ٹرینڈنگ
تحریک ریشمی روما ل: تاریخ کا ایک فراموش کردہ باباسلام اسپیکس: زبانِ عصر میں پیغامِ اسلام کی مؤثر ترجمانیملی اداروں کا مستقبل اور نوکِ قلم پر لٹکتی تلوار: ایف سی آر اے (FCRA) ترمیمی بل 2026 کا ایک تجزیہہواہےگوتیزوتندلیکن چراغ اپناجلارہاہےعالمی مذاہب میں حیات بعد الممات کا تصور: ایک تقابلی جائزہجولائی ۲۰۲۶: وہ مہینہ جب ہندوستانی ٹیلی ویژن نیوز کے زوال سے انکار ناممکن ہو گیا*جنتر منتر احتجاج۔۔۔ اور ہمارے لیے کچھ کام کی باتیںکوکروچ تحریک کی پہلی بڑی کامیابیتحریک ریشمی روما ل: تاریخ کا ایک فراموش کردہ باباسلام اسپیکس: زبانِ عصر میں پیغامِ اسلام کی مؤثر ترجمانیملی اداروں کا مستقبل اور نوکِ قلم پر لٹکتی تلوار: ایف سی آر اے (FCRA) ترمیمی بل 2026 کا ایک تجزیہہواہےگوتیزوتندلیکن چراغ اپناجلارہاہےعالمی مذاہب میں حیات بعد الممات کا تصور: ایک تقابلی جائزہجولائی ۲۰۲۶: وہ مہینہ جب ہندوستانی ٹیلی ویژن نیوز کے زوال سے انکار ناممکن ہو گیا*جنتر منتر احتجاج۔۔۔ اور ہمارے لیے کچھ کام کی باتیںکوکروچ تحریک کی پہلی بڑی کامیابی

جشنِ ہدایہ: بحُسن و خوبی اختتام کو پہنچا

0%
جشنِ ہدایہ: بحُسن و خوبی اختتام کو پہنچا
اسکول

جشنِ ہدایہ: بحُسن و خوبی اختتام کو پہنچا

Eastern
1 min read1 views
Save this article for later

جشنِ ہدایہ: بحُسن و خوبی اختتام کو پہنچا

ای سی نیوز ڈیسک
26 جنوری 2026

جامعۃ الہدایہ کیمپس اور اس کی ذیلی شاخ الہدایہ پبلک اسکول بدلاپور کے اشتراک سے منعقد ہونے والا سالانہ پروگرام ”‌جشنِ ہدایہ“   نہایت وقار، حسنِ ترتیب اور علمی شان کے ساتھ  بحُسن و خوبی اختتام پذیر ہوا۔ اس بامقصد تقریب میں مرد و خواتین کی بڑی تعداد کی شرکت نے اس امر پر مہرِ تصدیق ثبت کر دی کہ الہدایہ کا تعلیمی و تربیتی سفر عوامی اعتماد اور مقبولیت کی نئی منزلیں طے کر رہا ہے۔
تقریب کا آغاز فضاؤں کو معطر کر دینے والی تلاوتِ قرآنِ کریم سے ہوا، جسے طلبہ نے مختلف زبانوں میں ترجمے کے ساتھ پیش کیا۔ اس روح پرور آغاز کے بعد طلبہ نے دل کو چھو لینے والے نشید، الہدایہ ترانہ، بامعنی مکالمے اور اردو، عربی، انگریزی اور مراٹھی زبانوں میں پُراثر تقاریر پیش کر کے سامعین کے دلوں میں اپنی علمی پختگی اور فکری بالیدگی کا نقش ثبت کر دیا۔

پروگرام کے یادگار اور قابلِ فخر لمحات اس وقت مزید روشن ہو گئے جب دو ہونہار طلبہ، عبدالسبحان انصاری اور شیخ علی بلال سلمہما، کو تکمیلِ حفظِ قرآنِ کریم کی عظیم سعادت حاصل کرنے پر دستارِ فضیلت، سرٹیفکیٹ اور ٹرافی سے نوازا گیا۔ اسی موقع پر ایک ممتاز طالب علم عبدالرحمن سلمہٗ کو ایک ہی نشست میں مکمل قرآنِ کریم سنانے کی غیر معمولی اور نادر سعادت حاصل کرنے پر خصوصی سند اور اعزازی سرٹیفکیٹ سے بھی سرفراز کیا گیا، جس پر حاضرینِ محفل نے بھرپور داد و تحسین پیش کی۔

Advertisement
Advertisement

اس علمی اجتماع کی شان اس وقت دوبالا ہو گئی جب ممتاز علماء اور دانشوروں نے اپنے بصیرت افروز خطابات سے سامعین کی فکری رہنمائی کی۔ جناب مولانا مفتی رفیق احمد پور کر مدنی، مفتی سید محمد حذیفہ صاحب قاسمی (بھیونڈی) اور مرکز المعارف ایجوکیشن اینڈ ریسرچ سینٹر، ممبئی کے ڈائریکٹر مولانا برہان الدین قاسمی نے اپنے خطابات میں دورِ حاضر کے دینی، تعلیمی اور سماجی چیلنجز کو نہایت سنجیدگی اور حکمت کے ساتھ واضح کیا، اور نئی نسل کو علم، کردار اور عملی بصیرت سے آراستہ کرنے پر زور دیا۔

تقریب کی نظامت دینیات ڈائریکٹر مفتی نثار احمد صاحب قاسمی اور ادارے کے مؤقر استاد نعمان سر نے نہایت خوش اسلوبی، سلیقے اور حسنِ ترتیب کے ساتھ انجام دی، جس سے پروگرام کی روانی اور دلکشی برقرار رہی۔
اختتامی مرحلے میں الہدایہ گروپ آف انسٹیٹیوشنز کے چیئرمین ڈاکٹر سید کمال انظر صاحب، فعال و متحرک کیمپس ہیڈ انجینئر سید عاقب سر اور سید حافظ عمار صاحب نے اساتذہ، منتظمین اور طلبہ کی محنت، نظم و ضبط اور اخلاص کو سراہتے ہوئے دلی شکریہ ادا کیا، اور آئندہ بھی تعلیمی و تربیتی سرگرمیوں کو مزید وسعت دینے کے عزم کا اظہار کیا۔ اس موقع پر تعلیمی، تدریسی اور ہم نصابی سرگرمیوں میں نمایاں کارکردگی دکھانے والے طلبہ اور اساتذہ کو حسبِ لیاقت تشجیعی انعامات سے نوازا گیا۔ یہ تقریب اس بات کا روشن ثبوت بنی کہ الہدایہ نہ صرف علم کا مرکز ہے بلکہ کردار سازی اور تہذیبی تربیت کا مضبوط قلعہ بھی ہے ۔

شیطان اور انسان کا معرکہ: رمضان میں کون غالب؟
Advertisement
Eastern

Eastern

Staff writer at Eastern Crescent Urdu.

View all posts →

Comments (0)

Leave a Comment

اوپر تک سکرول کریں۔