ٹرینڈنگ
تحریک ریشمی روما ل: تاریخ کا ایک فراموش کردہ باباسلام اسپیکس: زبانِ عصر میں پیغامِ اسلام کی مؤثر ترجمانیملی اداروں کا مستقبل اور نوکِ قلم پر لٹکتی تلوار: ایف سی آر اے (FCRA) ترمیمی بل 2026 کا ایک تجزیہہواہےگوتیزوتندلیکن چراغ اپناجلارہاہےعالمی مذاہب میں حیات بعد الممات کا تصور: ایک تقابلی جائزہجولائی ۲۰۲۶: وہ مہینہ جب ہندوستانی ٹیلی ویژن نیوز کے زوال سے انکار ناممکن ہو گیا*جنتر منتر احتجاج۔۔۔ اور ہمارے لیے کچھ کام کی باتیںکوکروچ تحریک کی پہلی بڑی کامیابیتحریک ریشمی روما ل: تاریخ کا ایک فراموش کردہ باباسلام اسپیکس: زبانِ عصر میں پیغامِ اسلام کی مؤثر ترجمانیملی اداروں کا مستقبل اور نوکِ قلم پر لٹکتی تلوار: ایف سی آر اے (FCRA) ترمیمی بل 2026 کا ایک تجزیہہواہےگوتیزوتندلیکن چراغ اپناجلارہاہےعالمی مذاہب میں حیات بعد الممات کا تصور: ایک تقابلی جائزہجولائی ۲۰۲۶: وہ مہینہ جب ہندوستانی ٹیلی ویژن نیوز کے زوال سے انکار ناممکن ہو گیا*جنتر منتر احتجاج۔۔۔ اور ہمارے لیے کچھ کام کی باتیںکوکروچ تحریک کی پہلی بڑی کامیابی

اسلام اسپیکس: زبانِ عصر میں پیغامِ اسلام کی مؤثر ترجمانی

0%
اسلام اسپیکس: زبانِ عصر میں پیغامِ اسلام کی مؤثر ترجمانی
کتاب کے جائزے

اسلام اسپیکس: زبانِ عصر میں پیغامِ اسلام کی مؤثر ترجمانی

Eastern
1 min read21 views
Save this article for later

اسلام اسپیکس: زبانِ عصر میں پیغامِ اسلام کی مؤثر ترجمانی (کتاب کا جائزہ)

از: محمد جاوید قاسمی
حق ایجوکیشن اینڈ ریسرچ فاؤنڈیشن کانپور

نام کتاب: Islam Speaks
مصنف: مولانا عبدالحمید قاسمی
استاد شعبہ انگلش دارالعلوم دیوبند
ناشر: Abdul Hameed Ziya Academy Domariagan

انسان اپنے جذبات، خیالات، احساسات اور تجربات کے اظہار و ترسیل کے لیے مختلف ذرائع اور اسالیب اختیار کرتا ہے۔ کبھی وہ تحریر کے ذریعے اپنے مافی الضمیر کا اظہار کرتا ہے، کبھی اشارات و کنایات سے اپنی بات سمجھانے کی کوشش کرتا ہے اور کبھی زبان و بیان کے ذریعے اپنے خیالات دوسروں تک پہنچاتا ہے۔ اظہار کے انہی زبانی ذرائع میں تقریر و خطابت کو نمایاں مقام حاصل ہے۔

تقریر و خطابت اپنی سحر انگیزی، اثر آفرینی اور غیر معمولی تاثیر کے باعث ہمیشہ سے اظہار و ترسیل کا ایک مؤثر وسیلہ رہی ہے۔ حکمرانوں نے اسے حکمرانی کے لیے، مصلحین نے اصلاحِ معاشرہ کے لیے اور انبیائے کرام علیہم السلام نے دعوت و تبلیغ کے لیے ایک مؤثر ذریعۂ ابلاغ کے طور پر اختیار فرمایا۔ چنانچہ ہمارے پیارے نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اسی اسلوب کواختیار کرتے ہوئے کوہِ صفا پر اپنی قوم کو علانیہ دعوتِ حق پیش فرمائی۔اگرچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تعلیم و تربیت اور تزکیۂ نفوس کے لیے مختلف اسالیب اختیار فرمائے، لیکن تقریر و خطابت آپ کے مؤثر ترین اسالیبِ دعوت میں سے ایک تھی۔ آپ فنِ خطابت کے بے مثال شہسوار تھے۔ آپ کے خطبات اختصار و جامعیت، فصاحت و بلاغت اور تاثیر و دل نشینی کا حسین مرقع ہوتے تھے۔ کتبِ حدیث میں آپ کے متعدد خطبات محفوظ ہیں، جو فنِ خطابت کے لیے بہترین نمونے کی حیثیت رکھتے ہیں۔

تقریر کی ایک بڑی خصوصیت یہ ہے کہ اس کے ذریعے بیک وقت بڑی تعداد میں لوگوں تک اپنا پیغام پہنچایا جاسکتا ہے۔ جب اس کے ساتھ زبان و بیان کی مہارت، اخلاص اور نیک نیتی شامل ہوجائے تو اس کی تاثیر مزید بڑھ جاتی ہے۔ اسی حقیقت کی طرف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اس ارشاد کے ذریعے اشارہ فرمایا: "إِنَّ مِنَ الْبَيَانِ لَسِحْرًا” یعنی بعض بیان میں جادو جیسی تاثیر ہوتی ہے۔ (بخاری)

Advertisement
Advertisement

بیان کی یہی تاثیر اسے محض فطری صلاحیت نہیں رہنے دیتی، بلکہ ایک باقاعدہ فن کی حیثیت عطا کرتی ہے، جس کے لیے سیکھنے، مشق اور مسلسل تمرین ناگزیر ہے۔ اگرچہ اللہ تعالیٰ نے ہر انسان کو قوتِ گویائی سے نوازا ہے، لیکن مؤثر اور بامقصد گفتگو محض فطری صلاحیت کا نتیجہ نہیں؛ اس کے لیے شعوری محنت، زبان و بیان پر قدرت اور فن کے اصول و ضوابط سے واقفیت ضروری ہے۔ ان اصولوں سے ناواقفیت کے باعث بہترین خیالات بھی مطلوبہ تاثیر کے ساتھ سامعین تک نہیں پہنچ پاتے۔ یہی وجہ ہے کہ مختلف زبانوں میں فنِ خطابت پر متعدد کتابیں لکھی گئیں اور ماہرینِ فن نے اس کے آداب و اصول مرتب کیے، تاکہ ان سے رہنمائی حاصل کرکے ایک شخص اپنی تقریری صلاحیت کو نکھار سکے اور مسلسل مشق و تمرین کے ذریعے فنِ خطابت کا شہسوار بن سکے۔

فنِّ خطابت کی اسی روایت اور تربیتی ضرورت کے پیش نظر”اسلام اسپیکس” (Islam Speaks) ایک قابلِ قدر اور خوش آئند کاوش ہے۔ یہ انگریزی زبان میں اسلامی موضوعات پر مشتمل تقاریر کا ایک مفید اور وقیع مجموعہ ہے، جسے بالخصوص مدارس اور اسکولوں کے طلبہ کی دینی و لسانی تربیت کو پیشِ نظر رکھتے ہوئے مرتب کیا گیا ہے۔ اس کے اب تک دو حصے زیورِ طباعت سے آراستہ ہوکر اہلِ علم و طلبہ کی دسترس میں آچکے ہیں، جب کہ مصنف کے مطابق اس سلسلے کے مزید تین حصے بھی عنقریب منظرِ عام پر آنے والے ہیں۔

کتاب کا پہلا حصہ تئیس تقاریر پر مشتمل ہے، جن میں اسلام کے بنیادی تصورات اور اہم دینی موضوعات کا احاطہ کیا گیا ہے۔کتاب کے آغاز میں مصنف نے کامیاب تقریر اور مؤثر خطابت سے متعلق چند قیمتی ہدایات بھی رقم کی ہیں، جن پر عمل ایک کامیاب مقرر کے لیے نہایت ضروری ہے۔ ان ہدایات میں ایک اچھے خطیب کی خصوصیات، تقریر کو مؤثر بنانے کے طریقے، دورانِ تقریر قابلِ اجتناب امور اور تقریر کے مناسب آغاز جیسے اہم نکات شامل ہیں۔ یہ ابتدائی رہنمائی طلبہ کے لیے خاص طور پر مفید ہے، کیونکہ اس سے انہیں صرف مواد ہی نہیں ملتا بلکہ تقریر پیش کرنے کا سلیقہ بھی حاصل ہوتا ہے۔

کتاب کا دوسرا حصہ سولہ تقاریر پر مشتمل ہے، جن میں عورت کے مقام و مرتبے، حقوق و فرائض، اسلام میں اس کے کردار و خدمات اور اس سے متعلق پائی جانے والی بعض غلط فہمیوں کو موضوعِ بحث بنایا گیا ہے۔اس اعتبار سے یہ حصہ نہ صرف طلبہ کے لیے مفید تقریری مواد فراہم کرتا ہے، بلکہ اسلام میں عورت کے مقام و حقوق کی صحیح اور متوازن تصویر بھی سامنے لاتا ہے۔

کتاب کی نمایاں خوبی یہ ہے کہ اس کی تقاریر اختصار و جامعیت کے ساتھ ساتھ اسلامی معلومات سے بھی مالا مال ہیں۔ہر موضوع کو قرآن و حدیث کے حوالوں سے مزین کیا گیا ہے، جس سے ان کی علمی وقعت مزید بڑھ جاتی ہے۔ مصنف نے زبان و اسلوب کو حتی الامکان سادہ اور رواں رکھنے کی کوشش کی ہے،تاکہ طلبہ انہیں آسانی سے سمجھ سکیں، یاد کرسکیں اور مجمع کے سامنے اعتماد کے ساتھ پیش کرسکیں۔ مزید برآں، طلبہ کی سہولت کے لیے کتاب کے آخر میں تقریروں میں استعمال ہونے والے مشکل الفاظ کے معانی اور تلفظ بھی درج کیے گئے ہیں۔ انگریزی زبان سیکھنے والے طلبہ کے لیے یہ خصوصیت خاص طور پر قابلِ تحسین ہے

Advertisement
Advertisement

اسلام اسپیکس” کے مصنف دارالعلوم دیوبند کے شعبۂ انگلش کے استاذ، مولانا عبدالحمید یوسف قاسمی ہیں۔ مولانا ایک باصلاحیت عالمِ دین ہونے کے ساتھ زبان و بیان پر بھی خاص دسترس رکھتے ہیں۔ انہوں نے انگریزی زبان و قواعد سے متعلق ایک مفید کتاب "مولانا انگلش گرامر” بھی تصنیف کی ہے، جو انگریزی سیکھنے اور سکھانے والوں کے درمیان کافی مقبول ہوئی ہے۔ان کی علمی و تدریسی صلاحیتوں کا عکس "اسلام اسپیکس” میں بھی نمایاں طور پر نظر آتا ہے۔

الغرض، "اسلام اسپیکس” محض انگریزی تقاریر کا مجموعہ نہیں، بلکہ اسلامی معلومات، زبان دانی اور فنِ تقریر—تینوں کو یکجا کرنے والی ایک مفید تربیتی کاوش ہے۔ اس کی سادہ زبان، مختصر و جامع تقاریر، قرآنی و حدیثی حوالہ جات اور مشکل الفاظ کے معانی و تلفظ طلبہ کے لیے اس کی افادیت کو دوچند کردیتے ہیں۔ بالخصوص مدارس کے ان طلبہ کے لیے جو انگریزی زبان میں اسلامی موضوعات پر اظہارِ خیال اور تقریر کا ملکہ پیدا کرنا چاہتے ہیں، یہ کتاب ایک قابلِ قدر رہنما کی حیثیت رکھتی ہے۔
اللہ رب العزت فاضل مصنف کی اس علمی و ادبی کاوش کو شرفِ قبول عطا فرمائے، اسے طلبہ کے لیے نافع بنائے اور "اسلام اسپیکس” کو دعوتِ دین، تعلیمِ اسلام اور فروغِ زبان و بیان کا مؤثر ذریعہ بنائے۔ آمین۔

Eastern

Eastern

Staff writer at Eastern Crescent Urdu.

View all posts →

Comments (0)

Leave a Comment

اوپر تک سکرول کریں۔