ٹرینڈنگ
عالمی مذاہب میں حیات بعد الممات کا تصور: ایک تقابلی جائزہجولائی ۲۰۲۶: وہ مہینہ جب ہندوستانی ٹیلی ویژن نیوز کے زوال سے انکار ناممکن ہو گیا*جنتر منتر احتجاج۔۔۔ اور ہمارے لیے کچھ کام کی باتیںکوکروچ تحریک کی پہلی بڑی کامیابیمعروف سعودی عالمِ دین مفتی محمد عمر شفیق حجازی حفظہ اللہ کا مرکزالمعارف، ممبئی کا دورہدیوبند میں "Concept of Life After Death in World’s Major Religions” کی تقریبِ اجراعالمی یومِ آبادی: مسئلہ آبادی ہے ہی نہیں!اہل ووٹروں کے حقوق کے تحفظ کے لیے فیڈریشن آف مہاراشٹر مسلمس اعلی سطحی وفد کی چیف الیکٹورل آفیسر مہاراشٹر سے اہم ملاقاتعالمی مذاہب میں حیات بعد الممات کا تصور: ایک تقابلی جائزہجولائی ۲۰۲۶: وہ مہینہ جب ہندوستانی ٹیلی ویژن نیوز کے زوال سے انکار ناممکن ہو گیا*جنتر منتر احتجاج۔۔۔ اور ہمارے لیے کچھ کام کی باتیںکوکروچ تحریک کی پہلی بڑی کامیابیمعروف سعودی عالمِ دین مفتی محمد عمر شفیق حجازی حفظہ اللہ کا مرکزالمعارف، ممبئی کا دورہدیوبند میں "Concept of Life After Death in World’s Major Religions” کی تقریبِ اجراعالمی یومِ آبادی: مسئلہ آبادی ہے ہی نہیں!اہل ووٹروں کے حقوق کے تحفظ کے لیے فیڈریشن آف مہاراشٹر مسلمس اعلی سطحی وفد کی چیف الیکٹورل آفیسر مہاراشٹر سے اہم ملاقات

آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ نے وقف ترمیمی بل 2024 پر عوام سے رائے طلب کی

0%
آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ نے وقف ترمیمی بل 2024 پر عوام سے رائے طلب کی
سماج

آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ نے وقف ترمیمی بل 2024 پر عوام سے رائے طلب کی

Eastern
1 min read0 views
Save this article for later

آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ نے وقف ترمیمی بل 2024 پر عوام سے رائے طلب کی

ای سی نیوز ڈیسک
01 ستمبر 2024

آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ (AIMPLB) نے مشترکہ پارلیمانی کمیٹی (JPC) کے زیر غور وقف ترمیمی بل 2024 پر عوام سے رائے طلب کی ہے۔ بورڈ نے مسلم کمیونٹی پر زور دیا ہے کہ وہ اس معاملے میں بھرپور حصہ لیں، کیونکہ وقف جائیدادیں کمیونٹی کی وراثت اور مذہبی فرائض کا اہم حصہ ہیں۔

مسلم پرسنل لا بورڈ نے نشاندہی کی کہ ہندوستان کے آئین نے مذہبی آزادی اور اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ کی ضمانت دی ہے، جس میں وقف جائیدادوں کا انتظام بھی شامل ہے۔ تاریخی طور پر، مرکزی اور ریاستی حکومتوں نے ان جائیدادوں کی حفاظت کے لیے قوانین اور محکمے قائم کیے ہیں۔

تاہم، موجودہ حکومت کی نیت وقف کے حوالہ سے صحیح نہیں ہے۔ اگرچہ حکومت کو بل کی آسان منظوری کی امید تھی، لیکن اسے پارلیمنٹ میں شدید اپوزیشن کا سامنا کرنا پڑا، جس کے باعث بل مشترکہ پارلیمانی کمیٹی کو بھیج دیا گیا۔

بورڈ نے واضح کیا کہ کمیٹی نے عوام سے رائے طلب کی ہے، حالانکہ وقف جائیدادیں مسلمانوں کی ملکیت ہیں، اس لئے صرف مسلمانوں سے ہی رائے طلب کی جانی چاہیے تھی۔

بورڈ نے تمام افراد سے اپیل کی ہے کہ وہ بورڈ کی جانب سے فراہم کردہ QR کوڈ یا اس لنک (https://tinyurl.com/is-no-waqf-amendment) کا استعمال کرکے مشترکہ پارلیمانی کمیٹی کو اپنی رائے ضرور بھیجیں۔ اپنے عزیز و اقارب کو بھی اس جانب متوجہ کریں اور اس کو ایک تحریک بنائیں۔ بورڈ کے جنرل سیکرٹری مولانا خالد سیف اللہ رحمانی نے امید ظاہر کی کہ اجتماعی کوششوں اور اللہ کی مدد سے کمیونٹی وقف جائیدادوں کی حفاظت کر سکے گی۔

Eastern

Eastern

Staff writer at Eastern Crescent Urdu.

View all posts →

Comments (0)

Leave a Comment

اوپر تک سکرول کریں۔