جولائی ۲۰۲۶: وہ مہینہ جب ہندوستانی ٹیلی ویژن نیوز کے زوال سے انکار ناممکن ہو گیا

Eastern
10 Min Read
1 View
10 Min Read

جولائی ۲۰۲۶: وہ مہینہ جب ہندوستانی ٹیلی ویژن نیوز کے زوال سے انکار ناممکن ہو گیا

از: محمد برہان الدین قاسمی
ایڈیٹر: ایسٹرن کریسنٹ، ممبئی

جولائی ۲۰۲۶ کو مستقبل میں ہندوستانی ذرائع ابلاغ کی تاریخ کا ایک فیصلہ کن موڑ قرار دیا جائےگا۔ علومِ انسانی، صحافت، سیاسیات، سماجیات اور میڈیا اسٹڈیز کے طلبہ اور محققین کے لیے یہ مہینہ اس دور کی علامت بن سکتا ہے جب ہندوستانی ٹیلی ویژن نیوز کا زوال محض ایک پیشن گوئی نہیں رہا بلکہ ایک ناقابلِ تردید حقیقت بن کر سامنے آگیا۔

یہ امر بھی نہایت قابلِ توجہ ہے کہ رپورٹرز ودآؤٹ بارڈرز (RSF) کی شائع کردہ ورلڈ پریس فریڈم انڈیکس ۲۰۲۶ کے مطابق ہندوستان ۱۸۰ ممالک میں ۱۵۷ویں نمبر پر جا پہنچا ہے۔ ۲۰۱۴ میں ۱۰۵ویں مقام سے ۲۰۲۵ میں ۱۵۱ویں اور پھر ۲۰۲۶ میں مزید تنزلی کے ساتھ ۱۵۷ویں نمبر پر پہنچ جانا نہایت تشویش ناک ہے۔ آج ہندوستان اس فہرست میں اپنے کئی ہمسایہ ممالک، مثلاً نیپال (۸۷)، سری لنکا (۱۳۴)، بھوٹان (۱۵۰)، بنگلہ دیش (۱۵۲) اور پاکستان (۱۵۳) سے بھی پیچھے کھڑا ہے۔

البتہ یہ تبدیلی یکایک جولائی ۲۰۲۶ میں رونما نہیں ہوئی۔ اس کےآثار ۲۰۱۹ ہی سے نمایاں ہونا شروع ہو گئے تھے، مگر اس وقت تک کوئی ایسا واضح اور قابلِ پیمائش واقعہ سامنے نہیں آیا تھا جسے اس تاریخی تبدیلی کا فیصلہ کن ثبوت قرار دیا جا سکے۔ میری رائے میں ملک گیر پیمانے پر طلباء (CJP) کے احتجاجی تحریک نے یہی کردار ادا کیا۔ اس تحریک نے ثابت کردیا کہ ہندوستان کی ایک بڑی آبادی اب خبروں، تجزیوں اور سیاسی رہنمائی کے لیے ٹیلی ویژن نیوز چینلوں کی طرف رجوع نہیں کرتی۔ رائے عامہ کی تشکیل، سیاسی مباحث، فکری کشمکش اور عوامی بیانیے کی تخلیق کا اصل مرکز اب ڈیجیٹل دنیا بن چکی ہے۔

جولائی ۲۰۲۶: وہ مہینہ جب ہندوستانی ٹیلی ویژن نیوز کے زوال سے انکار ناممکن ہو گیا

سن ۲۰۱۹ میں میں نے ایک تفصیلی مضمون میں یہ پیش گوئی کی تھی کہ آئندہ دس سے پندرہ برسوں کے اندر ہندوستان میں ٹیلی ویژن نیوز بھی رفتہ رفتہ وہی مقام اختیار کر لے گی جو کبھی پرنٹ میڈیا کا مقدر بنا تھا، یعنی قومی سطح پر خبر رسانی کے بنیادی ذریعہ کی حیثیت سے اس کی بالادستی ختم ہو جائے گی۔ میرا خیال تھا کہ یہ تبدیلی بتدریج اور طویل عرصے میں واقع ہوگی، مگر حقیقت یہ ہے کہ یہ عمل میری اپنی توقع سے کہیں زیادہ تیزی سے مکمل ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔

۲۷ جولائی ۲۰۲۶ کے واقعات نے اس تاثر کو مزید تقویت بخشی۔ اطلاعات کے مطابق ہندوستان کے ایک بڑے میڈیا ادارے نے آمدنی میں مسلسل کمی کے باعث تقریباً ۱۲۵ ملازمین کو ملازمت سے فارغ کر دیا، جن میں ایڈیٹرز، نیوز اینکرز، کیمرہ پرسنز، پروڈکشن اسٹاف اور حتیٰ کہ ڈرائیور بھی شامل تھے۔ اسی طرح بڑے، درمیانے اور چھوٹے متعدد ٹیلی ویژن اداروں میں عملے کی مسلسل چھانٹی، تنظیمِ نو اور بعض صورتوں میں نیوز آپریشنز کو بند کردینے کا سلسلہ بھی جاری ہے۔ ممکن ہے بعض ادارے اس بحران سے نکل آئیں، مگر مجموعی طور پر صنعت کا رخ اب واپس پلٹتا ہوا دکھائی نہیں دیتا۔

مصنوعی ذہانت (Artificial Intelligence) نے اس تبدیلی کے عمل کو غیر معمولی رفتار عطا کر دی ہے۔ AI سے تقویت یافتہ سرچ انجن، سفارشاتی نظام (Recommendation Engines)، خودکار تحریر سازی، فوری ترجمہ، خلاصہ نویسی اور ہر صارف کی دلچسپی کے مطابق خبروں کی فراہمی نے نہ صرف صحافت بلکہ خبر کے استعمال کے پورے طریقۂ کار کو بدل کر رکھ دیا ہے۔ ڈیجیٹل پلیٹ فارموں کی برق رفتاری کے ساتھ جب AI کی طاقت یکجا ہوئی تو روایتی ٹیلی ویژن نیوز بلیٹن سست، جامد اور جدید ناظرین کی توقعات سے ہم آہنگ نہ رہ سکے۔

Advertisement
Advertisement

اس تبدیلی کا ایک نہایت اہم پہلو نسلی (Generational) تبدیلی بھی ہے۔ جنریشن زی (Generation Z)، جو مکمل طور پر ڈیجیٹل ماحول میں پروان چڑھی ہے، آزاد فکر، تیز فہم اور روایتی معلوماتی اجارہ داریوں پر آسانی سے یقین نہ کرنے والی نسل ہے۔ اس کے لیے خبر مقررہ وقت پر نشر ہونے والی چیز نہیں بلکہ ہر لمحہ دریافت، جانچ، بحث اور شیئر کیے جانے والا مواد ہے۔

اس تبدیلی کو مزید تقویت جنریشن ایکس (Generation X) نے دی، جس نے ٹیکنالوجی کے ساتھ خود کو حیرت انگیز حد تک ہم آہنگ کیا اور نئے ذرائع ابلاغ کو کھلے دل سے قبول کیا۔ ان دونوں نسلوں نے مل کر میڈیا کے پورے منظرنامے کو تبدیل کر دیا ہے۔

اب صورتِ حال یہ ہے کہ صحافت کا مستقبل بڑے ٹیلی ویژن اسکرینوں پر نہیں بلکہ چھوٹی، ذہین اور ہر وقت ہاتھ میں موجود اسمارٹ اسکرینوں پر منتقل ہو چکا ہے۔ اسمارٹ فون آج نیوز روم بھی ہے، اخبار بھی، ٹیلی ویژن بھی اور عوامی چوک بھی، جہاں ہر لمحہ رائے بنتی، بگڑتی اور تبدیل ہوتی رہتی ہے۔

اس انقلاب کے معاشی اثرات بھی کم گہرے نہیں۔ وہ اشتہاراتی آمدنی جو کبھی اخبارات اور ٹیلی ویژن چینلوں کی زندگی کی ضمانت تھی، اب بڑی حد تک فیس بک، انسٹاگرام، یوٹیوب، گوگل اور دیگر ڈیجیٹل پلیٹ فارموں کی طرف منتقل ہو چکی ہے۔ نتیجتاً ٹیلی ویژن نیوز کی معاشی بنیاد سال بہ سال کمزور ہوتی گئی۔

Advertisement
Advertisement

اصل اور زیادہ تباہ کن زوال میڈیا کی ساکھ کا زوال ہے۔ سنسنی خیزی، سیاسی جانبداری، چیخ و پکار پر مبنی مباحث، متعصبانہ اینکرنگ اور شخصی نمائش پر مبنی پروگرامنگ کی دوڑ میں ہندوستانی ٹیلی ویژن صحافت کے ایک بڑے حصے نے صحافت کے بنیادی اصول—غیر جانب داری، دیانت، حقائق کی تصدیق، ادارتی خودمختاری، توازن اور عوامی جواب دہی—کو پسِ پشت ڈال دیا۔ جب اعتماد ٹوٹا تو ناظرین بھی رخصت ہو گئے؛ ناظرین کم ہوئے تو TRP گری؛ اور جب TRP گری تو اشتہاراتی آمدنی بھی ساتھ ہی ڈوبتی چلی گئی۔ گویا کاروبار کا زوال اصل مسئلہ نہیں تھا، بلکہ ساکھ کا زوال اس کی بنیادی وجہ تھا۔

اب تمام شواہد ایک ہی سمت اشارہ کر رہے ہیں۔ ڈیجیٹل میڈیا کے عروج، مصنوعی ذہانت کی بے مثال طاقت، اشتہاراتی معیشت کی تبدیلی، نسلوں کے بدلتے مزاج، اور خود ٹیلی ویژن نیوز کی گرتی ہوئی ساکھ نے مل کر ہندوستانی ٹیلی ویژن نیوز کو اس مقام پر پہنچا دیا ہے جہاں، میری رائے میں، اسے اب ملک کے غالب خبر رساں ذریعہ کے طور پر زندہ رکھنا تقریباً ناممکن ہو چکا ہے۔ اگر یہ کہنا مبالغہ نہ ہو تو جولائی ۲۰۲۶ وہ مہینہ ہے جس نے ہندوستانی ٹیلی ویژن نیوز کے زوال پر آخری کیل ٹھونک دی۔

تاریخ ہمیں یہی سبق دیتی ہے کہ کوئی بھی مواصلاتی ٹیکنالوجی ہمیشہ کے لیے غالب نہیں رہتی۔ ایک زمانہ تھا جب ریڈیو گھروں پر حکمرانی کرتا تھا، پھر اس کی جگہ ٹیلی ویژن نے لے لی۔ انٹرنیٹ آیا تو فیکس مشینیں ماضی کا قصہ بن گئیں، اور پرنٹ میڈیا اپنی سابقہ اجارہ داری کھو بیٹھا۔ آج ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ٹیلی ویژن نیوز بھی تاریخ کے اسی باب میں داخل ہو رہی ہے، جہاں پرانی ٹیکنالوجیاں اپنی بقا نہیں بلکہ عجائب گھروں میں اپنی جگہ تلاش کرتی ہیں۔

شاید اب وقت آ گیا ہے کہ ہم صرف بڑے بڑے ٹیلی ویژن اسکرینوں ہی کو نہیں بلکہ اُن بدنام پرائم ٹائم اینکروں (Infamous Prime-time Anchors) کے دور کو بھی الوداع کہیں، جن کی ڈرامائی اداکاری، چیخ و پکار، شور انگیز مباحث اور شخصیت پرستی نے اکثر صحافت کو پس منظر میں دھکیل دیا۔ ممکن ہے وہ کچھ عرصہ اور نظر آتے رہیں، لیکن ان کا اثر و رسوخ مسلسل سکڑتا جا رہا ہے۔ بعید نہیں کہ آنے والی نسلیں انہیں بھی ریڈیو، وی سی آر اور فیکس مشینوں کی طرح ذرائع ابلاغ کی تاریخ کے عجائب گھروں میں دیکھیں، جہاں وہ مستقبل کے معمار نہیں بلکہ ایک گزرے ہوئے دور کی علامت کے طور پر یاد کیے جائیں گے۔

اس تبدیلی پر کوئی خوش ہو یا افسوس کرے، ایک حقیقت سے انکار مشکل ہوتا جا رہا ہے کہ مستقبل کی صحافت شاندار ٹیلی ویژن اسٹوڈیوز سے نہیں، بلکہ ہاتھوں میں موجود ذہین ڈیجیٹل اسکرینوں سے جنم لے گی۔ مصنوعی ذہانت اس کی محرک ہوگی، سوشل میڈیا اس کا سب سے مؤثر ذریعہ ہوگا، اور اسے وہ نسل تشکیل دے گی جو خبر کو کسی ایک ادارے کی اجارہ داری نہیں بلکہ اپنی اجتماعی ملکیت سمجھتی ہے، اسے خود تلاش کرتی ہے، جانچتی ہے اور اپنی شرائط پر قبول یا مسترد کرتی ہے۔

جولائی ۲۰۲۶ شاید اسی تاریخی تبدیلی کی سب سے واضح علامت بن کر ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔

Share This Article
کوئی تبصرہ نہیں ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Trending News

مرکزالمعارف ممبئی میں اکیسواں جلسۂ تقسیمِ اسناد کا شاندار انعقاد

مرکزالمعارف ممبئی میں اکیسواں جلسۂ تقسیمِ اسناد کا شاندار انعقاد ای سی…

Eastern

ایران، عالمی مزاحمت اور مغربی بالادستی کا زوال

ایران، عالمی مزاحمت اور مغربی بالادستی کا زوال از: محمد برہان الدین…

Eastern

”سامعین کی توجہ اور فکری وزن کے بغیر تقریر بے اثر ہے“_سہیل مسعود

”سامعین کی توجہ اور فکری وزن کے بغیر تقریر بے اثر ہے“_سہیل…

Eastern

ٹریل بلیزر: فکر، ایمان و سائنس کا سنگم

ٹریل بلیزر: فکر، ایمان و سائنس کا سنگم از____ محمد توقیر رحمانی…

Eastern

ماہ ربیع الاول اور اسوۂ نبوی ﷺ کا تقاضا

ماہ ربیع الاول اور اسوۂ نبوی ﷺ کا تقاضا از____ محمد توقیر…

Eastern

انسان کی تخلیق محض وجود کیلئےنہیں ، خلافتِ ارضی کی عظیم ذمہ داری کیلئے ہے

انسان کی تخلیق محض وجود کیلئےنہیں ، خلافتِ ارضی کی عظیم ذمہ…

Eastern

Quick LInks

جولائی ۲۰۲۶: وہ مہینہ جب ہندوستانی ٹیلی ویژن نیوز کے زوال سے انکار ناممکن ہو گیا

جولائی ۲۰۲۶: وہ مہینہ جب ہندوستانی ٹیلی ویژن نیوز کے زوال سے…

Eastern

*جنتر منتر احتجاج۔۔۔ اور ہمارے لیے کچھ کام کی باتیں

جنتر منتر احتجاج۔۔۔ اور ہمارے لیے کچھ کام کی باتیں ✍️محمد ابو…

Eastern

کوکروچ تحریک کی پہلی بڑی کامیابی

کوکروچ تحریک کی پہلی بڑی کامیابی از: محمد برہان الدین قاسمی ایڈیٹر:…

Eastern