ٹرینڈنگ
عربی زبان کے نامور ادیب اور کئی نسلوں کے استاذ مولانا سعید الاعظمی کی وفات کا سانحہعقابی  روح رکھنے والے ” قاری شبیر احمد صاحب” رخصت ہوئے ـالیکشن کمیشن کی غلطیوں کا خمیازہ عوام کیوں بھگتے؟خودکشی کا بڑھتا رجحان: اسباب، پس منظر اور تدارکمشرقِ وسطیٰ میں امریکہ-اسرائیل اتحاد کو ایک اور بڑا دھچکامرکز المعارف ایجوکیشن اینڈ ریسرچ سینٹر، ممبئی میں انگریزی تقریری مقابلے کا انعقادشیخ محمد یحییٰ باسکندی کی مرکز المعارف، ممبئی آمد؛ طلبہ سے خطاب، تعلیم، تزکیہ اور تعلق مع اللہ کی اہمیت پر زورکیا ملت کو بیدار کرنے کی تمام کوششیں بند کردی جائیں!عربی زبان کے نامور ادیب اور کئی نسلوں کے استاذ مولانا سعید الاعظمی کی وفات کا سانحہعقابی  روح رکھنے والے ” قاری شبیر احمد صاحب” رخصت ہوئے ـالیکشن کمیشن کی غلطیوں کا خمیازہ عوام کیوں بھگتے؟خودکشی کا بڑھتا رجحان: اسباب، پس منظر اور تدارکمشرقِ وسطیٰ میں امریکہ-اسرائیل اتحاد کو ایک اور بڑا دھچکامرکز المعارف ایجوکیشن اینڈ ریسرچ سینٹر، ممبئی میں انگریزی تقریری مقابلے کا انعقادشیخ محمد یحییٰ باسکندی کی مرکز المعارف، ممبئی آمد؛ طلبہ سے خطاب، تعلیم، تزکیہ اور تعلق مع اللہ کی اہمیت پر زورکیا ملت کو بیدار کرنے کی تمام کوششیں بند کردی جائیں!

کیا ملت کو بیدار کرنے کی تمام کوششیں بند کردی جائیں!

0%
کیا ملت کو بیدار کرنے کی تمام کوششیں بند کردی جائیں!
اسلام

کیا ملت کو بیدار کرنے کی تمام کوششیں بند کردی جائیں!

Eastern
1 min read20 views
Save this article for later

کیا ملت کو بیدار کرنے کی تمام کوششیں بند کردی جائیں!

از: مدثر احمد قاسمی
اسسٹنٹ ایڈیٹر ایسٹرن کریسنٹ،ممبئی

بعض لوگوں کا خیال ہے کہ برسوں سے تقریریں ہورہی ہیں، مضامین لکھے جارہے ہیں، نصیحتیں کی جارہی ہیں، مگر حالات میں کوئی بڑی تبدیلی نظر نہیں آتی؛ تو پھر آخر اس مشق کو جاری رکھنے کا کیا فائدہ؟

یہ بات اپنی جگہ درست ہے کہ محض الفاظ سے حالات نہیں بدلتے بلکہ عملی کوششوں کی ضرورت ہوتی ہے، لیکن کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ اصلاح کی آواز ہی بند کردی جائے؟ جو شخص ابھی نہیں جاگا، ممکن ہے وہ اگلی پکار پر بیدار ہوجائے۔ اس لیئےدلوں کو جگانے، ضمیروں کو جھنجھوڑنے اور بھولی ہوئی ذمہ داریوں کی یاد دلانے کا عمل کبھی بے معنی نہیں ہوسکتا!

Advertisement
Advertisement

دینِ اسلام ہمیں خاموشی نہیں، بلکہ مسلسل یاد دہانی اور خیر خواہی کا راستہ دکھاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ﴿فَذَكِّرْ إِنَّ الذِّكْرَىٰ تَنفَعُ الْمُؤْمِنِينَ﴾، یعنی نصیحت کرتے رہیے، بے شک نصیحت مؤمنوں کو فائدہ پہنچاتی ہے۔ انسان فطری طور پر بھولنے والا ہے، اسی لیے اسے بار بار حق کی یاد دہانی کی ضرورت پڑتی ہے۔ ہر بات کا اثر فوراً ظاہر ہوجائے، یہ ضروری نہیں؛ بعض الفاظ دل میں اتر کر دیر تک خاموش رہتے ہیں اور پھر کسی وقت انسان کے اندر ایک نئی سوچ پیدا کردیتے ہیں۔ اگر بیداری اور اصلاح کی یہ آواز ہی بند کردی جائے تو غفلت مزید گہری ہوسکتی ہے اور ایک زندہ معاشرہ رفتہ رفتہ عملی بے حسی کی ایسی کیفیت میں پہنچ سکتا ہے جو موت سے کم نہیں۔

لہٰذا راستہ یہ نہیں ہے کہ قلم خاموش ہوجائے اور زبان رک جائے، بلکہ ضرورت اس بات کی ہے کہ ہماری تقریر اور تحریر دونوں کا انداز بدل جائے۔ بات مختصر، واضح اور ٹو دی پوائنٹ ہو؛ مسئلہ بیان کرنے کے ساتھ اس کا قابلِ عمل حل بھی سامنے رکھا جائے اور اس طرح ملت کا ہر فرد اپنی بساط کے مطابق عملی تعاون پیش کرنے پر آمادہ ہو جائے!

Advertisement
Advertisement
Eastern

Eastern

Staff writer at Eastern Crescent Urdu.

View all posts →

Comments (0)

Leave a Comment

اوپر تک سکرول کریں۔