!یکساں سول کوڈ کا مسئلہ صرف مسلمانوں کا نہیں ہے

Eastern
8 Min Read
4 Views
8 Min Read

یکساں سول کوڈ کا مسئلہ صرف مسلمانوں کا نہیں ہے

ضرورت ہے کہ نفرت کے ماحول کو ختم کرنے کے لیے محبت اور آپسی میل محبت کو بڑھایا جائے ، اچھے اور سیکولر برادران وطن کے ساتھ رابطہ کو مضبوط کیا جائے ، ہر گاوں اور محلہ میں میٹینگ کی جائے۔

ڈاکٹر ابو الکلام قاسمی

مضمون نگار بہار اسٹیٹ مومن کانفرنس اور آل انڈیا ملی کونسل، بہار کے نائب صدر، مجلسِ شوریٰ امارت شرعیہ، پٹنہ کے رکن اور مدرسہ اسلامیہ شمس الہدیٰ،پٹنہ کے سابق پرنسپل ہیں۔

ہندوستان بڑا ملک ہے ، اس کی ابادی بڑی ہے ، اس میں مختلف مذاہب اور  مختلف زبان بولنے والے رہتے بستے ہیں ، ہندوستان کے آئین میں ہر شہری کے حقوق اور ان کے تحفظ  کا  ذکر موجود ہے.          ہندوستان میں بڑی تعداد میں اقلیتی طبقہ کے  لوگ بستے ہیں ، مسلم ،سکھ، عیسائی  ،بودھ  ،جین وغیرہ اقلیتی طبقہ سے تعلق رکھتے ہیں ، اقلیتی طبقات کے مذاہب الگ ہیں ،ان کے رسم و رواج الگ ہیں ، ملک کے آئین نے ہر طبقہ کو مذہبی اور ثقافتی آزادی دی ہے ، کوئی ان کے حقوق کو چھین نہیں سکتا ہے ، اگر کوئی ان کے حقوق کو سلب  کرنے کی کوشش کرے گا تو اس کے خلاف آواز بلند کرنے اور قانونی چارہ جوئی کا حق حاصل ہے۔

     موجودہ وقت میں ملک میں کچھ غلط عناصر اور پارٹیوں نے سیاسی فائدہ حاصل کرنے کے لیے ملک میں اقلیت اور اکثریت کے درمیان نفرت کا ماحول پیدا کردیا ہے ، ایسے عناصر  اکثریت کو بنیاد بنا کر اقلیتوں کو اپنے حقوق  سے محروم کردیا چاہتے ہیں ، یہ ہندوستان کے آئین کے خلاف ہے۔

         جب جب الیکشن کا وقت آتا ہے تو ملک کی فرقہ پرست پارٹی  اقلیت کے خلاف زہر اگلنے لگتی ہے ، کچھ غلط عناصر بالخصوص مسلم اقلیت کے لوگوں پر ظلم ڈھانے لگتے ہیں ، جس سے باہمی عداوت اور دشمنی کا ماحول بنتا ہے ، جبکہ حکومت پابند ہے کہ آئین کی حکومت قائم کرے اور  اقلیتوں  کے حقوق کی حفاظت کرے۔

         موجودہ وقت میں پھر بعض اسٹیٹ کی حکومت نے  یکساں سول کوڈ  کو اپنے صوبہ میں نافذ کرنے کا اعلان کردیا ہے ، یہی نہیں مرکزی حکومت کی طرف سے بھی اکثر یہ شوشہ چھوڑا جاتا ہے کہ ملک میں یکساں سول کوڈ نافذ کیا جائے گا ، جبکہ یہ بھارت کے آئین کے خلاف ہے۔

      جہانتک پورے ملک میں یکساں سول کوڈ نافذ کرنے کی بات ھے ،تو قانون کے ماہرین کے تجزیہ کے مطابق اس کے لئے  آئین میں ترمیم کی ضرورت ہوگی ، اور موجودہ وقت میں  حکومت اس پوزیشن میں نہیں ہے ، نیز اس کا تعلق بنیادی حقوق سے ہے ، بنیادی حقوق سلب کرنے کا اختیار کسی حکومت کو نہیں ہے، ویسے بھی ملک میں مختلف مذہبی طبقات ہیں ، ان کے الگ الگ رسوم و رواج ہیں ، کوئی طبقہ نہ تو اپنے مذہب سے دستبردار ہونے کو تیار ہوگا اور نہ اپنے رسم و رواج کو چھوڑنے کے لئے تیار ہوگا ، اس طرح یکساں سول کوڈ ہندوستان  جیسے ملک میں ممکن نہیں ہے۔

         موجودہ وقت میں بھی یکساں سول کوڈ نافذ کرنے کی بات اٹھائی گئی ہے ، یہ مسئلہ صرف مسلمانوں کا نہیں ہے ، یہ مسئلہ تو ملک میں بسنے والی سبھی مذہبی اقلیتوں کا بھی ہے ، سکھ ، بودھ ،جین  اور لنگائیت  طبقہ کے لوگوں کا بھی ھے ،  ان سب کے بھی مذاہب الگ الگ اور رسم و رواج الگ الگ ہیں ، جو سناتن دھرم سے الگ ہیں۔

         ایسا نہیں ہے کہ یہ مسئلہ پہلی مرتبہ  اٹھایا گیا ہے ، بلکہ بہت سی دفعہ ایسے حالات آئے ہیں کہ حکومت کی جانب سے  اقلیتوں کے حقوق  کو سلب کرنے کی کوشش کی گئی تو  تمام اقلیتوں نے مل کر ان کا مقابلہ کیا ،اور حکومت کو اپنا فیصلہ واپس لینے پر مجبور کردیا ، ابھی چند برسوں پہلے رائٹ ٹو ایجوکیشن کا نفاذ عمل میں آیا ، اس سے سبھی مذاہب کے تعلیمی ادارے متاثر ہورہے تھے ، یہانتک کے سنسکرت پاٹھ شالے بھی اس کی زد میں آرہے تھے ، اس وقت مولانا محمد ولی رحمانی رح نے اپنی جرات  و بیباکی کا مظاہرہ  کیا اور تمام اقلیتوں سے رابطہ کیا اور ایک متحدہ محاذ کی تشکیل کی ، اس متحدہ محاذ نے  مل کر کام کیا اور اس ایکٹ کے ذریعہ اپنے بنیادی حقوق میں  کی گئی مداخلت کو ثابت کیا تو حکومت نے اس میں ترمیم کرکے مدارس ،پاٹھ شالے ،گروکل وغیرہ کو مستثنی قرار دیا ، ابھی بھی حکومت کی جانب سے یکساں سول کوڈ کا شوشہ چھوڑا گیا ہے ، موجودہ وقت میں بھی  اس کی ضرورت ہے کہ ملی قائدین ملک میں بسنے والے مذہبی اقلیتوں کے دانشوروں کو ساتھ میں لیں ، اور سب مل  کر اس کے خلاف آواز بلند کریں ، تب تحریک میں مضبوطی ہوگی اور کامیابی ملے گی۔

           موجودہ وقت میں ملک میں نفرت کا ماحول پیدا ہوگیا ہے ، اقلیت اور اکثریت کے معاملہ کو اٹھاکر  سیاسی فائدہ حاصل کرنے کی کوشش کی جارہی ہے ، نفرت کا ماحول پیدا کرنے والے تھوڑے لوگ ہیں  ، اللہ کا فضل ہے کہ  برادران وطن  کا بڑا طبقہ نفرت پھیلانے والوں کے خلاف ہے ، اس لئے اس کی سخت ضرورت ہے کہ نفرت کے ماحول کو ختم کرنے کے لیے محبت اور آپسی میل محبت کو بڑھایا جائے ، اچھے اور سیکولر برادران وطن کے ساتھ رابطہ کو مضبوط کیا جائے ، ہر گاوں اور محلہ میں میٹینگ کی جائے۔

      موجودہ وقت  فتنہ کا ہے ، لوگوں کو مشتعل کرنے کے لیے طرح طرح کے حربے استعمال کئے جارہے ہیں ، ایسے موقع پر اس کی سخت ضرورت ہے کہ بالخصوص مسلم سماج کے لوگ صبر و تحمل سے کام لیں ،  استقامت اختیار کریں ، آئین کے مطابق شر اور فتنہ کے دفع کے لئے قانون کا سہارا لیں ، کسی بھی حال میں بے حوصلہ نہ ہوں ۔

       ایسے موقع پر ملی تنظیموں کو بھی چاہئے کہ حسب ضرورت حکومت سے  رابطہ قائم کریں ، حکومت کے ذمہ داروں سے ملاقات کا سلسلہ بڑھائیں ، جب کبھی ضرورت ہو تو وفد کے ہمراہ حکومت کے ذمہ داروں سے بات کریں۔      اللہ تعالیٰ امن و شانتی کا ماحول قائم کرے ، اور ہر قسم کے شر اور  فتنہ سے حفاظت فرمائے۔

مضمون میں مذکورآراء مصنف کے ہیں، ایسٹرن کریسنٹ کا ان سے اتفاق ضروری نہیں ہے۔

Share This Article
Leave a Comment

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Trending News

 معزز  علماء کرام سے اپیل

 معزز  علماء کرام سے اپیل ازــــ محمد برہان الدین قاسمی امارت شرعیہ کے…

Eastern

اسلام میں تہواروں کی حکمت و فلسفہ

اسلام میں تہواروں کی حکمت و فلسفہ از___ محمد توقیر رحمانی تقریبات…

Eastern

امارت شرعیہ بھی وقف کی طرح مسلم قوم کی امانت ہے!

امارت شرعیہ بھی وقف کی طرح مسلم قوم کی امانت ہے! از:…

Eastern

ماہ رمضان میں IPL کی آمد اور مسلمان نوجوانوں کی غفلت

ماہ رمضان میں IPL کی آمد اور مسلمان نوجوانوں کی غفلت از____محمد…

Eastern

Quick LInks

 معزز  علماء کرام سے اپیل

 معزز  علماء کرام سے اپیل ازــــ محمد برہان الدین قاسمی امارت شرعیہ کے…

Eastern

اسلام میں تہواروں کی حکمت و فلسفہ

اسلام میں تہواروں کی حکمت و فلسفہ از___ محمد توقیر رحمانی تقریبات…

Eastern