ٹرینڈنگ
مرکز المعارف ایجوکیشن اینڈ ریسرچ سینٹر، ممبئی میں انگریزی تقریری مقابلے کا انعقادشیخ محمد یحییٰ باسکندی کی مرکز المعارف، ممبئی آمد؛ طلبہ سے خطاب، تعلیم، تزکیہ اور تعلق مع اللہ کی اہمیت پر زورکیا ملت کو بیدار کرنے کی تمام کوششیں بند کردی جائیں!تحریک ریشمی روما ل: تاریخ کا ایک فراموش کردہ باباسلام اسپیکس: زبانِ عصر میں پیغامِ اسلام کی مؤثر ترجمانیملی اداروں کا مستقبل اور نوکِ قلم پر لٹکتی تلوار: ایف سی آر اے (FCRA) ترمیمی بل 2026 کا ایک تجزیہہواہےگوتیزوتندلیکن چراغ اپناجلارہاہےعالمی مذاہب میں حیات بعد الممات کا تصور: ایک تقابلی جائزہمرکز المعارف ایجوکیشن اینڈ ریسرچ سینٹر، ممبئی میں انگریزی تقریری مقابلے کا انعقادشیخ محمد یحییٰ باسکندی کی مرکز المعارف، ممبئی آمد؛ طلبہ سے خطاب، تعلیم، تزکیہ اور تعلق مع اللہ کی اہمیت پر زورکیا ملت کو بیدار کرنے کی تمام کوششیں بند کردی جائیں!تحریک ریشمی روما ل: تاریخ کا ایک فراموش کردہ باباسلام اسپیکس: زبانِ عصر میں پیغامِ اسلام کی مؤثر ترجمانیملی اداروں کا مستقبل اور نوکِ قلم پر لٹکتی تلوار: ایف سی آر اے (FCRA) ترمیمی بل 2026 کا ایک تجزیہہواہےگوتیزوتندلیکن چراغ اپناجلارہاہےعالمی مذاہب میں حیات بعد الممات کا تصور: ایک تقابلی جائزہ

مرکز المعارف ایجوکیشن اینڈ ریسرچ سینٹر، ممبئی میں انگریزی تقریری مقابلے کا انعقاد

0%
مرکز المعارف ایجوکیشن اینڈ ریسرچ سینٹر، ممبئی میں انگریزی تقریری مقابلے کا انعقاد
Uncategorized

مرکز المعارف ایجوکیشن اینڈ ریسرچ سینٹر، ممبئی میں انگریزی تقریری مقابلے کا انعقاد

Eastern
1 min read48 views
Save this article for later

مرکز المعارف ایجوکیشن اینڈ ریسرچ سینٹر، ممبئی میں انگریزی تقریری مقابلے کا انعقاد

’’انداز بیان تقریر کا ایک نہایت اہم حصہ ہے، اسی لیے اسے خصوصی اہمیت دی جاتی ہے‘‘ — مولانا محمدبرہان الدین قاسمی

ممبئی، 6 ستمبر 2026ء
(محمد سلمان عالم قاسمی)ـ مدارس سے فارغ طلبہ کو انگریزی زبان و ادب کی بہتر اور معیاری تعلیم فراہم کرنے اور انہیں عصر حاضر کے تقاضوں کے مطابق تیار کرنے کے لیے منفرد شناخت رکھنے والا معروف ادارہ مرکز المعارف ایجوکیشن اینڈ ریسرچ سینٹر (ایم،ایم ای،آرسی)، ممبئی میں تعلیمی سال 2026-27ء کے دوسرے انگریزی تقریری مقابلے کا شاندار اور باوقار انعقاد عمل میں آیا۔

مقابلے کے آخری مرحلے کے لیے منتخب کیے گئے آٹھ طلبہ نے مختلف عصری موضوعات پر انگریزی زبان میں تقاریر پیش کیں اور اپنی علمی، فکری اور خطیبانہ صلاحیتوں کا بہترین مظاہرہ کیا۔ پروگرام میں شہر کی متعدد معروف علمی و سماجی شخصیات نے بھی شرکت کی۔

پروگرام کا آغاز قاری عبدالفتاح کی تلاوتِ کلامِ پاک سے ہوا۔ جس کا انگریزی ترجمہ مولانا دلشاد عالم نے پیش کیا، جب کہ مولانا فیض محمد قاسمی نے نعتِ رسولِ ﷺ پیش کی۔

پروگرام کی نظامت مولانا محمدتوقیر رحمانی نے کی۔ انہوں نے مرکز المعارف کا مختصر تعارف پیش کرتے ہوئے ادارے کے بانی مولانا محمد بدر الدین اجمل قاسمی صاحب کی ملک و ملت اور سماج کے لیے انجام دی جانے والی اہم خدمات کو بھی اجاگر کیا۔ وہیں ادارے کے ناظمِ تعلیمات مفتی جسیم الدین قاسمی نے مہمانانِ گرامی کا تعارف کرایا اور ان کا استقبال کیا۔

مقابلے میں تین ممتاز شخصیات نے حکم کے فرائض انجام دیے۔ ان میں مرکز المعارف کے ڈائریکٹر مولانا محمد برہان الدین قاسمی، احتشام ایبانی ، سینئر پروسس اینیبلر، ٹاٹا کنسلٹنسی سروسز (TCS) اور دانیال خان، پلاننگ اینڈ پروڈکشن مینیجر، سگما سیلز ایل ایل پی (Sigma Seals LLP) شامل تھے۔

تقریری مقابلے کے حکم صاحبان: مولانا محمد برہان الدین قاسمی (ڈائریکٹر، MMERC)، جناب احتشام ایبانی (سینئر پروسس اینیبلر، TCS) اور جناب دانیال خان (مینیجر، Sigma Seals LLP)۔
تقریری مقابلے کے حکم صاحبان: مولانا محمد برہان الدین قاسمی (ڈائریکٹر، MMERC)، جناب احتشام ایبانی (سینئر پروسس اینیبلر، TCS) اور جناب دانیال خان (مینیجر، Sigma Seals LLP)۔

پروگرام کی صدارت مرکز المعارف کے نگراں مولانا محمد عتیق الرحمن قاسمی نے کی۔ جبکہ مرکز المعارف مسجد کے امام مولانا محمد شاہد قاسمی، جعفر بھائی  اور توفیق سر بطور مہمان اعزازی موجود رہے۔

مقابلے کے اختتام پر جج صاحبان نے طلبہ کی کارکردگی پر مبارکبادی پیش کی اور انہیں نہایت قیمتی آرا، مفید مشورے اور حوصلہ افزا کلمات سے نوازا۔

جناب احتشام ایبانی نے طلبہ کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہا کہ لوگوں کے سامنے کھڑے ہوکر اپنی بات پیش کرنا بذاتِ خود ایک بڑی آزمائش ہے، لیکن طلبہ نے جس اعتماد اور خوبصورتی کے ساتھ اپنے خیالات پیش کیے، وہ قابلِ تعریف ہے۔ انہوں نے کہا کہ عصر حاضر کے تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے تقریر کے لیے ایسے موضوعات کا انتخاب کیا جانا چاہیے جن کا موجودہ حالات اور زمانے سے گہرا تعلق ہو۔ انہوں نے طلبہ کو یاد دلایا کہ ان کی ایک اہم ذمہ داری یہ بھی ہے کہ وہ اسلامی تعلیمات کی روشنی میں لوگوں کی صحیح رہنمائی کریں۔

جناب دانیال خان نے تمام شرکاء کی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے کہا کہ انگریزی ان طلبہ کی مادری زبان نہیں ہے، اس کے باوجود انہوں نے جس خوبصورتی اور اعتماد کے ساتھ اپنے خیالات پیش کیے، وہ قابلِ ستائش ہے۔ انہوں نے کہا کہ دینی مدارس سے تعلیم یافتہ طلبہ کی ایک اہم ذمہ داری یہ ہے کہ وہ جدید طبقے اور دینی طبقے کے درمیان موجود خلا کو پر کرنے کی کوشش کریں، کیونکہ وہ اسلامی تعلیمات کو دوسروں کے مقابلے میں زیادہ گہرائی سے سمجھتے ہیں۔ انہوں نے طلبہ کو مشورہ دیا کہ زبان سیکھنے کے ساتھ ساتھ اپنے پیغام کو مؤثر انداز میں لوگوں تک پہنچانے پر بھی خصوصی توجہ دیں۔

Advertisement
Advertisement

مرکز المعارف کے ڈائریکٹر مولانا برہان الدین قاسمی نے طلبہ کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ آج کے پروگرام میں تمام موضوعات نہایت اچھے اور عصر حاضر سے ہم آہنگ تھے۔ انہوں نے بحیثیت جج اپنے تجربات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ کسی تقریری مقابلے میں فیصلہ کرنا آسان کام نہیں ہوتا۔ حکم صاحبان صرف تقریر کے الفاظ کو نہیں دیکھتے، بلکہ مقرر کی جسمانی حرکات، اندازِ گفتگو، آواز کے اتار چڑھاؤ، تلفظ، روانی اور الفاظ کی ادائیگی سمیت تقریر کے ہر پہلو کا باریک بینی سے جائزہ لیتے ہیں۔

انہوں نے خصوصی طور پر کہا کہ انداز بیاں تقریر کا ایک نہایت اہم حصہ ہے اور اسی وجہ سے اسے تقریر میں خصوصی اہمیت دی جاتی ہے۔ مقرر کو اپنے موضوع کی نوعیت کے مطابق الفاظ، لہجے اور اندازِ بیان کو ڈھالنا چاہیے۔

مقابلے کے آخری مرحلے کے لیے منتخب کیے گئے آٹھ طلبہ میں مولوی سعید انور قاسمی نے پہلی، مولوی فیضان قاسمی نے دوسری اور مولوی محمد حمزہ قاسمی نے تیسری پوزیشن حاصل کی۔

مقابلے کے کامیاب طلبہ—مولانا سعید انور قاسمی (پہلی پوزیشن)، مولانا فیضان قاسمی (دوسری پوزیشن) اور مولانا محمد حمزہ قاسمی (تیسری پوزیشن)—معزز مہمانوں کے ہاتھوں اپنے اپنے انعامات وصول کرتے ہوئے۔
مقابلے کے کامیاب طلبہ—مولانا سعید انور قاسمی (پہلی پوزیشن)، مولانا فیضان قاسمی (دوسری پوزیشن) اور مولانا محمد حمزہ قاسمی (تیسری پوزیشن)—معزز مہمانوں کے ہاتھوں اپنے اپنے انعامات وصول کرتے ہوئے۔

پروگرام کے صدر مولانا محمد عتیق الرحمن قاسمی نے اپنے صدارتی خطاب میں تمام مہمانوں، جج صاحبان اور شرکاء کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ وہ مسلسل محنت، مطالعہ اور مشق کا سلسلہ جاری رکھیں۔ انہوں نے اس بات کی بھی وضاحت کی کہ تقریری مقابلے میں جیت یا ہار اصل مقصد نہیں ہے؛ اصل کامیابی یہ ہے کہ ایک طالب علم لوگوں کے سامنے اعتماد کے ساتھ کھڑا ہو، اپنے خیالات کو منظم انداز میں پیش کرے اور اپنے اندر اپنی بات مؤثر طریقے سے کہنے کی صلاحیت پیدا کرے۔

انہوں نے مزید کہا کہ بعض تقاریر اپنے مؤثر انداز، مضبوط مواد اور دل کو چھو لینے والی پیشکش کی وجہ سے ایسی گہری چھاپ چھوڑتی ہیں کہ وہ طویل عرصے تک یاد رہتی ہیں۔

پروگرام کا اختتام مرکز المعارف مسجد کے امام و خطیب مولانا محمد شاہد قاسمی کی دعا کے ساتھ ہوا۔

Advertisement
Advertisement

پروگرام کو کامیاب بنانے میں مرکز المعارف کے اساتذہ اور تمام طلبہ، بالخصوص مولانا اسلم جاوید قاسمی، مولانا جمیل احمد قاسمی، مولانا محمد سلمان عالم قاسمی اور ادارے کے دیگر کارکنان نے اہم تعاون پیش کیا۔

Eastern

Eastern

Staff writer at Eastern Crescent Urdu.

View all posts →

Comments (0)

Leave a Comment

اوپر تک سکرول کریں۔