ٹرینڈنگ
کیا ملت کو بیدار کرنے کی تمام کوششیں بند کردی جائیں!تحریک ریشمی روما ل: تاریخ کا ایک فراموش کردہ باباسلام اسپیکس: زبانِ عصر میں پیغامِ اسلام کی مؤثر ترجمانیملی اداروں کا مستقبل اور نوکِ قلم پر لٹکتی تلوار: ایف سی آر اے (FCRA) ترمیمی بل 2026 کا ایک تجزیہہواہےگوتیزوتندلیکن چراغ اپناجلارہاہےعالمی مذاہب میں حیات بعد الممات کا تصور: ایک تقابلی جائزہجولائی ۲۰۲۶: وہ مہینہ جب ہندوستانی ٹیلی ویژن نیوز کے زوال سے انکار ناممکن ہو گیا*جنتر منتر احتجاج۔۔۔ اور ہمارے لیے کچھ کام کی باتیںکیا ملت کو بیدار کرنے کی تمام کوششیں بند کردی جائیں!تحریک ریشمی روما ل: تاریخ کا ایک فراموش کردہ باباسلام اسپیکس: زبانِ عصر میں پیغامِ اسلام کی مؤثر ترجمانیملی اداروں کا مستقبل اور نوکِ قلم پر لٹکتی تلوار: ایف سی آر اے (FCRA) ترمیمی بل 2026 کا ایک تجزیہہواہےگوتیزوتندلیکن چراغ اپناجلارہاہےعالمی مذاہب میں حیات بعد الممات کا تصور: ایک تقابلی جائزہجولائی ۲۰۲۶: وہ مہینہ جب ہندوستانی ٹیلی ویژن نیوز کے زوال سے انکار ناممکن ہو گیا*جنتر منتر احتجاج۔۔۔ اور ہمارے لیے کچھ کام کی باتیں

کیا ملت کو بیدار کرنے کی تمام کوششیں بند کردی جائیں!

0%
کیا ملت کو بیدار کرنے کی تمام کوششیں بند کردی جائیں!
اسلام

کیا ملت کو بیدار کرنے کی تمام کوششیں بند کردی جائیں!

Eastern
1 min read9 views
Save this article for later

کیا ملت کو بیدار کرنے کی تمام کوششیں بند کردی جائیں!

از: مدثر احمد قاسمی
اسسٹنٹ ایڈیٹر ایسٹرن کریسنٹ،ممبئی

بعض لوگوں کا خیال ہے کہ برسوں سے تقریریں ہورہی ہیں، مضامین لکھے جارہے ہیں، نصیحتیں کی جارہی ہیں، مگر حالات میں کوئی بڑی تبدیلی نظر نہیں آتی؛ تو پھر آخر اس مشق کو جاری رکھنے کا کیا فائدہ؟

یہ بات اپنی جگہ درست ہے کہ محض الفاظ سے حالات نہیں بدلتے بلکہ عملی کوششوں کی ضرورت ہوتی ہے، لیکن کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ اصلاح کی آواز ہی بند کردی جائے؟ جو شخص ابھی نہیں جاگا، ممکن ہے وہ اگلی پکار پر بیدار ہوجائے۔ اس لیئےدلوں کو جگانے، ضمیروں کو جھنجھوڑنے اور بھولی ہوئی ذمہ داریوں کی یاد دلانے کا عمل کبھی بے معنی نہیں ہوسکتا!

Advertisement
Advertisement

دینِ اسلام ہمیں خاموشی نہیں، بلکہ مسلسل یاد دہانی اور خیر خواہی کا راستہ دکھاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ﴿فَذَكِّرْ إِنَّ الذِّكْرَىٰ تَنفَعُ الْمُؤْمِنِينَ﴾، یعنی نصیحت کرتے رہیے، بے شک نصیحت مؤمنوں کو فائدہ پہنچاتی ہے۔ انسان فطری طور پر بھولنے والا ہے، اسی لیے اسے بار بار حق کی یاد دہانی کی ضرورت پڑتی ہے۔ ہر بات کا اثر فوراً ظاہر ہوجائے، یہ ضروری نہیں؛ بعض الفاظ دل میں اتر کر دیر تک خاموش رہتے ہیں اور پھر کسی وقت انسان کے اندر ایک نئی سوچ پیدا کردیتے ہیں۔ اگر بیداری اور اصلاح کی یہ آواز ہی بند کردی جائے تو غفلت مزید گہری ہوسکتی ہے اور ایک زندہ معاشرہ رفتہ رفتہ عملی بے حسی کی ایسی کیفیت میں پہنچ سکتا ہے جو موت سے کم نہیں۔

لہٰذا راستہ یہ نہیں ہے کہ قلم خاموش ہوجائے اور زبان رک جائے، بلکہ ضرورت اس بات کی ہے کہ ہماری تقریر اور تحریر دونوں کا انداز بدل جائے۔ بات مختصر، واضح اور ٹو دی پوائنٹ ہو؛ مسئلہ بیان کرنے کے ساتھ اس کا قابلِ عمل حل بھی سامنے رکھا جائے اور اس طرح ملت کا ہر فرد اپنی بساط کے مطابق عملی تعاون پیش کرنے پر آمادہ ہو جائے!

Advertisement
Advertisement
Eastern

Eastern

Staff writer at Eastern Crescent Urdu.

View all posts →

Comments (0)

Leave a Comment

اوپر تک سکرول کریں۔