اسلام کا نظامِ زکوٰۃ
از: مفتی جسیم الدین قاسمی
کوآرڈینیٹرآن لائن دارالافتاء و استاذ مرکزالمعارف، ممبئی
(قسط اول)
زکواۃ ہر مالدار مسلمان پر فرض ہے۔ سچے مسلمان کے لئے زکواۃ کوئی بوجھ نہیں بلکہ یہ ایک اہم عبادت ہے۔ زکواۃ اسلام کے پانچ بنیادی ایک ارکان میں سے ایک رکن ہے۔ زکواۃ ادانہ کرنے والا شریعت کی نظر فاسق ہے اور زکواۃ کی فرضیت کا انکار کرنے والا کافر ہے اسی لئے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے زمانے میں جب کچھ مسلمانوں نے زکواۃ کا انکار کیا تو آپ نے ان کے خلاف جہاد کا حکم دیا۔
زکواۃ کے بے شمار دنیوی واخروی فوائد ہیں، مثال کے طور پر زکوٰۃ اداکرنا اللہ کے ساتھ کاروبار شروع کرنے جیسا ہے چنانچہ ارشاد باری ہے: اِنَّ الۡمُصَّدِّقِيۡنَ وَالۡمُصَّدِّقٰتِ وَاَقۡرَضُوا اللّٰهَ قَرۡضًا حَسَنًا يُّضٰعَفُ لَهُمۡ وَلَهُمۡ اَجۡرٌ كَرِيۡمٌ ۞ (سورۃ الحديد: 18)
ترجمہ: یقینا جو مرد و عورت خیرات کرنے والے ہیں اور قرض دیتے ہیں اللہ کو اچھی طرح ان کو دوگنا ملتا ہے اور ان کے لئے باعزت اجر ہے۔
زکوٰۃ اداکرنے سے ہمارے مال صاف ستھرے ہوجاتے چونکہ غریبوں کا حق اس مال سے نکل جاتا ہے جیساکہ ارشاد ربانی ہے: وَالَّذِيۡنَ فِىۡۤ اَمۡوَالِهِمۡ حَقٌّ مَّعۡلُوۡمٌ. لِّلسَّآئِلِ وَالۡمَحۡرُوۡمِ. (سورۃ المعارج: 24 ، 25)
ترجمہ: اور جن کے مال میں حصہ مقرر ہے۔ مانگنے والے اور نہ مانگے والے کا۔
اس آیت سے یہ بھی معلوم ہوا کہ زکواۃ غریبوں کا حق ہے، ہم زکواۃ اداکرکے ان پر کوئی احسان نہیں کرتے بلکہ ان کا حق ادا کرتے ہیں۔ اس کا یہ مطلب نہیں ہے زکواۃ لینا والا زکواۃ دینے والے کا شکریہ ادا نہ کرے بلکہ ان پر اخلاقا لازم ہے کہ زکواۃ دینے والوں کو بطور شکر دعا دے۔
زکوٰۃ کی ادائیگی سے مال کی محبت میں کمی آتی ہے اور اس کی وجہ سے انسان اپنے رب سے قریب ہوتا ہے ۔ زکوٰۃ اداکرنے سے ہمارے دل بخل کے زنگ سے پاک ہوجاتے ہیں اور مفلس وحاجتمند کی مدد کرکے ہم اخلاقی اعتبار سے مضبوط بنتے ہیں نیز ہماری دل کی دنیا سنورتی ہے ۔ زکوٰۃ اداکرنے سے ہمارے مال میں اضافہ ہوتا اور برکت کا نزول ہوتا ہے چنانچہ دنیا کی سب سے سچی کتاب قرآن حکیم میں ارشاد ہے: يَمۡحَقُ اللّٰهُ الرِّبٰوا وَيُرۡبِى الصَّدَقٰتِؕ وَاللّٰهُ لَا يُحِبُّ كُلَّ كَفَّارٍ اَثِيۡمٍ ۞ ( البقرة:276 )
ترجمہ: اللہ سود کو مٹاتا ہےاور خیرات کو بڑھاتا ہے اور اللہ خوش نہیں ہوتا کسی ناشکر ے گنہگار سے،”
ایک دوسری جگہ قرآن کریم میں ارشاد ہے: مَثَلُ الَّذِيۡنَ يُنۡفِقُوۡنَ اَمۡوَالَهُمۡ فِىۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِ كَمَثَلِ حَبَّةٍ اَنۡۢبَتَتۡ سَبۡعَ سَنَابِلَ فِىۡ كُلِّ سُنۡۢبُلَةٍ مِّائَةُ حَبَّةٍؕ وَاللّٰهُ يُضٰعِفُ لِمَنۡ يَّشَآءُ ؕ وَاللّٰهُ وَاسِعٌ عَلِيۡمٌ ۞ ( البقرة: 261)
ترجمہ: ان لوگوں کی مثال اللہ کے راستے میں اپنے مال خرچ کرتے ہیں ایسی ہے کہ جیسے ایک دانہ اس سے اگیں سات بالیں ہر بالی میں سو سو دانے اور اللہ بڑھاتا ہے جس کے واسطے چاہے اور اللہ بےنہایت بخشش کرنے والا ہے۔
زکواۃ جنت میں داخلے کا ذریعہ ہے چنانچہ حدیث پاک میں ارشاد ہے: أن رجلا قال: يا رسول الله، أخبرني بعمل يدخلني الجنة، ويباعدني من النار. فقال النبي ﷺ: تعبد الله، ولا تشرك به شيئا، وتقيم الصلاة، وتؤتي الزكاة، وتصل الرحم. (متفق عليه)
ترجمہ: ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور بولا کہ اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم مجھے کوئی ایسا عمل بتائیے جو مجھے جنت میں داخل کردے اور دوزخ سے دور کردے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ کی عبادت کرو، اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ، نماز قائم کرو، زکواۃ ادا کرو اور رشتہ داری کو قائم رکھو ۔
زکواۃ ادا کرنے کی وجہ سے انسان کی مصیبت، آسمانی آفات اور بری موت سے حفاظت ہوتی ہے۔ ( ترمذی)
زکوٰۃ ادا کرنے سے ہم آخرت میں سخت ذلت آمیز سزاؤں سے بچ جاتے ہیں، چنانچہ قرآن کریم میں ارشاد ہے: وَالَّذِيۡنَ يَكۡنِزُوۡنَ الذَّهَبَ وَالۡفِضَّةَ وَلَا يُنۡفِقُوۡنَهَا فِىۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِۙ فَبَشِّرۡهُمۡ بِعَذَابٍ اَلِيۡمٍۙ ۞ يَّومَ يُحۡمٰى عَلَيۡهَا فِىۡ نَارِ جَهَـنَّمَ فَتُكۡوٰى بِهَا جِبَاهُهُمۡ وَجُنُوۡبُهُمۡ وَظُهُوۡرُهُمۡؕ هٰذَا مَا كَنَزۡتُمۡ لِاَنۡفُسِكُمۡ فَذُوۡقُوۡا مَا كُنۡتُمۡ تَكۡنِزُوۡنَ ۞ (سورۃ التوبة، آیت 34-35)
ترجمہ: اور جو لوگ جمع کر کے رکھتے ہیں سونا اور چاندی اور اس کو اللہ کی راہ میں خرچ نہیں کرتے تو ان کو دردناک عذاب کی خوشخبری سنا دو۔ جس دن کہ دوزخ کی آگ دہکائی جائے گی اس مال پر، پھر داغے جائیں گے اس سے ان کے ماتھے اور کروٹیں اور پیٹھیں (کہا جائے گا) یہ ہے جو تم نے جمع کر کر کے رکھا تھا اپنے واسطے اب مزہ چکھو اپنے جمع کرنے کا۔
نیز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے زکوٰۃ نہ ادا کرنے والوں کے تعلق سے ارشاد فرمایا، بخاری شریف کی حدیث ہے: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "من آتاه الله مالاً فلم يؤد زكاته مثل له يوم القيامة شجاعاً أقرع، له زبيبتان يطوقه يوم القيامة، ثم يأخذ بلهزمتيه -يعني شدقيه- ثم يقول: أنا مالك أنا كنزك” ثم تلا النبي صلى الله عليه وسلم الآية: (وَلا يَحْسَبَنَّ الَّذِينَ يَبْخَلُونَ بِمَا آتَاهُمُ اللَّهُ مِنْ فَضْلِهِ هُوَ خَيْراً لَهُمْ بَلْ هُوَ شَرٌّ لَهُمْ سَيُطَوَّقُونَ مَا بَخِلُوا بِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَلِلَّهِ مِيرَاثُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَاللَّهُ بِمَا تَعْمَلُونَ خَبِيرٌ۔ [آل عمران:180]
ترجمہ: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ اللہ نے اگر کسی کو مال سے نوازا ہے اس کے باوجود زکواۃ ادا نہیں کرتا تو قیامت کے دن اس کے مال کو ایک گنجے سانپ کی شکل دے دی جائے گی جس کی آنکھوں پہ دو کالے نقطے ہوں گے وہ سانپ اس شخص سے لپٹ جائے گا اور اس کی دو نوں بانچھوں کو پکڑ کر کہے گا کہ میں تیرا مال ہوں، اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سورہ آل عمران کی مذکورہ آیت تلاوت کی جس کا ترجمہ ہے:
"اور جو لوگ اس (مال) میں بخل سے کام لیتے ہیں جو انہیں اللہ نے اپنے فضل سے عطا فرمایا ہے وہ ہرگز یہ نہ سمجھیں کہ یہ ان کے لیے کوئی اچھی بات ہے، اس کے برعکس یہ ان کے حق میں بہت بری بات ہے، جس مال میں انہوں نے بخل سے کام لیا ہوگا، قیامت کے دن وہ ان کے گلے کا طوق بنادیا جائے گا۔ اور سارے آسمان اور زمین کی میراث صرف اللہ ہی کے لیے ہے، اور جو عمل بھی تم کرتے ہو اللہ اس سے پوری طرح باخبر ہے۔”
ہمیں اس پہلو پہ بھی غور کرنا چاہئے کہ جب ہم کھاتے پیتے ہیں یا مال جمع کرتے ہیں تو ہماری بھوک مٹتی ہے، پیاس بجھتی ہے، ہمیں سیرابی حاصل ہوتی ہے اور ظاہری خوشی ملتی ہے لیکن جب ہم زکواۃ ادا کرتے ہیں اور غریبوں کی مدد کرتے ہیں تو ہماری اندر کی دنیا کو خوشی ملتی ہے اور دل کو اطمینان حاصل ہوتا ہے ۔
یہ عارضی دنیا در اصل ہمارے لئے امتحان گاہ ہے۔ ہماری آزمائش و امتحان کے لیے اس دنیا میں اللہ نے ہمیں مال و دولت عطا کیا اور دنیا کی آرائش و زینت سے نوازا ہے، امتحان یہ ہے کہ آیا ان نعمتوں میں گم ہوکر ہم رہ جاتے ہیں یا پھر ان نعمتوں کو رب العالمین کی مرضی کے مطابق استعمال کرکے اس کا شکر گزار بنتے ہیں۔ اسی لئے قرآن کریم نے مال و دولت کو آزمائش سے تعبیر کیا ہے چنانچہ ارشاد باری ہے: اِنَّمَاۤ اَمۡوَالُـكُمۡ وَاَوۡلَادُكُمۡ فِتۡنَةٌ ؕ وَاللّٰهُ عِنۡدَهٗۤاَجۡرٌ عَظِيۡمٌ ۞
ترجمہ: یقینا تمہارے مال اور تمہاری اولاد جانچنے کو ہیں اور اللہ کے پاس بڑا ثواب ہے۔ (سورہ تغابن : 14)
اللہ تبارک و تعالی نے ہمیں مال عطا کرکے یہ کہا ہے کہ ہم صرف ساڑھے 97 فیصد کے مالک ہیں باقی ڈھائی فیصد غریب و محتاج لوگوں کا حق ہے، تو اگر ہم زکواۃ ادا نہیں کررہے ہیں تو اس کا مطلب یہ ہے کہ غریبوں کا حق مارکر کھارہے ہیں۔ اسلام میں زکواۃ کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے بھی لگا یا جا سکتا ہے کہ اللہ تبارک تعالی نے قرآن کریم کے اندر 32 دفعہ زکواۃ لفظ کا استعمال کیا ہے اور تقریبا 15 مقامات پر صدقہ لفظ کا استعمال کیا ہے جس میں زکواۃ بھی شامل ہے۔
زکوٰۃ فرض ہونے کے شرائط
زکواۃ ہر عاقل، بالغ، مالدار مسلمان پر فرض ہے۔ مالدار کا مطلب ہے ایسا شخص جس کے پاس زکوٰۃ کے نصاب کے بقدر مال ہو، زکوٰۃ کا نصاب ساڑھے باون تولہ (612 گرام، 360 ملی گرام) چاندی یا ساڑھے سات تولہ (87 گرام، 480 ملی گرام) سونا ہے یا چاندی کے نصاب کے بقدر پیسے یا مال تجارت۔
مالِ زکوٰۃ سے متعلق شرائط
زکوٰۃ ہر مال پر فرض نہیں ہے بلکہ جو مال ذیل کی شرائط کے مطابق ہو اسی پر زکوٰۃ فرض ہے۔
- زکوٰۃ واجب ہونے کے لئے ضروری ہے کہ آدمی مال کا مکمل طور پر مالک ہو اس لئے اگر کسی نے کسی سے قرض لیا ہو تو اس کی زکوٰۃ قرض دار پر نہیں ہے اس لئے کہ قرض کی رقم کا یہ شخص مالک نہیں ہے۔ اسی طرح رہن رکھے ہوئے مال پر زکوٰۃ نہیں ہے۔ ایسے ہی اگر عورت کو مہر کی رقم ابھی تک نہیں ملی ہے تو اس پر زکوٰۃ نہیں ہے۔ لیکن اگر کسی نے اپنے مال کو محفوظ کر رکھا ہے بینک میں یا کسی شخص کے پاس امانت کے طور پر رکھ کر تو ان اموال پر زکوٰۃ فرض ہے، اسی طرح اگر کسی نے کسی کو قرض دیا ہے اور اس قرض کے ملنے کی امید ہے تو مالک یعنی قرض دینے والے شخص پر اس مال کی زکوٰۃ لازم ہے۔ اس لئے کہ ان صورتوں میں مکمل ملکیت حاصل ہے ۔
- زکوٰۃ کا نصاب بنیادی ضرورت کے سامان کے علاوہ ہونا چاہئے، بنیادی ضرورت کے سامان جیسے گھر، گھر کے سامان، کپڑے، استعمال کی گاڑی، روز مرہ استعمال کے سامان وغیرہ ۔
- زکوٰۃ صرف مالِ نامی پر فرض ہے یعنی ایسے مال پر جن میں بڑھنے کی صلاحیت ہو خواہ ظاہری اعتبار سے جیسے بکری، اونٹ، بیل، بھینس وغیرہ کہ ان میں بچے کی پیدائش کے ذریعہ اضافہ ہوتا ہے یا تجارت کے ذریعے اس میں اضافہ ہوسکتا ہو جیسے سونے، چاندی، پیسے اور مال تجارت۔
- نصابِ زکوٰۃ پر ایک سال گزرنے کے بعد زکوٰۃ فرض ہوتی ہے۔ جیسا کہ ایک روایت میں ہے کہ: عن ابْنِ عُمَرَ ـرضياللهعنهـقَالَ: قَالَرَسُولُاللَّهِصَلَّىاللَّهُعَلَيْهِوَسَلَّمَ: مَنْاسْتَفَادَمَالًافَلَازَكَاةَعَلَيْهِ،حَتَّىيَحُولَعَلَيْهِالحَوْلُعِنْدَرَبِّهِ. (الترمذي)
ترجمہ:حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہےکہ انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر کسی کو مال حاصل ہوتو اس مال پر زکوٰۃ اس وقت تک نہیں ہے جب تک کہ ایک سال نہ گزرجائے۔
لیکن یہ بات ذہن میں رہے کہ سال گزرنے کا یہ مطلب نہیں ہے ہے کہ ہر ہر مال پر سال گزرے بلکہ سال گزرنے کا یہ مطلب ہے کہ نصاب پر سال گزرے یعنی ایک شخص غریب تھا پھر اس کو اتنا مال حاصل ہوگیا کہ وہ صاحب نصاب ہوگیا تو ابھی اس پر زکوۃ فرض نہیں ہے بلکہ ایک سال گزرنے کے بعد اسی تاریخ میں اگر وہ صاحب نصاب رہتا ہے تو اب اس پر زکوۃ فرض ہوگی۔
مثال کے طور پر ایک شخص غریب تھا پھر پانچ رمضان کو اس کے پاس 50 ہزار روپے آگیے تو وہ پانچ رمضان کو صاحب نصاب ہوگیا پھر چھ مہینے بعد اس نے اور 50 ہزار روپے کماۓتواسطرح وہ شخص ایک لاکھ روپےکامالک ہوااوریہ ایک لاکھ روپےاسکےپاس آئندہ سال پانچ رمضان تک باقی رہے تو اب وہ پورے ایک لاکھ پہ ڈھائی ہزار روپے زکوۃ نکالے گا حالانکہ بعد والے پچاس ہزار پہ صرف چھ مہینے گزرے ہیں، اس لئے کہ نصاب پر سال گزر چکا ہے۔
درمیان سال میں مال کی کمی بیشی سے کچھ فرق نہیں پڑے گا لہذا اگر کسی شخص کے پاس پانچ رمضان کو پچاس ہزار روپے آۓپھرتین مہینےبعدچالیس ہزارختم ہوگۓلیکن پھرچالیس ہزارچھ مہینےبعدکمالئےاوراگلےسال پانچ رمضان کواسکےپاس پچاس ہزارروپے ہیں تواسکوپورےپچاس ہزارپرزکوۃاداکرناہوگا۔اسی طرح اگرکسی کےپاس پچاس ہزارروپےپانچ رمضان کوآۓلیکن پھر کچھ رقم خرچ ہوگئی اور آئندہ سال پانچ رمضان کو صرف چالیس ہزار بچے تو صرف چالیس ہزار پہ زکوۃ کی ادائیگی لازم ہوگی، خلاصہ یہ کہ جس دن آدمی صاحب بنا ہے آئندہ سال اسی تاریخ میں اس کی کیا حالت اس اعتبار سے زکوۃ کاحکم ہوگا، بیچ سال کی کمی بیشی کا کوئی اعتبار نہیں۔
سونا اور چاندی پر ہمیشہ زکوٰۃ ہوتی ہے چاہے وہ زیورات کی شکل میں ہو یا سکے، بسکٹ یا ڈلے کی شکل میں۔اگر کسی کے پاس تھوڑا سونا ہے اور تھوڑی چاندی ہے تو زکوٰۃ کی ادائیگی میں چاندی کے نصاب کو معیار بنایا جائے گا لہذا اگر دونوں کی قیمت ملاکر ساڑھے باون تولہ چاندی کی قیمت کے برابر ہوجاتی ہے تو اس پر زکوٰۃ فرض ہے۔ اسی طرح اگر کسی کے پاس تھوڑے پیسے اور تھوڑا سونا یا چاندی ہے تو بھی چاندی کے نصاب کو ہی معیار بنایا جائے گا مثال کے طور پر کسی کے پاس ایک تولہ سونا ہے اور دس ہزار روپے ہیں تو اس کو زکوٰۃ ادا کرنا ہوگا اس لیے کہ ایک تولہ سونے کی قیمت اور دس ہزار روپے ملاکر چاندی کے نصاب کے برابر ہوجائے گا۔ خلاصہ یہ کہ اگر کسی کے پاس صرف سونا ہو تو ساڑھے سات تولے سونے کو زکوٰۃ کا نصاب مانا جائے گا لیکن اگر کسی کے پاس سونے کےعلاوہ قابل زکوٰۃ مال ہے یا قابلِ زکوٰۃ اموال ایک سے زائد ہیں تو پھر چاندی کے نصاب ہی کو معیار بنائے جائے گا ۔
- سامان اور زمین اس وقت قابلِ زکوٰۃ ہوتے ہیں جبکہ یہ تجارت کے لیے ہوں۔ لہذا اگر کسی کے پاس موروثی زمین ہے یا وہ زمین خریدتا ہے اپنے ذاتی استعمال کے لئے تو اس پر زکوٰۃ نہیں ہوگی پھر اگر خریدنے کے بعد اس کی نیت بدل جاتی ہے تو بھی اس پر زکوٰۃ نہیں ہے جب تک کہ اس کو بیچ نہ دے، بیچنے کے بعد جو قیمت ملے گی اس پیسے پہ زکوٰۃ ہوگی۔
اس کے بر عکس اگر کوئی شخص کوئی زمین بیچنے کی نیت سے خریدتا ہے تو اس پر زکوٰۃ ہوگی لیکن اگر خریدنے کے بعد اس کی نیت بدل گئی اور اس نے اس زمین کو اپنے استعمال کے لئے رکھنے کا فیصلہ کرلیا تو اب اس پر زکوٰۃ نہیں ہوگی اس کی نیت بدل جانے کی وجہ سے۔
زکوٰۃ کے مستحقین
قرآن کریم نے آٹھ مصارفِ زکوٰۃ کا ذکر کیا ہے، چنانچہ ارشاد باری ہے:
ترجمہ: صدقات تو دراصل حق ہے فقیروں کا، مسکینوں کا اور ان اہلکاروں کا جو صدقات کی وصولی پر مقرر ہوتے ہیں۔ اور ان کا جن کی دلداری مقصود ہے۔ نیز غلاموں کو آزاد کرنے میں اور قرض داروں کے قرضے ادا کرنے میں اور اللہ کے راستے میں اور مسافروں کی مدد میں خرچ کیا جائے۔ یہ ایک فریضہ ہے اللہ کی طرف سے اور اللہ علم کا بھی مالک ہے، حکمت کا بھی مالک۔ (سورۃ التوبة، آیت 60)
اس آیات میں آٹھ ایسے لوگوں کا ذکر ہے جن کو زکواۃ دی جاسکتی ہے۔
1۔ فقراء سے مراد وہ لوگ ہیں جو مالی اعتبار سے بہت کمزور ہوں اور اتنے غریب ہوں کہ ان کے پاس بنیادی ضرورت سے زیادہ اتنا مال نہ ہو جو زکوۃ کے نصاب کو پہنچ جائے۔
2۔ مسکین سے مراد وہ لوگ ہیں جن کے پاس بنیادی ضرورت کے بقدر بھی مال نہ ہو۔
3۔ عاملین سے مراد وہ لوگ ہیں جن کو اسلامی حکومت زکوۃ اصول کرنے کے لئے مقرر کرتی ہے، تو ان کو زکوۃ کے مال سے تنخواہ دینا جائز ہے ۔
4۔مولفۃ القلوب یعنی نو مسلموں کو زکوٰۃ دینا مثال کے طور پر کچھ لوگوں نے اسلام تو قبول کرلیا ہو لیکن اسلام قبول کرنے کے بعد ان پر مشکل حالات آگیے ہوں تو زکوٰۃ سے ان کی مدد کی جائے گی تاکہ ان کے لئے دین پر جمنا آسان ہوجائے ۔
مولفۃ القلوب کے تحت بعض غیر حنفی علماء نے ایسے با اثر غیر مسلموں کو زکوٰۃ دینے کی اجازت دی ہے کہ جن کو زکوٰۃ دینے کی وجہ مسلمان غیر مسلموں کے شر سے محفوظ رہیں گے، یا ایسے غیر مسلموں کی مالی مدد کی گنجائش دی ہے کہ جو مسلمانوں کے احسان سے متاثر ہوکر اسلام کی طرف راغب ہوں۔
5۔ غلاموں کو آزاد کرانا، جس زمانے میں غلامی کا رواج تھا اس دور میں بعض غلاموں کے آقا ان سے یہ کہہ دیتے تھے کہ اگر تم اتنی رقم لا کر ہمیں دے دو تو تم آزاد ہو۔ ایسے غلاموں کو بھی آزادی حاصل کرنے کے لیے زکوٰۃ کا مال دیا جاسکتا تھا۔ اسی طرح غلاموں کوخرید کر آزاد کرنے میں بھی زکوۃ کی رقم استعمال کی سکتی تھی۔ اسلام کے اسی طرح کے احکام کی بدولت دنیا سے غلامی کا دور ختم ہوگیا اور انسان کی خرید و فروخت کا ذلت آمیز رواج کا خاتمہ ہوا۔ آج کل بہت سے مسلمان جھوٹے مقدمات میں یا معمولی جرم میں جیلوں میں ڈال دیے جاتے ہیں ان میں سے جو محتاج و ضرورت مند لوگوں ہوں ان کو چھڑانے میں بھی زکوٰۃ کی رقم استعمال کرنا چاہیے کہ کہ بھی گردن آزاد کرانے کے مثل ہے۔ لیکن اگر کوئی سنگین جرم میں گرفتار ہو تو ایسے مجرموں کو چھڑا نے کی کوشش نہیں کرنی چاہیے چونکہ ایسا کرنا مظلوم کے ساتھ ناانصافی کرنا ہے۔
6۔ غارمین کو زکوۃ دی جاسکتی ہے اس سے مراد وہ مقروض لوگ ہیں جن پر اتنا قرضہ ہو کہ ان کے اثاثے قرضے کی ادائیگی کے لیے کافی نہ ہوں، یا اگر وہ اپنے سارے اثاثے قرض میں دے دیں تو ان کے پاس نصاب، یعنی ساڑھے باون تولہ چاندی کے برابر مال باقی نہ رہے۔
7۔ اللہ کے راستے میں زکوۃ دی جاسکتی ہے۔ اللہ کے راستے، کا لفظ قرآن کریم میں اکثر جہاد کے لیے استعمال ہوا ہے لہذا اس سے مراد وہ شخص ہے جو جہاد پر جانا چاہتا ہو۔ لیکن اس کے پاس سواری وغیرہ نہ ہو۔ بعض دوسرے حاجت مند لوگوں کو بھی فقہاء نے اس حکم میں شامل کیا ہے۔ مثلاً جس شخص پر حج فرض ہوچکا ہو۔ لیکن اب اس کے پاس اتنے پیسے نہ رہے ہوں کہ وہ حج کرسکے۔
8۔ مسافر کو زکوۃ دی جاسکتی ہے، اس سے مراد وہ شخص ہے جس کے پاس چاہے اپنے وطن میں نصاب کے برابر مال موجود ہو، لیکن سفر میں اس کے پاس اتنے پیسے نہ رہے ہوں جن سے وہ اپنی سفر کی ضروریات پوری کر کے واپس وطن جاسکے۔
واضح رہے کہ زکوٰۃ کے یہ آٹھ مصارف جو یہاں قرآن کریم نے ذکر کیے ہیں ان کی بہت مختصر تشریح اوپر کی گئی ہے۔ زکوۃ اداکرتے وقت کسی عالم سے سمجھ کر زکوٰۃ نکالنی چاہیے۔
(جاری)