قربانی صرف مسلمان نہیں کرتے!
از: مدثر احمد قاسمی
اسسٹنٹ ایڈیٹر ایسٹرن کریسنٹ، ممبئی
دنیا کی مذہبی تاریخ پر اگر غیر جانب دارانہ نظر ڈالی جائے تو یہ حقیقت بالکل واضح ہو جاتی ہے کہ قربانی کا تصور صرف اسلام یا مسلمانوں کے ساتھ مخصوص نہیں ہے، بلکہ یہ قدیم زمانوں سے مختلف مذاہب، تہذیبوں اور قوموں کی مذہبی و روحانی روایت کا ایک اہم حصہ رہا ہے۔ ہندوستان جیسے کثیر مذہبی ملک میں آج بھی ہندو برادرانِ وطن کے بعض طبقات میں قربانی اور نذر کی روایات کسی نہ کسی صورت میں موجود ہیں۔
اسلامی قربانی کی ایک عظیم خصوصیت یہ ہے کہ اس کے اثرات صرف روحانیت تک محدود نہیں بلکہ اس کے معاشرتی اور معاشی فوائد بھی نہایت وسیع ہیں۔ عید الاضحیٰ کے موقع پر لاکھوں افراد کا روزگار اس عبادت سے وابستہ ہوتا ہے۔ مویشی پالنے والے کسان، چارہ فروش، ٹرانسپورٹ سے وابستہ افراد، چمڑے کی صنعت، قصاب، غریب مزدور اور دیگر کئی شعبے اس موقع پر معاشی طور پر مستفید ہوتے ہیں۔ یوں قربانی نہ صرف غرباء و مساکین تک غذائیت پہنچانے کا ذریعہ بنتی ہے بلکہ ملکی معیشت کو بھی تقویت عطا کرتی ہے۔
یہ اسلام کی وسعت، اعتدال اور آسانی کا بھی روشن ثبوت ہے کہ قربانی کو کسی ایک مخصوص جانور تک محدود نہیں رکھا گیا، بلکہ مختلف حلال جانوروں کے اختیارات دیے گئے تاکہ ہر خطے، ہر ماحول اور ہر معاشی طبقے کے لوگ اپنی سہولت اور حالات کے مطابق اس عبادت کو انجام دے سکیں۔
لہٰذا مسلمانانِ ہند کو چاہیے کہ وہ خوف و ہراس یا احساسِ کمتری کا شکار ہوئے بغیر حکمت، قانون کی پاسداری اور حسنِ اخلاق کے ساتھ اس فریضے کو انجام دیں، کیونکہ قربانی صرف ایک مذہبی فریضہ نہیں بلکہ انسانیت، روحانیت اور اجتماعی بھلائی کا حسین پیغام بھی ہے۔