حلالہ: ایک نتیجہ ہے، کوئی منصوبہ نہیں

Eastern
8 Min Read
43 Views
8 Min Read
حلالہ: ایک نتیجہ ہے، کوئی منصوبہ نہیں
از: مفتی محمد سلمان دانش  قاسمی
 ریسرچ اسکالر ، مانو
حلالہ دراصل کسی منصوبہ بند عمل یا طریقہ کا نام نہیں، بلکہ طلاق کے ایک ممکنہ نتیجے کا نام ہے۔ اسلام نے ابتدا ہی سے دو خاندانوں کے درمیان رشتے کو مضبوط اور خوشگوار بنانے کے لیے ہر ممکن تدبیر کی اجازت دی۔
حتیٰ کہ غیر محرم پر نگاہ ڈالنا حرام تھا، مگر نکاح سے پہلے ایک نظر دیکھنے کی اجازت دی گئی تاکہ بعد میں رشتہ پشیمانی یا ناگواری کا سبب نہ بنے۔ حدیث شریف میں ہے:  مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ “میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں ایک عورت سے نکاح کی پیشکش کی تھی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تم نے اسے دیکھا ہے؟ میں نے کہا: ’’نہیں۔‘‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر اسے دیکھو، کیونکہ اس سے تمہارے درمیان ہم آہنگی پیدا ہونے کا زیادہ امکان ہے۔‘‘ (نسائی، کتاب النکاح)
پھر باہمی رضامندی کو لازمی قرار دیا گیا، دینداری کو ترجیح دی گئی، اور نکاح کے تمام اصول و آداب کو طے کر کے ازدواجی زندگی کا آغاز ہوا۔
اب ظاہر ہے کہ ایسے نکاح کا فطری تقاضا یہ تھا کہ میاں بیوی تاحیات محبت، رواداری اور باہمی احترام کے ساتھ زندگی گزاریں اور علیحدگی کے بارے میں کبھی سوچیں بھی نہیں۔
لیکن انسانی مزاج اور فطرت میں اختلافات ممکن ہیں۔ بعض اوقات تمام تر کوششوں اور حسنِ تدبیر کے باوجود رشتہ قائم نہیں رہ پاتا۔ اسی صورت کے لیے شریعت نے طلاق اور خلع دونوں کے راستے رکھے، مگر طلاق کو “أبغض المباحات” یعنی جائز مگر ناپسندیدہ عمل قرار دیا۔
اسلام نے طلاق کا بھی ایک منظم طریقہ بتایا کہ شوہر عورت کے طہر (پاکی) کی حالت میں ایک طلاق دے، کیونکہ حیض کی حالت میں عورت کا مزاج عموماً چڑچڑا ہوتا ہے اور شوہر بھی اس حالت میں کچھ کدورت محسوس کرتا ہے۔ جبکہ طہر کی حالت میں رغبت رہتی ہے، ایسی حالت میں طلاق دینا اس بات کی علامت ہے کہ فیصلہ جذباتی نہیں بلکہ سوچ سمجھ کر اور مجبوری میں کیا گیا ہے۔
طلاق کے بعد شریعت کی یہ توقع ہوتی ہے کہ دونوں اپنی راہیں جدا کر لیں، کیونکہ رشتہ نبھانے کی ہر ممکن کوشش پہلے ہی کی جا چکی ہوتی ہے۔ مزید یہ کہ عورت دوبارہ بیوی بن کر ایسے غیر سنجیدہ مرد کے پاس نہ جائے جو پہلے ہی اس کے ساتھ عدل و وفا کا حق ادا نہ کر سکا ہو۔
Advertisement
Advertisement
اسی حکمت کے پیشِ نظر شریعت نے تین طلاقوں کے بعد میاں بیوی کو دوبارہ نکاح کا اختیار نہیں دیا، تاکہ طلاق کو وقتی جذبات یا معمولی غصے کا کھیل نہ بنایا جائے۔ اسلام نے مرد کو تین طلاقوں کا حق اس لیے دیا تھا کہ وہ ناگزیر حالات میں، سوچ سمجھ کر، اس حق کو استعمال کرے؛ لیکن جب وہ اپنے اس حق کا غلط استعمال کر کے اسے ضائع کر دیتا ہے، تو شریعت اس کے لیے سزا کے طور پر یہ پابندی عائد کرتی ہے کہ اب وہ اپنی سابقہ بیوی سے دوبارہ نکاح نہیں کر سکتا۔
البتہ  پہلی عورت سے دوبارہ  نکاح کرنے  کے لیے مرد کے لیے یہ شرط نہیں رکھی گئی کہ وہ  پہلے کسی دوسری عورت سے نکاح کرے اور پھر طلاق ہو اس کے بعد ہی پہلی بیوی سے نکاح جائز ہو ، (جیسا کہ پہلے شوہر سے نکاح کے لیے عورت کے لیے یہ شرط ہے)۔ اس کی مندرجہ ذیل وجوہات ہو سکتی ہیں:
اولاً، مرد کے لیے نکاح کوئی سزا نہیں بلکہ فطری رجحان ہے، وہ تو بہرحال نئے نکاح کی کوشش میں رہتا ہے۔ 
ثانیاً، اگر اس پر دوسرا نکاح لازم قرار دے دیا جاتا تو اس کے ذمے نیا مہر اور نیا مالی بوجھ بھی عائد ہوتا، جو شریعت کے توازن اور عدل کے منافی ہے۔
ثالثا،  پہلی بیوی سے نکاح حلال ہونے کے لیے اگر مرد کے لیے بھی کسی دوسری عورت سے نکاح کی شرط رکھی جائے، تو اس کی دو ممکنہ صورتیں ہوں گی: یا تو اس کے لیے پہلی بیوی سے دوبارہ  نکاح سے قبل دوسری بیوی کو طلاق دینا لازم ہوگا، یا دوسری بیوی کو طلاق دیے بغیر پہلی بیوی اس  کے لیے حلال ہوگی۔
پہلی صورت میں دوسری بیوی پر ظلم ہوگا کہ محض پہلی بیوی سے نکاح کی راہ ہموار کرنے کے لیے اسے طلاق دلوائی گئی ہے۔ جب کہ دوسری صورت میں  پہلی بیوی کو ناگواری  اور دل آزاری ہوگی کہ اب  اس کی کوئی سوکن ہے، اور جو پہلے  اس شوہر کی پہلی بیوی تھی اب وہ اسی شوہر کی دوسری بیوی بننے جا رہی ہے۔ 
بہرحال پہلے شوہر سے طلاق کے بعد عورت کے لیے صرف ایک راستہ بچتا ہے کہ وہ کسی دوسرے مرد سے نکاح کرے۔ اگر اتفاق سے اس دوسرے شوہر کے ساتھ بھی نباہ نہ ہو سکے اور طلاق واقع ہو جائے،  یا دوسرے شوہر کا انتقال ہوجائے، تو اب شریعت نے اس عورت پر رحمت کے طور پر ایک نیا آپشن دیا یا کہہ لیں دو آپشنز دیے:
پہلا آپشن یہ کہ وہ کسی تیسرے مرد سے نکاح کرے اور پاکیزگی و عفت کے ساتھ زندگی گزارے۔
دوسرا نیا آپشن یہ کہ اب وہ پہلے شوہر سے بھی دوبارہ نکاح کر سکتی ہے، اور اس وقت اس شوہر سے نکاح حلال ہے اور یہی نتیجہ ’’حلالہ‘‘ کہلاتا ہے۔
Advertisement
Advertisement
خلاصہ یہ ہے کہ "حلالہ” کسی منصوبہ بند عمل اور پروسیس کا نام نہیں،  بلکہ ایسے لوگوں  پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم  نے لعنت  فرمائی ہے: "اللہ کی لعنت ہے حلالہ کرنے والے پر اور جس کے لئے حلالہ کیا جائے اس پر”۔ 
حلالہ طلاق کے بعد پیدا ہونے والے حالات کا ایک شرعی نتیجہ ہے، جو عورت کے لیے تنگی نہیں بلکہ آسانی اور رحمت کا پہلو رکھتا ہے کہ اب وہ اپنے سابق شوہر سے بھی نکاح کر سکتی ہے۔ دوسرے شوہر سے مطلقہ ہونے یا اس کی موت کے بعد  بیوہ ہوجانے کی  صورت میں عورت کو مزید ایک اور آپشن (پہلے شوہر سے دوبارہ نکاح)  کا مل جانا عورت کے لیے رحمت ہے نہ کہ عذاب۔
مضمون نگار مفتی محمد سلمان دانش  قاسمی مولانا آزا دنیشنل  یونیورسیٹی میں ریسرچ اسکالر ہیں
Share This Article
کوئی تبصرہ نہیں ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Trending News

”سامعین کی توجہ اور فکری وزن کے بغیر تقریر بے اثر ہے“_سہیل مسعود

”سامعین کی توجہ اور فکری وزن کے بغیر تقریر بے اثر ہے“_سہیل…

Eastern

ٹریل بلیزر: فکر، ایمان و سائنس کا سنگم

ٹریل بلیزر: فکر، ایمان و سائنس کا سنگم از____ محمد توقیر رحمانی…

Eastern

ماہ ربیع الاول اور اسوۂ نبوی ﷺ کا تقاضا

ماہ ربیع الاول اور اسوۂ نبوی ﷺ کا تقاضا از____ محمد توقیر…

Eastern

انسان کی تخلیق محض وجود کیلئےنہیں ، خلافتِ ارضی کی عظیم ذمہ داری کیلئے ہے

انسان کی تخلیق محض وجود کیلئےنہیں ، خلافتِ ارضی کی عظیم ذمہ…

Eastern

نئے زمانے کے نئے بت

نئے زمانے کے نئے بت ازــــــ محمد توقیر رحمانی زمانے کی گردِش…

Eastern

زندیقیت کا سیلاب، الحاد کی فکری استعماریت کا مظہر اور اسلامی شعور کا کڑا امتحان ہے

زندیقیت کا سیلاب، الحاد کی فکری استعماریت کا مظہر اور اسلامی شعور…

Eastern

Quick LInks

ابوعبیدہ یعنی حذیفہ سمیر عبد اللہ الکحلوت

ابوعبیدہ یعنی حذیفہ سمیر عبد اللہ الکحلوت از: خورشید عالم داؤد قاسمی…

Eastern

”سامعین کی توجہ اور فکری وزن کے بغیر تقریر بے اثر ہے“_سہیل مسعود

”سامعین کی توجہ اور فکری وزن کے بغیر تقریر بے اثر ہے“_سہیل…

Eastern

نیشنل کمیشن فار ویمن سے مسلم ویمن کے ایک وفد نے ملاقات کرکے  اپنی شکایت  درج کرائی!

  نیشنل کمیشن فار ویمن سے مسلم ویمن کے ایک وفد نے…

Eastern