معاونین اور محسنین کو فراموش کرنا غیر اخلاقی و غیر اسلامی عمل ہے!

Eastern
5 Min Read
62 Views
5 Min Read

مدثر احمد قاسمی

مضمون نگار ایسٹرن کریسنٹ کے اسسٹنٹ ایڈیٹر اور روزنامہ انقلاب کے مستقل کالم نگار ہیں۔

انسانی دنیا کے نظام کو اللہ رب العزت نے کچھ اس طرح ترتیب دیا ہے کہ ہر ایک کی مختلف ضروریات ہیں،جس کی تکمیل کے لیئے وہ خود بھی محنت کرتا ہے اور کبھی دوسروں کی بھی مدد لیتا ہے۔ چونکہ دوسروں سے مدد لینا ایک فطری تقاضا ہے، اس وجہ سے انسان کو جب بھی دوسروں سے تعاؤن ملے، اسے الفاظ تشکر ضرور ادا کرنا چاہیئے۔ حدیث میں اس بات کی صاف لفظوں میں تعلیم دی گئی ہے: "جو لوگو ں کا شکریہ ادا نہیں کرتا، وہ اللہ کا بھی شکریہ ادا نہیں کرتا۔”(ابوداؤد)

شکریہ ادا کرنے کے حوالے سے ایک عام رجحان یہ ہے کہ ہم میں سے اکثر لوگ کسی کی طرف سے کچھ ملنے کی صورت میں فورا الفاظ تشکر ادا کرتے ہیں جو موجودہ وقت میں ایک رسمی طرز عمل ہے اور تہذیب یافتہ ہونے کی علامت ہے۔ لیکن شریعت میں تشکر کے باب میں جو مطلوب ہے وہ یہ کہ انسان دل کی گہرائیوں سے شکریہ ادا کرے؛ کیونکہ ا سلام میں ریاکاری اور ادا کاری کو کوئی مقام حاصل نہیں ہے۔ یاد رکھیئے! ہمیں جو نفع پہنچاتا ہے وہ صرف ہمارا محسن ہی نہیں بلکہ شریعت کی نگاہ میں بہترین انسان بھی ہے؛ کیونکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے:” تم میں سے بہترین انسان وہ ہے جو دوسروں کو نفع پہونچائے۔” (کنز العمال) ان دونوں پہلوؤں سے ہمیں یہ بات سمجھ میں آتی ہے کہ اگر ہم تعاؤن دینے والوں کا دل و جان سے شکریہ ادا نہیں کرتے ہیں تو ہم احسان فراموش ہونے کے ساتھ ایک بہترین انسان کے ناقدر بھی ہیں۔

زیر بحث موضوع کا ایک انتہائی افسوسناک پہلو یہ ہے کہ ہمارے معاشرے میں ایک بڑی تعداد ایسے لوگوں کی ہے کہ جب ان کو کوئی ضرورت آن پڑتی ہے تو وہ ایسے لوگوں سے رابطہ کرتے ہیں جو ان کو مدد فراہم کرسکیں؛ لیکن جب انہیں مدد مل جاتی ہے اور ان کا کام بن جاتا ہے تو وہ معاون کا نہ ہی کما حقہ شکریہ ادا کر تے ہیں اور نہ ہی اس بات کی زحمت کرتے ہیں کہ اپنے محسن سے ملیں اور ان کو بتا کر آگے بڑھیں۔

تعاؤن چاہے علمی، مالی، سیاسی اور معاشی ہو یا اخلاقی، ہر صورت میں قابل قدر ہے، اس لیئے ہمیں زندگی کے کسی بھی مرحلے میں اپنے معاونین کو فراموش نہیں کرنا چاہیئے۔

آئیے!موضوع کی مناسبت سے یہاں شیخ سعدی رحمۃ اللہ علیہ کی ایک حکایت پر نظر ڈالتے ہیں تاکہ ہمیں معاونین اور محسنین کی اہمیت کا احساس ہمارے دلوں میں ہمہ وقت بیدار رہے ہے:

واقعہ یہ ہے کہ شیخ سعدی رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں، میں کسی راستے سے گزر رہا تھا۔ دیکھا تو ایک نوجوان آگے آگے جارہا ہے اور ہرن کا بچہ اس کے پیچھے پیچھے چل رہا ہے۔ میں سمجھا کہ شاید اس نوجوان نے اسے رسی سے باندھ رکھا ہے جبھی یہ پیچھے چلتا جارہا ہے، لیکن بڑی حیرت ہوئی جب غور سے دیکھا اور کوئی رسّی نظر نہ آئی۔
میں نے نوجوان سے پوچھا:
’’برخوردار! یہ ایسا جانور ہے جو انسان کی شکل دیکھ کر گھبرا جاتا ہے۔ لیکن یہ تم سے اس قدر مانوس ہوگیا۔ آخر اس کی وجہ کیا ہے؟‘‘
نوجوان نے کہا:
’’میں اس کی غذا کی فکر میں لگا رہتا ہوں۔ اسے کھلاتا پلاتا ہوں۔ یہی وہ احسان ہے جس نے اسے میرے ساتھ باندھ رکھا ہے۔ احسان اور نیکی، رسی اور زنجیر سے زیادہ مضبوط ہے۔‘‘شیخ سعدی کہتے ہیں، میں نے سوچا بات سچ ہے۔ احسان اور نیکی کی مثال مضبوط رسی کی طرح ہے۔ یہ درندوں اور جانوروں کو بھی فرماں بردار اور وفادار بنادیتی ہے۔ پھر اگر کسی انسان کے ساتھ احسان کیا جائے تو وہ کیوں دوست نہ بن جائے؟(حکایات سعدی)

اس واقعے سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ ہم اپنے محسنوں اور معاونوں کو ہمیشہ عزت دین اور انہیں یاد رکھیں، بصورت دیگر ہم جانوروں کی فہرست سے بھی نیچے آجائینگے۔اس سلسلے میں قرآنی اصول بھی ہمیں ضرور یاد رکھنا چاہیئے کہ شکریہ ادا کرنے سے انعام میں اضافہ ہوتا ہے اور ناشکری سے نعمت چھن جاتی ہے اور ترقی کے راستے مسدود ہو جاتے ہیں۔

Share This Article
کوئی تبصرہ نہیں ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Trending News

مرکزالمعارف ممبئی میں اکیسواں جلسۂ تقسیمِ اسناد کا شاندار انعقاد

مرکزالمعارف ممبئی میں اکیسواں جلسۂ تقسیمِ اسناد کا شاندار انعقاد ای سی…

Eastern

ایران، عالمی مزاحمت اور مغربی بالادستی کا زوال

ایران، عالمی مزاحمت اور مغربی بالادستی کا زوال از: محمد برہان الدین…

Eastern

”سامعین کی توجہ اور فکری وزن کے بغیر تقریر بے اثر ہے“_سہیل مسعود

”سامعین کی توجہ اور فکری وزن کے بغیر تقریر بے اثر ہے“_سہیل…

Eastern

ٹریل بلیزر: فکر، ایمان و سائنس کا سنگم

ٹریل بلیزر: فکر، ایمان و سائنس کا سنگم از____ محمد توقیر رحمانی…

Eastern

ماہ ربیع الاول اور اسوۂ نبوی ﷺ کا تقاضا

ماہ ربیع الاول اور اسوۂ نبوی ﷺ کا تقاضا از____ محمد توقیر…

Eastern

انسان کی تخلیق محض وجود کیلئےنہیں ، خلافتِ ارضی کی عظیم ذمہ داری کیلئے ہے

انسان کی تخلیق محض وجود کیلئےنہیں ، خلافتِ ارضی کی عظیم ذمہ…

Eastern

Quick LInks

موجودہ وقت میں زکوۃ کے بہترین مصارف مدارسِ دینیہ کے طلبہ ہیں

زکوٰۃ کی جمع و تقسیم شرعی و دینی مسائل و  معلومات دین…

Eastern

جامعہ اسلامیہ کوکن — دینی و عصری تعلیم کا حسین امتزاج

جامعہ اسلامیہ کوکن — دینی و عصری تعلیم کا حسین امتزاج از:…

Eastern

بھارت کیلئے نئی ہمسایہ سفارتی حکمت عملی اب محض ایک اختیار نہیں بلکہ ایک تزویراتی ضرورت ہے

بھارت کیلئے نئی ہمسایہ سفارتی حکمت عملی اب محض ایک اختیار نہیں…

Eastern