پڑھے لکھے لوگوں کا جاہلانہ کارنامہ: ہندوستانی تاریخ کو مسخ کرنے کی مذموم کوشش

Eastern
4 Min Read
87 Views
4 Min Read

پڑھے لکھے لوگوں کا جاہلانہ کارنامہ: ہندوستانی تاریخ کو مسخ کرنے کی مذموم کوشش

مدثر احمد قاسمی
مضمون نگار ایسٹرن کریسنٹ کے اسسٹنٹ ایڈیٹر ہیں۔

اسی ہفتے ریلیز ہونے والی این سی ای آر ٹی (NCERT) کی ایک کتاب میں تاریخ کو مسخ کرنے اور نسل نو کو گمراہ کرنے کی منظم سازش رچی گئی ہے۔ معاملہ یہ ہے کہ آٹھویں جماعت کی سوشل سائنس کی کتاب میں مغلیہ سلطنت کے عظیم حکمرانوں—بابر، اکبر، اورنگزیب—کو طعن و تشنیع کا نشانہ بنایا گیا ہے۔ ان میں سے کسی کو "بے رحم قاتل”، کسی کو "مندر شکن” اور کسی کو "ظالم بادشاہ” قرار دینا صرف علمی خیانت ہی نہیں بلکہ ایک منظم تخریبی ذہنیت کا نتیجہ ہے۔

حقیقت حال یہ ہے کہ مغلیہ دور کا شمار برصغیر کی مضبوط، منظم، اور ثقافتی لحاظ سے ترقی یافتہ سلطنتوں میں ہوتا ہے۔ ظہیرالدین بابر نے منتشر ہندوستان کو ایک ریاست میں جوڑا، جلال الدین اکبر نے انصاف کی مثالیں قائم کیں، اور اورنگ زیب عالمگیر نے ظالموں کو سبق سکھا کر تمام ہندوستانیوں کے لیئے آگے بڑھنے کے راستے کھولے۔ جس طرح آج کے حکمرانوں میں بھی کچھ کمزوریاں ہیں بہت ممکن ہے کہ ان شخصیات میں بھی کچھ کمزوریاں رہی ہونگی، مگر انہیں یکسر منفی انداز میں پیش کرنا تاریخ کے ساتھ بدترین خیانت ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ تاریخ کوئی آسانی سے مٹانے یا بدلنے والی چیز نہیں ہے اور اصل تاریخ وہ نہیں ہے جو بعد میں آنے والے لوگ لکھتے ہیں بلکہ اصل تاریخ وہ ہے جو ہر زمانے کے مورخ لکھتے ہیں؛ کیونکہ واقعات، آثار، عمارتیں، تہذیبیں، زبانیں اور عوامی یادداشتیں سب مل کر حقیقی تاریخ کا حصہ بنتی ہیں۔ اس تناظر میں یہ ایک حقیقت ہے کہ ماضی کے کسی بھی مورخ نے ان حکمرانوں کو ان مذموم صفات سے متصف نہیں کیا ہے۔

Advertisement
Advertisement

تاج محل، لال قلعہ، فتح پور سیکری، قطب مینار، اردو زبان، فنِ مصوری، فنِ تعمیر کے عظیم شاہکار اور ہندوستان میں کثیر تعداد میں غیر مسلموں کی موجودگی آج بھی ان بادشاہوں کی حقیقت بیان کرتے ہیں۔ یہ سب شواہد اس بات کے گواہ ہیں کہ مغلیہ دور صرف جنگوں کا دور نہیں بلکہ علم، تہذیب، ثقافت اور انصاف کا بھی دور تھا۔

یاد رکھیں! ایک منصف مزاج قوم وہی ہوتی ہے جو اپنی تاریخ کو دیانت داری سے سمجھے اور آنے والی نسلوں تک غیر جانبدار اور متوازن انداز میں منتقل کرے۔ اگر ہم تاریخ کو مسخ کرتے رہے، تو نہ صرف اپنے ماضی سے کٹ جائیں گے بلکہ حال و مستقبل کے فیصلے بھی الجھن کا شکار ہو جائیں گے۔

لہٰذا، تعلیمی اداروں، مؤرخین، اور پالیسی سازوں پر لازم ہے کہ وہ تاریخ کو علمی اور تحقیقی بنیاد پر پیش کریں، نہ کہ تعصبات، مفروضات یا سیاسی مفادات کے تابع؛ کیونکہ جو قومیں اپنی تاریخ کو مٹا کر آگے بڑھنے کی کوشش کرتی ہیں، وہ اپنا حال بھی گنوا بیٹھتی ہیں۔

Share This Article
کوئی تبصرہ نہیں ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Trending News

بہار! آپ کا شکریہ!

بہار! آپ کا شکریہ! از: محمد برھان الدین قاسمی ایڈیٹر: ایسٹرن کریسنٹ،…

Eastern

مرکز المعارف ممبئی میں انگریزی تقریری مقابلے کا انعقاد

مرکز المعارف ممبئی میں انگریزی تقریری مقابلے کا انعقاد حالات کے حساب…

Eastern

نئے سال کا آغاز محاسبہ نفس اور منشور حیات کیساتھ کریں

نئے سال کا آغاز محاسبہ نفس اور منشور حیات کیساتھ کریں محمد…

Eastern

اسرائیل-ایران  جنگ اور غزہ میں قتل عام

اسرائیل-ایران  جنگ اور غزہ میں قتل عام از: خورشید عالم داؤد قاسمی…

Eastern

دنیا کو ہوشیار ہو جانا چاہیے!

دنیا کو ہوشیار ہو جانا چاہیے! محمد برہان الدین قاسمی آبنائے ہرمز…

Eastern

فلسطین: قبضہ اور مزاحمت

فلسطین: قبضہ اور مزاحمت مولانا خورشید عالم داؤد قاسمی کی تازہ تصنیف…

Eastern

Quick LInks

ترجیحات کے بحران میں امتِ مسلمہ کے مسائل

ترجیحات کے بحران میں امتِ مسلمہ کے مسائل ڈاکٹر عادل عفان مضمون…

Eastern

پڑھے لکھے لوگوں کا جاہلانہ کارنامہ: ہندوستانی تاریخ کو مسخ کرنے کی مذموم کوشش

پڑھے لکھے لوگوں کا جاہلانہ کارنامہ: ہندوستانی تاریخ کو مسخ کرنے کی…

Eastern

حنظلہ جہاز: ایک علامت، ایک پیغام

حنظلہ جہاز: ایک علامت، ایک پیغام از: خورشید عالم داؤد قاسمی اٹلی…

Eastern