastern