اسلام عصبیت کی جڑوں کو کاٹتا ہے

Eastern
5 Min Read
1
34 Views
5 Min Read

مفتی محمد عبید اللہ قاسمی، دہلی

قبائلی اور نسبی عصبیت بہت خطرناک چیز ہے. یہ انسان کو بڑے گناہوں کا مرتکب بنادیتی ہے. شیطان اس کے ذریعے لوگوں کو اپنا شکار بناتا ہے. حتی کہ صحابہِ کرام کے زمانے میں بھی بعض صحابہِ کرام وقتی طور پر شیطان کے اس پھندے میں آگئے تھے مگر انہیں جلد ہی احساس ہوگیا اور وہ تائب ہوئے. عصبیت کی اس خطرناکی کو خود قرآن نے بہت بلیغ انداز میں بیان کیا ہے اور عصبیت کے خاتمے اور اتحاد ومودت کی نعمت کو بیان کیا… إذ كنتم أعداء فألف بين قلوبكم… قرآن کی یہ آیتِ کریمہ انصار کے دو قبیلوں اوس اور خزرج کے بارے میں نازل ہوئی جو صدیوں سے ایک دوسرے کے جانی دشمن تھے مگر بعد میں اسلام کی برکت سے باہم گہرے دوست بن گئے اور اتحادِ کامل کا مظہر بن گئے.
اسی طرح ایک موقعے پر شیطان نے عصبیت کا شیرہ لگایا اور ایک انصاری صحابی نے یا للانصار کا نعرہ لگایا اور مہاجر صحابی نے یا للمہاجرین کا نعرہ لگایا. حضور علیہ السلام تک جب یہ بات پہنچی تو سخت ناراض ہوئے اور اس عصبیت کو خبیث چیز کہا اور پھر ان صحابہ کو جلد ہی اپنی غلطی کا احساس ہوا اور تائب ہوئے. ایک موقعے پر جب غزوے کے بعد رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے مالِ غنیمت کو تقویتِ قلب اور تالیف کی خاطر قبائلِ عرب میں تقسیم کیا مگر انصار کو کچھ نہیں دیا تو شیطان نے پھر شیرہ لگایا اور بعض انصار صحابہ کے درمیان ایسی تقسیم کے بارے میں چہ می گوئی ہونے لگی. جب بات حضور علیہ السلام تک پہنچی تو آپ نے سب کو ایک باڑے میں جمع کرایا اور ایک بلیغ خطبہ دیا اور اس مالِ غنیمت کو قبائلِ عرب میں تقسیم کرنے کی وجہ بتائی اور انصار سے اپنی قربت اور محبت بتائی تو انصار اتنا روئے کہ ان کی داڑھیاں تر ہوگئیں اور حضور کی تقسیم پر اپنی مکمل رضامندی کا اظہار فرمایا.

نسبی اور قبائلی تعصب کی بنیاد پر شیطان کے بہکانے اور شیرہ لگانے سے صحابہ کے زمانے میں بھی وقتی طور پر ناخوشگوار واقعات پیش آئے تو ظاہر ہے کہ بعد کے زمانے بھلا شیطان کے ورغلانے سے کیسے محفوظ رہ سکتے ہیں. مگر عقلمند مسلمان وہ ہے جو اس بات کو جلد محسوس کرلے اور ایسی آلائشوں سے خود کو محفوظ رکھے اور اللہ سے ہدایت کی دعاء کرتا رہے. موجودہ زمانے میں بھی شیطان طرح طرح کے حربے استعمال کرنے میں مصروف ہے اور اس کی بھرپور کوشش ہوتی ہے کہ مسلمانوں میں انتشار، اختلاف، بغض اور نفرت پھیل جائے. شیطان کے ان حربوں میں ایک انتہائی کارگر حربہ نسبی تعصب اور ذات برادری کی بنیاد پر مسلمانوں میں نفرت پیدا کرنا ہے. مسلمانوں کو اور علماء کو اس خطرناک چال سے چوکنا اور ہوشیار رہنا چاہیے. شیطان تعصب کے راستے مسلمانوں کو گناہِ کبیرہ اور گمراہی میں مبتلا کرنا چاہتا ہے.

مسلمانوں کو ذہن نشیں کر لینا چاہیے کہ اسلام میں کوئی تعصب نہیں ہے، وہ ہر طرح کے تعصب کی جڑوں کو کاٹ دیتا ہے.

سرسری طور پر موضوع سے متعلق چند نصوص ذیل میں ہیں.

واذكروا نعمة الله عليكم إذ كنتم أعداء فألف بين قلوبكم فأصبحتم بنعمته إخوانا وكنتم على شفا حفرة من النار فأنقذكم منها. {آل عمران:103}

يا لَلْمُهَاجِرِينَ، فَخَرَجَ النَّبيُّ صَلَّى اللهُ عليه وسلَّمَ، فَقالَ: ما بَالُ دَعْوَى أهْلِ الجَاهِلِيَّةِ؟! ثُمَّ قالَ: ما شَأْنُهُمْ؟ فَأُخْبِرَ بكَسْعَةِ المُهَاجِرِيِّ الأنْصَارِيَّ، قالَ: فَقالَ النَّبيُّ صَلَّى اللهُ عليه وسلَّمَ: دَعُوهَا؛ فإنَّهَا خَبِيثَةٌ. وقالَ عبدُ اللَّهِ بنُ أُبَيٍّ ابنُ سَلُولَ: أقَدْ تَدَاعَوْا عَلَيْنَا؟ لَئِنْ رَجَعْنَا إلى المَدِينَةِ لَيُخْرِجَنَّ الأعَزُّ منها الأذَلَّ، فَقالَ عُمَرُ: ألَا نَقْتُلُ يا رَسولَ اللَّهِ هذا الخَبِيثَ؟ لِعَبْدِ اللَّهِ، فَقالَ النَّبيُّ صَلَّى اللهُ عليه وسلَّمَ: لا يَتَحَدَّثُ النَّاسُ أنَّه كانَ يَقْتُلُ أصْحَابَهُ.
الراوي : جابر بن عبدالله | المحدث : البخاري | المصدر : صحيح البخاري
الصفحة أو الرقم: 3518 | خلاصة حكم المحدث : [صحيح]
التخريج : أخرجه البخاري (3518) واللفظ له، ومسلم (2584)

مورخہ 10 مارچ, 2024

TAGGED:
Share This Article
کوئی تبصرہ نہیں ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Trending News

”سامعین کی توجہ اور فکری وزن کے بغیر تقریر بے اثر ہے“_سہیل مسعود

”سامعین کی توجہ اور فکری وزن کے بغیر تقریر بے اثر ہے“_سہیل…

Eastern

ٹریل بلیزر: فکر، ایمان و سائنس کا سنگم

ٹریل بلیزر: فکر، ایمان و سائنس کا سنگم از____ محمد توقیر رحمانی…

Eastern

ماہ ربیع الاول اور اسوۂ نبوی ﷺ کا تقاضا

ماہ ربیع الاول اور اسوۂ نبوی ﷺ کا تقاضا از____ محمد توقیر…

Eastern

انسان کی تخلیق محض وجود کیلئےنہیں ، خلافتِ ارضی کی عظیم ذمہ داری کیلئے ہے

انسان کی تخلیق محض وجود کیلئےنہیں ، خلافتِ ارضی کی عظیم ذمہ…

Eastern

نئے زمانے کے نئے بت

نئے زمانے کے نئے بت ازــــــ محمد توقیر رحمانی زمانے کی گردِش…

Eastern

زندیقیت کا سیلاب، الحاد کی فکری استعماریت کا مظہر اور اسلامی شعور کا کڑا امتحان ہے

زندیقیت کا سیلاب، الحاد کی فکری استعماریت کا مظہر اور اسلامی شعور…

Eastern

Quick LInks

ابوعبیدہ یعنی حذیفہ سمیر عبد اللہ الکحلوت

ابوعبیدہ یعنی حذیفہ سمیر عبد اللہ الکحلوت از: خورشید عالم داؤد قاسمی…

Eastern

”سامعین کی توجہ اور فکری وزن کے بغیر تقریر بے اثر ہے“_سہیل مسعود

”سامعین کی توجہ اور فکری وزن کے بغیر تقریر بے اثر ہے“_سہیل…

Eastern

نیشنل کمیشن فار ویمن سے مسلم ویمن کے ایک وفد نے ملاقات کرکے  اپنی شکایت  درج کرائی!

  نیشنل کمیشن فار ویمن سے مسلم ویمن کے ایک وفد نے…

Eastern