اسلام کا نظامِ زکوٰۃ
از:مفتی جسیم الدین قاسمی
کوآرڈینیٹرآن لائن دارالافتاء و استاذ مرکزالمعارف، ممبئی
(قسط دوم)
زکوٰۃ کےکچھ اہم مسائل
اللہ تبارک و تعالی نے قرآن میں فرمایا "آتوالزکوۃ” زکوۃ اداکرو یعنی جو مستحق ان کو دیکر مالک بنادو نیز قرآن نے جہاں مستحقین زکوٰة کا ذکر کیا ہے وہاں بھی للفقراء۔۔۔آیا ہے اور ‘لام’ تملیک یعنی مالک بنانے کے معنی میں عربی میں استعمال ہوتا ہے۔ اس لئے زکوٰۃ میں یہ ضروری ہے کہ مستحق کو مال مالک بناکر دیں یا پھر اس مال سے کوئی سامان یا کھانا خرید کر یا بناکر دیا جائے۔
پچھلے سالوں کی زکوۃ کی ادائیگی میں ادائیگی کے وقت کی قیمت کا اعتبار ہوگا ۔
زکوۃ کی ادائیگی قمری تاریخ کے اعتبار سے کی جائے گی۔
قیمتی پتھر جیسے ہیرے، موتی، جواہرات وغیرہ اور ایسے ہی زمین پر زکوۃ نہیں ہے اگر یہ سب تجارت کے لئے نہیں ہیں لیکن اگر یہ تجارت کے لئے ہیں یعنی بیچنے کے لئے خریدے گئے ہیں تو ان پر بھی زکوۃ ہوگی۔
زکوۃ ادا کرتے وقت یا زکوٰۃ میں دیے جانے والے مال کو جدا کرتے وقت نیت کا ہونا بھی ضروری ہے لہذا اگر کسی کو مال دیتے وقت تو زکوٰۃ کی نیت نہیں کی لیکن دینے کے بعد نیت کی تو زکوٰۃ ادا نہیں ہوگی، ہاں اگر دینے کے بعد لینے والے کے خرچ کرنے سے پہلے پہلے زکوۃ کی نیت کرلی تو زکوٰۃ ادا ہوجائے گی۔ لہذا اگر کسی نے مستحقِ زکوٰۃ کو قرض دیا پھر جب وہ قرض واپس نہیں کر پارہا ہے تو قرض دینے والا اگر چاہے کہ زکوۃ کے طور وہ مال چھوڑدے تو ایسا کرنے سے زکوۃ ادا نہ ہوگی اس لئے کہ قرض دیتے وقت زکوٰۃ کی نیت نہیں تھی۔ البتہ اس مسئلے کا حل یہ ہے کہ جتنا قرض دے رکھا ہے اتنی رقم زکوۃ کے طور پر اس قرضدار کو دیدے اور پھر اپنا قرض اس سے وصول کرلے، یا قرضدار کو کہے کہ وہ کسی سے قرض لیکر اس کے قرض کی ادائیگی کردے اور پھر بطور زکوۃ وہ رقم اس کو واپس دے دی جائے تاکہ وہ اپنا قرض چکا لے۔
زکوۃ ہر سال فرض ہے اور یہ کبھی معاف نہیں ہوتی۔ لہذا اگر کسی نے پچھلے سال کی زکوۃ ادا نہیں کی ہے تو اس کو پچھلے سال کی زکوۃ بھی ادا کرنا ہوگا۔ پچھلے سالوں کی زکوۃ ادا کرتے وقت جو پہلے سال کی زکوۃ ہے اس کو کم کرکے اگلے سال کی زکوۃ ادا کی جائے گی، مثال کے طور پر ایک شخص کے پاس دولاکھ کے زیورات ہیں جن پر پچھلے پانچ سال سے زکوۃ ادا نہیں کی ہے تو اس کو حساب اس طرح کرنا ہوگا کہ سب سے پہلے سال کی زکوۃ دو لاکھ سے 5 ہزار روپے نکال دے، پھر اس کے بعد والے سال کی زکوۃ صرف ایک لاکھ پنچانویں ہزار پر ڈھائی فیصد نکا لے یعنی 4875 روپے پھر تیسرے سال کی زکوۃ نکالتے وقت 9 ہزار 875 کو منہا کرنے کے بعد حساب کرے ۔
قرض کی رقم منہا کرنے کے بعد زکوۃ کی ادائیگی ہوگی۔ پھر قرض دو طرح کے ہوتے ہیں ایک وہ قرض جو انسان اپنی ضروریات کو پوری کرنے کے لئے لیتا ہے جیسے گھریلو ضرورت کے لیے، گاڑی خریدنے کے لئے یا گھر خریدنے کے لئے تو یہ قرض منہا کرنے کے بعد زکوۃ کی ادائیگی ہوگی لیکن ایک تجارتی قرض ہے جو بڑے بڑے سرمایہ دار لوگ لیتے ہیں مثال کے طور کسی کے پاس ایک فیکٹری ہے لیکن وہ دوسری فیکٹری بنانا چاہتا ہے اس لیے وہ لاکھوں روپے قرض لیتا ہے تو قرض منہا نہیں ہوگا اگر اس قرض کی رقم کو ایسی جگہ لگایا گیا ہے جس پہ زکوۃ نہیں ہوتی مثال کے طور پر بلڈنگ بنانے میں یا زمین خریدنے میں، اور اگر وہ قرض کی رقم ایسی چیز میں لگائی ہے جس پہ زکوۃ ہوتی ہے مثال کے طور پر فیکٹری میں میٹیریل خریدنے میں یا کوئی بھی تجارت کا مال خریدنے میں تو پھر اس قرض کی رقم کو منہا کرنے کے بعد زکوۃ ادا کی جائے گی۔
شیئر اور بانڈ پر زکوۃ
شیئر پر زکوۃ اداکرنا فرض ہے لیکن اس میں کچھ تفصیلات ہیں۔ شیئر پر زکوۃ کا دارومدار اس بات پر ہے کہ کسی کمپنی ہے شیئر خریدنے کا مقصد کیا ہے آیا اس کمپنی میں حصہ دار بننا ہے یا محض شیئر خرید کر اس قیمت بڑھنے پر بیچ کر منافع کمانا ہے۔
اگر شیئر خریدنے کا مقصد صرف یہ ہے کہ شیئر کو بیچ کر نفع کمانا ہے تو اس شیئر کی موجودہ قیمت پر زکوۃ فرض ہوگی مثال کے طور کسی نے ایک ہزار روپے کی ایک شیئر بیچ کر نفع کمانے کی نیت سے خریدی تو یہ مالِ تجارت ہے لہذا اس کی بازاری قیمت زکوۃ ادا کرتے وقت دو ہزار ہوجاتی ہے تو دوہزار پر زکوۃ نکالنا ہوگا۔
اور اگر شیئر خریدنے کا مقصد ڈیویڈنڈ حاصل کرنا ہے یعنی اس کمپنی میں حصہ دار بننا ہے تو پھر زکوۃ شیئر کے صرف اتنے فیصد پر زکوۃ ہوگی جتنا فیصد مال کمپنی میں قابلِ زکوۃ ہے یعنی مال نامی ہے مثال کے طور اگر کسی نے 50 ہزار کے شئر خریدے اور اس کمپنی کے 10 فیصد مال ناقابل زکوۃ ہے مثال کے طور پر فیکٹری کی زمین ہے، آفس کی بلڈنگ ہے یا مشینیں ہیں تو زکوۃ صرف نوے فیصد یعنی یعنی 45 ہزار پر ہوگی۔
بانڈ اور سرٹیفکیٹ پر بھی زکوٰۃ ہے۔
انشورنش پر زکوٰۃ اتنی رقم پر ہو گی جتنی رقم پالیسی لینے والے نے جمع کی ہے۔
ایک مسئلہ ہے یہ کہ زکوٰۃ ادا کرنے والا اگر دوسرے ملک میں ہے اور ہندستان میں زکوٰۃ ادا کررہا ہے تو کس قیمت کے اعتبار سے زکوٰۃ ادا کرے، نیزسامان جہاں پر اس جگہ کی قیمت کا اعتبار ہوگا۔
سامانِ تجارت کی زکاۃ اس سامان کی قیمتِ فروخت کے حساب سے واجب ہوگی، یعنی اس سامان کی موجودہ بازاری قیمت (مارکیٹ ریٹ) پر واجب ہوگی۔ مارکیٹ ریٹ سے مراد اس سامان کی متوسط قیمت ہے۔ جو مال جس دام پر فروخت کردیا جائے اور وہ رقم محفوظ ہو تو زکاۃ کا سال مکمل ہونے پر دیگر قابلِ زکاۃ اموال کے ساتھ ملاکر زکاۃ ادا کی جائے گی، اور جو مال فروخت نہ ہوا ہو اس کی قیمت اسی بازار میں رائج قیمت کو دیکھ کر لگائی جائے گی۔
” وتعتبر القيمة يوم الوجوب، وقالا: يوم الأداء. وفي السوائم يوم الأداء إجماعاً، وهو الأصح، ويقوم في البلد الذي المال فيه، ولو في مفازة ففي أقرب الأمصار إليه، فتح”.
الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (2/ 286)
کیا سونے چاندی کے جو زیورات استعمال کے لیے بنائے گیے ہیں اس پر زکوۃ ہے؟
سونے اور چاندی جس شکل میں بھی ہو اس پر زکوۃ فرض ہے، اس لئے کہ قرآن کریم اور احادیث شریفہ کے اندر سونے چاندی پر زکوۃ کا حکم عام ہے ان فرق نہیں کیا گیا ہے کہ استعمال کے زیورات پر زکوۃ نہیں ہے اور چاندی و سونے کے ڈلے پر زکوۃ ہے۔ چنانچہ سورہ توبہ آیت نمبر 35 میں اسی طرح حدیث شریف میں ہے مسلم شریف کی روایت میں بھی سونے چاندی کی زکوٰۃ نہ نکالنے والوں پر وعید آئی ہے لہذا سونے چاندی پر ہر حال میں زکوٰۃ فرض ہے، کئی روایتوں میں اس کی وضاحت بھی ملتی ہے چنانچہ
حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک عورت نبی اکرمﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئی۔ اس کے ساتھ اس کی بیٹی تھی جو دو سونے کے بھاری کنگن پہنے ہوئے تھی۔ نبی اکرمﷺ نے اس عورت سے کہا کہ کیا تم اس کی زکوٰۃ ادا کرتی ہو؟ اس عورت نے کہا: نہیں۔ تو نبی اکرمﷺ نے فرمایا : کیا تم چاہتی ہو کہ اللہ تعالیٰ ان کی وجہ سے کل قیامت کے دن آگ کے کنگن تمہیں پہنائے۔ تو اس عورت نے وہ دونوں کنگن اتارکر نبی اکرمﷺ کی خدمت میں اللہ کے راستے میں خرچ کرنے کے لئے پیش کردئے۔ (ابو داود، )
پروایڈنٹ فنڈ پر زکات کا کیا حکم ہے؟
پروایڈنٹ فنڈ کی مد میں دورانِ ملازمت جو رقم جمع ہوتی ہے وہ دینِ ضعیف ہے، اس پر زکات لازم نہیں ہوتی، مذکورہ فنڈ کی مد میں سائل کی جو تنخواہ کی رقم جمع ہے اس پر زکات اس وقت واجب ہوگی ہے جب وہ وصول ہوجائے، اور وصول ہونے کے بعد یہ تفصیل ہے کہ اگر سائل پہلے سے صاحبِ نصاب ہے تو اپنے نصاب پر سال مکمل ہونے کے وقت ان رقوم سے بھی زکات نکالنا لازم ہوگا چاہے رقم وصول ہونے کے بعد سال مکمل نہ بھی ہوا ہو، اور اگر سائل پہلے سے صاحبِ نصاب نہیں، مذکورہ فنڈ کی رقم ملنے کے بعد نصاب کا مالک ہوا ہے تو اس رقم پر وصول کرنے کے بعد ایک سال مکمل گزرنے کے بعد ڈھائی فیصد زکات ادا کرنا لازم ہوگا، اور جب تک وہ رقم گورنمنٹ کے کھاتے میں جمع رہے گی اور سائل کو نہیں ملے گی تب تک سائل پر اس کی زکات ادا کرنا واجب نہیں ہوگا، اور نہ ہی وصول ہونے کے بعد گزشتہ سالوں کی زکات ادا کرنا لازم ہوگا۔
"وأما سائر الديون المقر بها فهي على ثلاث مراتب عند أبي حنيفة – رحمه الله تعالى -: ضعيف، وهو كل دين ملكه بغير فعله لا بدلاً عن شيء نحو الميراث، أو بفعله لا بدلاً عن شيء كالوصية، أو بفعله بدلاً عما ليس بمال كالمهر وبدل الخلع والصلح عن دم العمد والدية، وبدل الكتابة لا زكاة فيه عنده حتى يقبض نصابًا ويحول عليه الحول”. (1/ 175،کتاب الزکاة )
کسی غریب کو ضرورت کے بغیر اتنی رقم دینا کہ وہ خود صاحبِ نصاب بن جائے مکروہ ہے، البتہ زکاۃ ادا ہوجائے گی، اور اگر کسی مستحق کو ضرورت کی وجہ سے نصاب کے برابر یا اس سے زیادہ رقم دی جائےتو مکروہ نہیں ہوگا، بلاکراہت زکاۃ ادا ہوجائے گی جیسے مقروض، یابیمار شخص وغیرہ کو اگر نصاب سے زیادہ رقم کی ضرورت ہے تو دی جاسکتی ہے۔
"(وكره إعطاء فقير نصاباً) أو أكثر (إلا إذا كان) المدفوع إليه (مديوناً أو) كان (صاحب عيال) بحيث (لو فرقه عليهم لايخص كلا) أو لايفضل بعد دينه (نصاب) فلايكره، فتح”. (رد المحتار: 2/ 353)
(جاری)
قسط اول کیلئے کلک کریں ـ اسلام کا نظامِ زکوٰۃ