ای سی نیوز ڈیسک
محمد توقیر رحمانی
دارالعلوم دیوبند کے ممتاز فاضل، جامعہ ہمدرد یونیورسٹی کے شعبہ اسلامیات میں اسسٹنٹ پروفیسر اور تنظیم ابنائے قدیم دارالعلوم دیوبند، دہلی کی جانب سے شائع ہونے والا اُردو مجلہ ” ترجمان دارالعلوم ” کے مدیر، ڈاکٹر وارث مظہری نے 25 مئی بروز سنیچر مرکز المعارف، ممبئی کا دورہ کیا اور اساتذہ وذمہ داران سے ملاقات کے بعد طلبۂ مرکز المعارف کے درمیان ” فکر اسلامی کو درپیش تحدیات اور فضلاء مدارس کی ذمہ داریاں” کے عنوان پر طویل محاضرہ پیش کیا ۔ مرکز المعارف کے ڈائیریکٹر مولانا محمد برہان الدین قاسمی اور برانچ انچارج مولانا عتیق الرحمان قاسمی نے شال پوشی کے ذریعہ ان کا والہانہ استقبال کیا ۔

ڈاکٹر مظہری نے اپنی گفتگو کے دوران کہا کہ ماضی کے مقابلے میں موجودہ دنیا کا سماجی وسیاسی ڈھانچہ اور وہ نظام فکر جس کی بنیاد پر موجودہ دنیا کی تشکیل ہوئی ہے،اپنے اندر بہت زیادہ پیچیدگیاں رکھتا ہے، جس کی تفہیم بہت آسانی کے ساتھ ممکن نہیں ہے۔ ہمارے اسلاف نے اپنی عظیم جدوجہد کے ذریعے دین کی مستند اور متوارث فکر کو درست شکل میں ہم تک پہنچایا۔ اس کی اہمیت اس وقت زیادہ سمجھ میں آتی ہے جب ہم دیگر مذاہب جیسے عیسائیت، یہودیت اور ہندو ازم کی مذہبی فکری روایات پر نظر ڈالتے ہیں کہ انہوں نے کس طرح حالات کے سامنے گھٹنے ٹیک دیے۔ مثلا عیسائیت نے یونانی فلسفے کے دباؤ میں آکر خود کو یونانی فلسفے کے قالب میں ڈھال لیا اور اس طرح اپنی اصل فکر اور بنیادی شناخت کھو دی۔

ڈاکٹر صاحب نے اپنے خطاب میں یہ بھی کہا کہ آج کی جدید اسلامی نسل کے سامنے نئے چیلنجز ہیں۔ آج کےدور میں ہمیں اسلام کو جدید فکری وعقلی تناظر میں پیش کرنا ہے اور اس کی فکری اور عملی بنیادوں کو مضبوط کرنا ہے۔ ہمیں مغربی فکر کے اثرات کا سامنا کرتے ہوئے ایک طرف اسلامی فکر کا دفاع بھی کرنا ہے اور دوسری طرف اقدامی اور عملی سطح پر اسے آگے بھی بڑھانا ہے۔
طلبۂ مرکز المعارف کو مطالعہ کی ترغیب اور شوق دلاتے ہوئے ڈاکٹر وارث نے فرمایاکہ مدارس کی نئی نسل کے لئے ضروری ہے کہ وہ موجودہ عہد کے حوالے سے اپنے مطالعے کو آگے بڑھائیں۔ اس حوالے سے ہونے والی تحقیقات و مطالعات پر انکی نگاہ ہوں۔ یہ بات بھی قابلِ غور ہے کہ کچھ امور نئے ہو سکتے ہیں اور انہیں سمجھنے کے لئے زیادہ محنت درکار ہوگی۔ مختلف زبانوں میں مہارت بنیادی اہمیت رکھتی ہے۔ اس حوالے سے انگریزی کی بڑی اہمیت ہے لیکن خود عربی سے تغافل برت کر ہم اپنا مقصد حاصل نہیں کرسکتے۔ اس لیے اب ہمارے علماء اور خاص طورپر نوجوان فارغ التحصیل کو علمی و فکری صلاحیت میں گہرائی کے ساتھ مختلف زبانوں میں مہارت حاصل کرکے در پیش چیلنجز کا تدارک مضبوط حکمت عملی کے ساتھ کرنا ہوگا۔
سوال وجواب کے انداز میں مختصراً تبادلہ خیال کے بعد پروگرام کا اختتام ہوا جس میں طلباء کے سوالات پر ڈاکٹر مظہری نے مختلف کتابوں اور مصنفین کی رہنمائی بھی کی، جیسے اسلام اور نظرئیہ اعتدال، ویسٹرن اسکولر فرنارڈ لیوس کی کتابیں اور مفتی تقی عثمانی مدظلہ العالی کی کتابیں وغیرہ کو مطالعے میں رکھنے کی طلبہ کو ترغیب دی۔ ڈاکٹر صاحب مرکز المعارف کے نظام تعلیم سے بہت متاثر ہوئے اور مغرب کی نماز کے بعد ادارہ کی ترقی اور فلاح وبہبود کے لئے دعاؤں کے ساتھ مرکز کو الوداع کہا۔
