ٹرینڈنگ
عالمی مذاہب میں حیات بعد الممات کا تصور: ایک تقابلی جائزہجولائی ۲۰۲۶: وہ مہینہ جب ہندوستانی ٹیلی ویژن نیوز کے زوال سے انکار ناممکن ہو گیا*جنتر منتر احتجاج۔۔۔ اور ہمارے لیے کچھ کام کی باتیںکوکروچ تحریک کی پہلی بڑی کامیابیمعروف سعودی عالمِ دین مفتی محمد عمر شفیق حجازی حفظہ اللہ کا مرکزالمعارف، ممبئی کا دورہدیوبند میں "Concept of Life After Death in World’s Major Religions” کی تقریبِ اجراعالمی یومِ آبادی: مسئلہ آبادی ہے ہی نہیں!اہل ووٹروں کے حقوق کے تحفظ کے لیے فیڈریشن آف مہاراشٹر مسلمس اعلی سطحی وفد کی چیف الیکٹورل آفیسر مہاراشٹر سے اہم ملاقاتعالمی مذاہب میں حیات بعد الممات کا تصور: ایک تقابلی جائزہجولائی ۲۰۲۶: وہ مہینہ جب ہندوستانی ٹیلی ویژن نیوز کے زوال سے انکار ناممکن ہو گیا*جنتر منتر احتجاج۔۔۔ اور ہمارے لیے کچھ کام کی باتیںکوکروچ تحریک کی پہلی بڑی کامیابیمعروف سعودی عالمِ دین مفتی محمد عمر شفیق حجازی حفظہ اللہ کا مرکزالمعارف، ممبئی کا دورہدیوبند میں "Concept of Life After Death in World’s Major Religions” کی تقریبِ اجراعالمی یومِ آبادی: مسئلہ آبادی ہے ہی نہیں!اہل ووٹروں کے حقوق کے تحفظ کے لیے فیڈریشن آف مہاراشٹر مسلمس اعلی سطحی وفد کی چیف الیکٹورل آفیسر مہاراشٹر سے اہم ملاقات

ہمارے متعلق

 

ایسٹرن کریسنٹ

متبادل میڈیا، عوام کی پسند

میڈیا میں مسلمانوں کو ہمیشہ ایسے پسماندہ طبقہ کے طور پر پیش کیا جاتا رہا ہے جو جدید ترقی کے مخالف ہیں۔مسلم خواتین کو مردانہ تسلط کے زیراثر رہنے والی ایسی خواتین کے طورپر پیش کیاجاتا ہے جن کے ساتھ مردوں کے ذریعہ ہمیشہ بدسلوکی کامعاملہ روا رکھا جاتا ہے۔مسلمانوں کے علاؤہ دیگر اقلیتوں کو بھی وقتا فوقتاً مشق ستم بنایاجاتا ہے؛کیونکہ ان کی اپنی دمدار آواز نہیں ہے۔

یہ ایک حقیقت ہے کہ مین اسٹریم میڈیا اپنے مالکوں کی پالیسی کی وجہ سے تمام کمیونٹیز کے تمام مسائل کو اجاگر نہیں کر سکتا۔ اسی لئے ضروری ہےکہ ہر ایک طبقےکے پاس خود کے اسباب ہوں جس کے ذریعہ ذاتی مسائل کو بہتر طریقے سے اجاگر کیا جاسکے اور ان میں سے اہم مسائل کو مناسب تناظر میں پیش کیا جاسکے۔

مذکورہ پس منظر میں یہ ضروری ہے کہ مسلمانوں کے پاس خود مسلمانوں کی جانب سے نکالے جانے والے روزنامہ اخبارات، ڈیجیٹل میڈیا پلیٹ فارمز ہونے کے ساتھ ساتھ انگریزی اور مقامی زبانوں میں چوبیس گھنٹے سیٹلائٹ ٹی وی چینلز بھی ہوں تاکہ وہ اپنے اور دیگر اقلیتوں کے حوالے سےواقعات کی درست رپورٹنگ کر سکیں اور حقیقی صورت حال سے دنیاں کو آگاہ کرسکیں۔

موجودہ صورت حال یہ ہے کہ مسلمان چند اخبارات، رسائل جرائد شائع کررہے ہیں اور کچھ ویب پورٹلز چلا رہے ہیں جو کسی نہ کسی حد تک مسلمانوں کے تعلق سے سماجی، اقتصادی اور تعلیمی مسائل کو اٹھانے میں مؤثر ثابت ہو رہے ہیں۔ مگر یہ بھی حقیقت ہےکہ ان میں سے کچھ میڈیا ہاؤس مذہبی تناظر میں اسلامی مسائل کو حل کرنے کے لیے کما حقہ موثر نہیں ہیں، حتی کہ بسااوقات یہ رسالے مناسب مذہبی تعلیم یا صحیح اسلامی طرز عمل سے پوری طرح واقف نہ ہونے کی وجہ سے انتہائی حساس اسلامی مسائل کو بےجاطورپرتوڑ موڑ کربھی پیش کر دیتے ہیں۔

 چونکہ علماء دین و دنیا دونوں سے واقف ہوتے ہیں اس لیئے علمائے کرام کو مین اسٹریم میڈیا کے اندر عصری چیلنجز کا پوری ذمہ داری کے ساتھ جواب دینا چاہیے۔ وقت کے رہتے ہوئے ان کو اس بات کا بھرپور احساس ہوجانا چاہئے کہ اس طرح کے مسائل کاسامناکرنے کےبجائے ایک گوشہ میں بیٹھے رہنا نہ صرف ان کے لیے بلکہ آنے والی نسلوں کے لیے نقصان دہ ہوگا۔

یہی وہ پس منظر ہے جس کے پیش نظر مرکز المعارف ایجوکیشن اینڈ ریسرچ سینٹر (ایم ایم ای آر سی)،  ممبئی، نے مئی 2006  میں ‘ایسٹرن کریسنٹ’  کے نام سے ایک ماہ نامہ انگریزی رسالہ ‘متبادل میڈیا، عوام کی پسند’ کے طور پر نکالا اور موجودہ حالات میں میڈیا کے تعصب سے سے نمٹنے کے لیے نئی حکمت عملیوں کے ساتھ اس میدان میں مضبوطی سےقدم رکھا ۔نتیجہ یہ ہے کہ ایسٹرن کریسنٹ ہرآئے دن ترقی کے منازل طے کررہاہےاور قارئیں کابھرپور اعتماد حاصل کررہاہے، نیز ہرطرح کے صاحب الرائے افرادکے لئے ایک موثر پلیٹ فارم ثابت ہو رہا ہے۔

میگزین نے سال 2008 میں امریکہ کے  twocircles.net کے ذریعہ کئے گئے سالانہ جائزے میں ہندوستان کے مسلمانوں کی تمام انگریزی اشاعتوں میں سرفہرست مقام حاصل کیاتھا۔

حالات کو سامنے رکھتے ہوئے ایسٹرن کریسنٹ نے پرنٹ ایڈیشن کو موقوف رکھتے ہوئے ویب سائٹ کو عالمی معیار کے مطابق ڈھالا ہے اور آن لائن (ڈیجیٹل) ایڈیشن کو روزانہ اپڈیٹ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ایسٹرن کریسنٹ کو آن لائن ایڈیشن کے لیئے مستقل آئی ایس ایس نمبر  (2347x90x) حاصل ہے جو پی ایچ ڈی اسکالرس اور دیگر محققین کے لیئے معاؤن ہے۔

ایسٹرن کریسنٹ (ای سی) مختلف صاحب قلم کی تحقیق پر مبنی آراء، تجزیوں اور ٹھوس تحریروں کے ساتھ اسٹوریز اور تبصرے نشر کرتاہے۔ ایسٹرن کریسنٹ ، زیر ملکیت مرکز میڈیا اینڈ پبلیکیشنز پرائیویٹ لمیٹڈ، ایک آزاد میڈیا ہاؤس ہے جس کی نشرواشاعت ممبئی، ہندوستان سے مرکزی دھارے سے جڑے علماء کرام  کے ایک گروپ کے ذریعہ ہوتی ہے۔ ایسٹرن کریسینٹ قارئین کے درمیان سیکولر، جمہوری اور کثیر ثقافتی اقدار کو فروغ دینے کے لیے  ایسی خبروں اورخیالات کوجگہ دیتا ہے جو آئین ہند کے رہنما خطوط کے موافق ہو۔

 

ادارتی بورڈ:

اسسٹینٹ ایڈیٹر: مدثر احمد قاسمی

mudqasmi@yahoo.com

 ایڈیٹر: محمد برہان الدین قاسمی

mb.qasmi@gmail.com

جنرل مینیجر:اسلم جاوید قاسمی

aslamqasmi@gmail.com

سب ایڈیٹر: معاذ مدثر قاسمی

muazmuddassir@gmail.com

مینیجر:جمیل احمد قاسمی

jamilahmedqasimi1994@gmail.com

ڈئزائننگ: مولاناوسیم اکر قاسمی

mwaqasmi473@gmail.com

 

مستقل کالم نگار:

1۔ مفتی جسیم الدین قاسمی، ممبئی [jaseemuddinq@gmail.com]

2۔ ڈاکٹر مفتی محمداللہ خلیلی قاسمی، دیوبند [khaliliqasmi@gmail.com]

3۔مولاناخورشید عالم داؤد قاسمی، زامبیا   [qasmikhursheed@yahoo.co.in]

4۔ ڈاکٹر مولانا حفظ الرحمن قاسمی، دہلی [hifzurrahman297@gmail.com]

5۔مولانا محمود احمد خان دریابادی، ممبئی  [    daryabadi@yahoo.com]

6۔ڈاکٹر ابوالکلام قاسمی، پٹنہ [ abul.kalam.qasmi@gmail.com]

7۔ شمس تبیریز قاسمی ، دہلی[  Stqasmi@gmail.com]

8۔ مفتی طہٰ قاسمی جونپوری، ممبئی  Jaunpuri786@gmail.com

 

مصنفین، کالم نگار، نقاد، اورنئے قلمکار حضرات اپنی تحریریں اشاعت کے لیے بھیج سکتے ہیں۔ ایڈیٹر اسے ‘ایسٹرن کریسینٹ” میں شائع کرنے یا کوئی وجہ بتائے بغیر یکسر مسترد کرنے کا حق محفوظ رکھتا ہے۔ مزید برآں، ‘ایسٹرن کریسنٹ’ غیر مطلوبہ تحریروں کی ذمہ داری قبول نہیں کرتا ہے۔

 

دستبرداری:

(الف) مختلف مضامین میں بیان کردہ آراء ضروری نہیں کہ وہ "ایسٹرن کریسینٹ” کے خیالات یا پالیسیوں کی عکاسی کریں اور صاحب تحریر اپنے آراء کے خودذمہ دار ہیں۔ (ب) ایڈیٹر کی پیشگی تحریری اجازت کے بغیر ایسٹرن کریسینٹ میں شائع کوئی بھی  مضمون یا اس کا کوئی حصہ دوبارہ شائع نہیں کیا جا سکتا۔

اوپر تک سکرول کریں۔