ٹرینڈنگ
سچ اور جھوٹ میں "سچ” ننگا اور کڑوا کیوں ہوتا ہے؟مقبوضہ فلسطین کے عربوں اور ہندوستانی مسلمانوں کی سیاست کا قیاس نامعقول ہےUCC: مسلم پرسنل لا بورڈ نے مہاراشٹر حکومت کے سوالات کے جوابات کے لیے QR کوڈ جاری کیادارالعلوم دیوبند میں رابطہ مدارس اسلامیہ کا کل ہند اجلاس، تعلیمی و انتظامی اصلاحات کے لیے اہم تجاویز منظورممبئی میں علماء کے لیے دو روزہ پیرا لیگل ٹریننگ ورکشاپ کا انعقادقوتِ گویائی ایک عظیم ترین نعمتآذربائیجان کے الہام علیوف اپنی ہی سیاسی قبر کھود رہے ہیںعربی زبان کے نامور ادیب اور کئی نسلوں کے استاذ مولانا سعید الاعظمی کی وفات کا سانحہسچ اور جھوٹ میں "سچ” ننگا اور کڑوا کیوں ہوتا ہے؟مقبوضہ فلسطین کے عربوں اور ہندوستانی مسلمانوں کی سیاست کا قیاس نامعقول ہےUCC: مسلم پرسنل لا بورڈ نے مہاراشٹر حکومت کے سوالات کے جوابات کے لیے QR کوڈ جاری کیادارالعلوم دیوبند میں رابطہ مدارس اسلامیہ کا کل ہند اجلاس، تعلیمی و انتظامی اصلاحات کے لیے اہم تجاویز منظورممبئی میں علماء کے لیے دو روزہ پیرا لیگل ٹریننگ ورکشاپ کا انعقادقوتِ گویائی ایک عظیم ترین نعمتآذربائیجان کے الہام علیوف اپنی ہی سیاسی قبر کھود رہے ہیںعربی زبان کے نامور ادیب اور کئی نسلوں کے استاذ مولانا سعید الاعظمی کی وفات کا سانحہ

دنیا کو ہوشیار ہو جانا چاہیے!

0%
دنیا کو ہوشیار ہو جانا چاہیے!
آراء

دنیا کو ہوشیار ہو جانا چاہیے!

Eastern
1 min read5 views
Save this article for later

دنیا کو ہوشیار ہو جانا چاہیے!

محمد برہان الدین قاسمی

آبنائے ہرمز میں گزشتہ روز پیش آنے والا واقعہ، جس کی تصدیق متحدہ عرب امارات نے کی ہے، نہایت سنگین ہے۔ لیکن مغربی میڈیا اس کو جان بوجھ کر نظرانداز کر رہا ہے۔ آج ایسی اطلاعات سامنے آ رہی ہیں کہ ایران اور امریکہ کے درمیان بیک ڈور مذاکرات جاری ہیں — شاید عمان یا مسقط میں — لیکن فی الحال کسی طرف سے اس کی تصدیق نہیں ہوئی ہے۔

میرے خیال میں اگر ایران اور اسرائیل کی جنگ اسی رفتار سے آئندہ چند ماہ جاری رہی تو کوئی فریق حقیقی فاتح نہیں ہوگا۔ اسرائیل تن تنہا نہ تو ایران کے نیوکلیائی بنیادی ڈھانچے کو تباہ کر سکتا ہے اور نہ ہی وہاں حکومت کی تبدیلی لا سکتا ہے۔ اس کے لیے اس کے پاس مطلوبہ صلاحیت نہیں ہے۔

اب یہ فیصلہ کن مرحلہ ہے — اور انجام اس بات پر منحصر ہے کہ آیا امریکہ براہ راست مداخلت کرتا ہے یا نہیں۔ جنگی صورتحال اب واپسی کی حد پار کر چکی ہے۔ نیتن یاہو نے اپنی نسل کشی پر مبنی ذہنیت کے ساتھ دنیا کو ایک تباہ کن جنگ کی طرف گھسیٹ چکا ہے۔

اس وقت میرے ذہن میں تین ممکنہ منظرنامے ابھر رہے ہیں:

1. امریکہ کی براہ راست فوجی مداخلت:
اگر امریکہ اپنے B-52 بمبار طیارے اور بنکر تباہ کرنے والے ہتھیاروں کے ساتھ پوری شدت سے حملہ کرتا ہے، تو ایران چند دنوں میں ٹوٹ سکتا ہے۔ اس کے نتیجے میں حکومت کی تبدیلی ممکن ہے، لیکن اس تبدیلی سے پورا مشرق وسطیٰ بدترین انارکی اور عدم استحکام کا شکار ہو جائے گا۔

2. پردے کے پیچھے کوئی معاہدہ:
ممکن ہے کہ پس پردہ سفارتی معاہدہ طے پا جائے، جس کے ذریعے امریکہ اور اسرائیل کسی حد تک فتح کا اعلان کریں، جبکہ ایران بظاہر دب کر خاموش ہو جائے۔ یہ منظرنامہ سب سے زیادہ عقلمندانہ اور محفوظ ہوگا، کیونکہ فریقین کے ساتھ ساتھ خطے کے عرب ممالک کے لیے بھی خطرات بہت زیادہ ہیں۔

3. تیسری عالمی جنگ کا آغاز:
یہ سب سے خطرناک امکان ہے۔ چین، روس، اور شمالی کوریا جیسے جوہری طاقتیں امریکہ، برطانیہ، اور فرانس کے اتحاد کے مقابل میں حکمت عملی تیار کر رہی ہیں۔ کسی بھی غلطی یا اشتعال انگیزی سے ایک عالمی جنگ بھڑک سکتی ہے، جو پوری دنیا کے لیے تباہ کن ثابت ہوگی۔

یہ میرے مشاہدات ہیں۔ لوگ چاہیں تو اتفاق کریں یا اختلاف، لیکن دنیا کو اس وقت پوری سنجیدگی کے ساتھ اس صورتحال پر توجہ دینے کی اشد ضرورت ہے۔

Eastern

Eastern

Staff writer at Eastern Crescent Urdu.

View all posts →

Comments (1)

Leave a Comment

Delphia Lannon
1 سال ago

Attractive portion of content. I just stumbled upon your web site and in accession capital to claim that I acquire in fact enjoyed account your blog posts. Anyway I will be subscribing in your feeds or even I success you get right of entry to constantly rapidly.

اوپر تک سکرول کریں۔