آرٹیفیشل انٹیلیجنس: علم کا نعم البدل یا فکری فریب؟
از: ایڈووکیٹ محمد امجد قاسمی
دنیا اس وقت آرٹیفیشل انٹیلیجنس کے سحر میں مبتلا نظر آتی ہے۔ چیٹ جی پی ٹی، جیمینی، پرپلیکسٹی اور دیگر اے آئی پلیٹ فارمز نے معلومات تک رسائی کو غیر معمولی حد تک آسان بنا دیا ہے۔ چند سیکنڈ میں جواب، حوالہ، تجزیہ اور خلاصہ سب کچھ بظاہر انسانی عقل و تحقیق کا نعم البدل دکھائی دیتا ہے۔ مگر سوال یہ ہے کہ کیا یہ ٹیکنالوجی واقعی علم فراہم کر رہی ہے یا محض علم کا فریب ہے۔
حالیہ تجربات اس بات کی سنگین نشاندہی کرتے ہیں کہ آرٹیفیشل انٹیلیجنس کو مستند علمی ذریعہ سمجھنا نہایت خطرناک ثابت ہو سکتا ہے، خصوصاً آئین، قانون، تاریخ اور مذہب جیسے حساس اور بنیادی موضوعات کے معاملے میں احتیاط کا تقاضا دوبالا ہوجاتا ہے۔
آئینِ ہند جیسے دستاویزی اور قطعی حقائق پر مبنی موضوع پر ایک سادہ سوال کہ "1950 کے غیر ترمیم شدہ اصل آئین کے حصہ 9 میں کیا درج تھا” کا جواب ایک معروف اے آئی پلیٹ فارم نے پورے اعتماد کے ساتھ غلط دیا۔ نہ صرف یہ کہ اس نے اصل آئین میں حصہ 9 کی موجودگی ہی سے انکار کیا بلکہ بار بار اصرار کے ساتھ یہ مؤقف دہرایا کہ حصہ 8 کے بعد براہِ راست حصہ 10 درج تھا۔
یہ دعویٰ اس وقت مزید تشویشناک بن گیا جب اعتراض اور تصحیح کے باوجود بھی اے آئی نے اپنی غلطی تسلیم نہ کی۔ حتیٰ کہ اصل آئین کا اسکرین شاٹ بطور ثبوت پیش کرنے پر بھی محض موجودگی کا اعتراف کیا مگر اس کے مندرجات کے بارے میں فراہم کردہ معلومات پھر بھی غلط رہیں۔ افسوسناک امر یہ ہے کہ یہی سوال جب دیگر معروف اے آئی پلیٹ فارم سے کیا گیا تو وہاں سے بھی درست اور قابلِ اعتماد معلومات حاصل نہ ہو سکیں۔
یہ صورتِ حال ایک بنیادی حقیقت کو بے نقاب کرتی ہے کہ آرٹیفیشل انٹیلیجنس علم نہیں رکھتی، بلکہ علم کی نقالی کرتی ہے۔

یہ ٹیکنالوجی سچ اور جھوٹ میں امتیاز کی صلاحیت نہیں رکھتی، نہ ہی اسے تاریخی یا آئینی شعور حاصل ہوتا ہے۔ یہ محض دستیاب ڈیٹا، سابقہ تحریروں اور شماریاتی امکانات کی بنیاد پر جملے ترتیب دیتی ہے۔ اسی لیے یہ غلط معلومات کو بھی پورے اعتماد کے ساتھ پیش کر دیتی ہے اور یہی اعتماد سب سے بڑا فریب بن جاتا ہے۔
یہاں خطرہ صرف غلط معلومات کا نہیں، بلکہ غلط معلومات پر اعتماد کا ہے۔ جب ایک طالب علم، محقق، وکیل یا صحافی ایسی معلومات کو تصدیق کے بغیر قبول کر لیتا ہے تو یہ علمی بددیانتی نہیں بلکہ فکری تباہی کی بنیاد بن سکتی ہے۔ آئین اور قانون جیسے موضوعات میں ایک معمولی سی غلطی بھی غلط فہمی، قانونی خرابی اور سماجی انتشار کا سبب بن سکتی ہے۔
یہ بھی ایک لمحۂ فکریہ ہے کہ غلطی تسلیم کرنےکے بعد بھی درست معلومات فراہم نہ کر پانا اس بات کا ثبوت ہے کہ اے آئی خود سیکھنے والا ذہن نہیں بلکہ ایک خودکار نظام ہے، جس کی حدود واضح اور ناقابلِ انکار ہیں۔
اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ آرٹیفیشل انٹیلیجنس کو مکمل طور پر رد کر دیا جائے۔ بلاشبہ یہ ایک مفید، تیز اور سہل ٹیکنالوجی ہے جو ابتدائی رہنمائی، مسودہ سازی اور عمومی معلومات کے لیے معاون ثابت ہو سکتی ہے۔ مگر مسئلہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب اسے حتمی درجہ دے دیا جاتا ہے۔
تحقیق، تعلیم، آئین، قانون اور تاریخ کے میدان میں آج بھی اصل دستاویزات، مستند کتب، سرکاری ریکارڈ، اور ماہرین کی رائے ہی واحد قابلِ اعتماد ذرائع ہیں۔
مسائل پوچھنے میں اور خصوصاً احادیث کے رواۃ اور متن کے معاملے میں غیر معمولی احتیاط کی ضرورت ہے۔ شرعی مسائل صرف مستند علماء اور مفتیانِ عظام ہی سے دریافت کرنے چاہییں، کیونکہ اس کے بغیر غلط رہنمائی اور غیر شرعی فتووں کا قوی اندیشہ رہتا ہے۔
اے آئی عموماً سائل کے سوال یا اس کے منشا کے مطابق جواب مرتب کرتا ہے اور اسے اس قدر مہذب، مربوط اور دلنشیں انداز میں پیش کرتا ہے کہ بسا اوقات انسان فوراً اسے قبول کرلیتا ہے۔ تجربے سے یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ بعض اوقات یہ احادیث گھڑ دیتا ہے اور رواۃ کے ناموں کے ساتھ حوالہ بھی پیش کر دیتا ہے۔ اب اگر گفتگو اس قدر مدلل اور پُراعتماد انداز میں ہو تو کون ہے جو شک کرے؟

اسی لیے احادیث کے باب میں انتہائی احتیاط لازم ہے، اور احادیث کو اے آئی کے بجائے براہِ راست اصل اور مستند ماخذ سے ہی حاصل کرنا چاہیے۔ عوام الناس کو بالخصوص شرعی مسائل کے بارے میں علماء سے ہی رجوع کرنا چاہیے، ورنہ یہ خطرہ ہے کہ وہ غلط رہنمائی کو صحیح سمجھ کر پوری زندگی اسی پر عمل کرتے رہیں اور انہیں اس کا احساس بھی نہ ہو۔
آرٹیفیشل انٹیلیجنس کا استعمال بلاشبہ مفید ہے تاہم بلا تصدیق اور اصل ماخذ سے رجوع کئے بغیر اس پر بھروسہ کرنا ذہنی سستی اور فکری گمراہی کو فروغ دیتا ہے۔
آرٹیفیشل انٹیلیجنس رہنما کے بجائے ایک معاون آلہ ہے جس سے استفادہ کو ماخذ علم کے بجائے جدید دور کی سہولت کے طور پر دیکھا جانا چاہئے۔
(مضمون نگار محمد امجد قاسمی 2022سے دلی بار کاؤنسل میں رجسٹرڈ ایڈووکیٹ اور امریکی ملٹی نیشنل کمپنی میں لیگل ایڈوائزر ہیں)
