ٹرینڈنگ
مرکز المعارف ایجوکیشن اینڈ ریسرچ سینٹر، ممبئی میں انگریزی تقریری مقابلے کا انعقادشیخ محمد یحییٰ باسکندی کی مرکز المعارف، ممبئی آمد؛ طلبہ سے خطاب، تعلیم، تزکیہ اور تعلق مع اللہ کی اہمیت پر زورکیا ملت کو بیدار کرنے کی تمام کوششیں بند کردی جائیں!تحریک ریشمی روما ل: تاریخ کا ایک فراموش کردہ باباسلام اسپیکس: زبانِ عصر میں پیغامِ اسلام کی مؤثر ترجمانیملی اداروں کا مستقبل اور نوکِ قلم پر لٹکتی تلوار: ایف سی آر اے (FCRA) ترمیمی بل 2026 کا ایک تجزیہہواہےگوتیزوتندلیکن چراغ اپناجلارہاہےعالمی مذاہب میں حیات بعد الممات کا تصور: ایک تقابلی جائزہمرکز المعارف ایجوکیشن اینڈ ریسرچ سینٹر، ممبئی میں انگریزی تقریری مقابلے کا انعقادشیخ محمد یحییٰ باسکندی کی مرکز المعارف، ممبئی آمد؛ طلبہ سے خطاب، تعلیم، تزکیہ اور تعلق مع اللہ کی اہمیت پر زورکیا ملت کو بیدار کرنے کی تمام کوششیں بند کردی جائیں!تحریک ریشمی روما ل: تاریخ کا ایک فراموش کردہ باباسلام اسپیکس: زبانِ عصر میں پیغامِ اسلام کی مؤثر ترجمانیملی اداروں کا مستقبل اور نوکِ قلم پر لٹکتی تلوار: ایف سی آر اے (FCRA) ترمیمی بل 2026 کا ایک تجزیہہواہےگوتیزوتندلیکن چراغ اپناجلارہاہےعالمی مذاہب میں حیات بعد الممات کا تصور: ایک تقابلی جائزہ

مادیت کے عہد میں ایمان کی آزمائش

0%
مادیت کے عہد میں ایمان کی آزمائش
تہذیب وثقافت

مادیت کے عہد میں ایمان کی آزمائش

Eastern
1 min read54 views
Save this article for later

مادیت کے عہد میں ایمان کی آزمائش

از: مولانا صادق ابو حسان پوترک فلاحی

یہ زمانہ ایک عجیب تضاد کا حامل ہے۔ ایک طرف دنیا ترقی کی معراج پر ہے، اور دوسری طرف انسانیت بے بسی اور کرب کی تصویر بنی ہوئی ہے۔ ایک باشعور مسلمان جب اپنے اطراف کا منظر دیکھتا ہے—کہیں شہر ملبے کا ڈھیر بنے ہوئے ہیں، کہیں ظلم کی زنجیریں انسان کو جکڑے ہوئے ہیں—تو اس کے دل میں ایک سوال سر اٹھاتا ہے: آخر ان  سب کی حقیقت کیا ہے؟
یہ سوال دراصل دل کے زندہ ہونے کی علامت ہے۔ ایک ایسا دل جو ابھی احساس سے خالی نہیں ہوا۔ قرآن اس سوال کو نظرانداز نہیں کرتا بلکہ اس کا جواب دیتا ہے—ایسا جواب جو انسان کو صرف دلاسہ نہیں دیتا بلکہ اس کی نگاہ کو حقیقت کی تہہ تک لے جاتا ہے۔ وہ بتاتا ہے کہ یہ سب محض حالات کا جبر نہیں بلکہ ایک الٰہی نظام کے تحت جاری آزمائش ہے۔
قرآن کی روشنی میں ایمان ایک دعوے کا نام نہیں بلکہ ایک امتحان ہے۔ یہ صرف زبان سے ادا کیے گئے الفاظ نہیں، بلکہ ایک ایسا عہد ہے جسے حالات کی سختی میں پرکھا جاتا ہے۔ انسان کو یہ ثابت کرنا ہوتا ہے کہ وہ اپنی خواہشات اور مفادات کے مقابلے میں اللہ کی رضا کو ترجیح دیتا ہے۔ یہی وہ کسوٹی ہے جس پر ایمان کی سچائی ظاہر ہوتی ہے۔

Advertisement
Advertisement

بدقسمتی سے ایمان کو بہت سطحی بنا دیا گیا ہے۔ اسے چند عبادات اور ظاہری اعمال تک محدود سمجھ لیا گیا ہے، حالانکہ اسلام ایک مکمل ضابطۂ حیات ہے۔ یہ انسان کی سوچ، اس کے فیصلوں اور اس کی ترجیحات کو بھی اپنے دائرے میں لیتا ہے۔ مگر عمومی رویہ یہ بن چکا ہے کہ اسلام کو ایک شناخت کے طور پر اختیار کیا جائے، نہ کہ ایک مکمل نظام کے طور پر۔ ہر دور میں اہلِ ایمان کو مختلف نوعیت کی آزمائشوں کا سامنا رہا ہے۔ کبھی یہ آزمائش کھلے جبر کی صورت میں سامنے آئی، اور کبھی نرم مگر فریب دینے والی شکل میں۔ موجودہ دور کی آزمائش کا پہلو زیادہ لطیف اور گہرا ہے۔ یہ براہِ راست تصادم کی صورت میں نہیں بلکہ ایک دلکش تصور کے طور پر سامنے آتی ہے، جسے مادیت کہا جا سکتا ہے۔

مادیت ایک ایسا نظریہ ہے جو انسان کے ذہن میں یہ تصور راسخ کرتا ہے کہ کامیابی کا معیار صرف دولت ہے، عزت کا تعلق شہرت سے ہے، اور طاقت کا سرچشمہ منصب ہے۔ اس سوچ کے اثر میں انسان آہستہ آہستہ اپنی اقدار کو انہی پیمانوں پر پرکھنے لگتا ہے، یہاں تک کہ حق بھی مفاد کے تابع ہو جاتا ہے۔ اس کیفیت میں انسان بظاہر دین سے وابستہ رہتا ہے، مگر اس کی عملی ترجیحات بدل جاتی ہیں۔ وہ کھلے طور پر باطل کا ساتھ نہیں دیتا، مگر سچائی کے تقاضوں سے پیچھے ہٹ جاتا ہے۔ قرآن ایسے رویے کو اس شخص سے تشبیہ دیتا ہے جو ایمان کو غیر مستحکم بنیاد پر قائم رکھتا ہے—حالات سازگار ہوں تو مطمئن، اور مشکل آئے تو پیچھے ہٹ جانے والا۔ یہ طرزِ فکر دراصل ایمان کے ایک غلط تصور کا نتیجہ ہے۔ بہت سے افراد یہ سمجھتے ہیں کہ ایمان اختیار کرنے کے بعد زندگی آسان ہو جائے گی، مشکلات ختم ہو جائیں گی، اور ہر مرحلے پر سہولت میسر ہوگی۔ مگر جب حقیقت اس کے برعکس سامنے آتی ہے، تو وہ مایوسی میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔

قرآن اس کے برعکس ایک مختلف زاویہ پیش کرتا ہے۔ وہ واضح کرتا ہے کہ ایمان کے ساتھ آزمائش لازم ہے، اور یہی آزمائش انسان کی تربیت کا ذریعہ بنتی ہے۔ تاریخِ انبیاء اس حقیقت کی روشن مثال ہے۔ حضرت یوسف علیہ السلام کی زندگی ہو یا نبی کریم ﷺ کی جدوجہد—ہر جگہ آزمائش کے ذریعے کردار کو نکھارا گیا۔ قرآن کا صبر بے عملی نہیں بلکہ استقامت ہے۔ یہ کمزوری نہیں بلکہ قوت کا اظہار ہے۔ یہ خاموش رہنے کا نام نہیں بلکہ حق پر قائم رہنے کا حوصلہ ہے، خواہ حالات کتنے ہی دشوار کیوں نہ ہوں۔ اسی لیے قرآن انسان کو صرف حالات پر افسوس کرنے کی دعوت نہیں دیتا بلکہ خود احتسابی اور اصلاح کی طرف متوجہ کرتا ہے۔ حقیقی تبدیلی کا آغاز فرد کے اندر سے ہوتا ہے۔ جب فکر بدلے گی، جب ترجیحات درست ہوں گی، تب معاشرہ بھی بدلنے لگے گا۔

فلسطین: قبضہ اور مزاحمت
ADVERTISEMENT

اصل سوال یہ ہے کہ اللہ سے ہمارا تعلق کس بنیاد پر قائم ہے۔ اگر یہ تعلق مفاد پر مبنی ہے تو وہ دیرپا نہیں ہو سکتا۔ مگر اگر یہ تعلق محبت، یقین اور بندگی پر قائم ہو تو پھر حالات کی سختی بھی اسے متزلزل نہیں کر سکتی۔
اللہ تعالیٰ ایسے ہی ایمان والوں کو دنیا اور آخرت میں استقامت عطا کرتا ہے۔ مگر اس کے لیے ضروری ہے کہ ایمان محض الفاظ تک محدود نہ رہے بلکہ دل کی گہرائیوں میں جاگزیں ہو جائے۔
یہ دور بلاشبہ ایک آزمائش ہے، مگر یہی آزمائش انسان کی تعمیر کا ذریعہ بھی بن سکتی ہے۔ اگر اس حقیقت کو سمجھ لیا جائے تو شکوہ کی جگہ شعور لے لیتا ہے، اور مایوسی کی جگہ عمل جنم لیتا ہے۔ یہی وہ موڑ ہے جہاں سے بیداری کا سفر شروع ہوتا ہے۔

Eastern

Eastern

Staff writer at Eastern Crescent Urdu.

View all posts →

Comments (0)

Leave a Comment

اوپر تک سکرول کریں۔