سودی نظام کا جال اور عدل معاش کی تلاش
(افغانستان کا جرأت مندانہ اور تاریخ ساز فیصلہ)
از: محمد توقیر رحمانی
لیکچرر: مرکز المعارف، ممبئی
سود پر قائم نظام اپنی ظاہری چمک کے باوجود ایک اندرونی تضاد کو اپنے ساتھ لیے چلتا ہے۔ بظاہر یہ سہولت فراہم کرتا ہے، گویا ضرورت مند کے ہاتھ میں وقتی آسودگی تھما دیتا ہے، مگر حقیقت میں یہی سہولت ایک ایسے بوجھ میں بدل جاتی ہے جو آہستہ آہستہ انسان کی آزادی اور خودمختاری کو کھا جاتا ہے۔ جیسے کوئی پیاسا شخص کھارا پانی پی کر وقتی سکون تو محسوس کرے، لیکن جوں جوں وقت گزرتا ہے، پیاس اور شدت اختیار کرلیتی ہے—یہی حال اس نظام کا ہے کہ جس میں آسانی کا دروازہ کھلتا ہوا دکھائی دیتا ہے، مگر انجام میں تنگی کے راستے وسیع ہو جاتے ہیں۔
اس نظام کی ساخت ہی ایسی ہے کہ اس میں توازن قائم نہیں رہ سکتا۔ دولت کا بہاؤ ایک خاص سمت میں رواں ہو جاتا ہے، اور پھر وہیں جمع ہوتا چلا جاتا ہے۔ جو شخص یا ادارہ سرمائے کا مالک ہے، اس کے لیے نفع یقینی ہے، چاہے وہ کسی عملی جدوجہد میں شریک ہو یا نہ ہو؛ اور جو ضرورت کے تحت اس کے سامنے ہاتھ پھیلاتا ہے، وہ اپنے ہی وسائل سے محروم ہوتا چلا جاتا ہے۔ یہ ایسا معاملہ ہے جیسے ایک درخت کی جڑوں کو مسلسل کاٹ کر اس کی شاخوں کو سرسبز رکھنے کی کوشش کی جائے—باہر سے سبزہ دکھائی دے سکتا ہے، مگر اندر سے حیات کا نظام کمزور ہو رہا ہوتا ہے۔
یہاں ایک اور گہرا پہلو بھی قابلِ غور ہے کہ اس نظام میں ہمدردی کا تصور محض ایک پردہ بن کر رہ جاتا ہے۔ قرض دینے والا بظاہر مددگار دکھائی دیتا ہے، لیکن اس مدد کے ساتھ ایسی شرط وابستہ ہوتی ہے جو لینے والے کو ایک نہ ختم ہونے والے چکر میں ڈال دیتی ہے۔ وہ اپنی بنیادی ضروریات کو کم کرتا ہے، اپنی خواہشات کو دباتا ہے، اور بسا اوقات اپنی عزتِ نفس کو بھی قربان کر دیتا ہے، صرف اس لیے کہ وہ اس بوجھ کو اتار سکے جو ہر گزرتے دن کے ساتھ مزید بڑھتا جاتا ہے۔ یہ ایک ایسا دائرہ ہے جس میں داخل ہونا آسان اور نکلنا دشوار ہوتا ہے۔
اگر اس منظر کو وسیع تر پیمانے پر دیکھا جائے تو یہی کیفیت قوموں کی سطح پر بھی نمایاں ہوتی ہے۔ جب ایک معاشرہ یا ملک اس نظام کے سہارے کھڑا ہونے کی کوشش کرتا ہے تو ابتدا میں اسے ترقی کا گمان ہوتا ہے، مگر رفتہ رفتہ اس کی خودمختاری کمزور پڑنے لگتی ہے۔ اس کے فیصلے اس کے اپنے نہیں رہتے، بلکہ وہ ان طاقتوں کے اشاروں پر چلنے لگتا ہے جن کے ہاتھ میں اس کا مالی اختیار ہوتا ہے۔ یوں ایک خاموش انحصار جنم لیتا ہے جو بظاہر معاہدوں اور تعاون کے نام پر ہوتا ہے، مگر حقیقت میں اختیار کی منتقلی کا عمل ہوتا ہے۔
اصل سوال یہ نہیں کہ یہ نظام وقتی فائدہ دیتا ہے یا نہیں، بلکہ یہ ہے کہ اس کا انجام کیا ہے اور یہ انسان کی عزت، آزادی اور توازنِ حیات پر کیا اثر ڈالتا ہے۔ کوئی بھی ایسا طریقہ جو محنت اور ذمہ داری کے بغیر نفع کو یقینی بنائے، اور ضرورت مند کو مسلسل دباؤ میں رکھے، وہ بظاہر کتنا ہی معقول کیوں نہ لگے، اپنے اندر ایک ایسا خلل رکھتا ہے جو دیر یا سویر اپنا اثر ضرور دکھاتا ہے۔ اور جب اثر ظاہر ہوتا ہے تو صرف معاشی نہیں بلکہ اخلاقی اور انسانی سطح پر بھی اس کے نقوش نمایاں ہو جاتے ہیں۔
جب اس نظام کے دائرۂ اثر کو عالمی سطح پر دیکھا جائے تو اس کی گرفت اور بھی واضح ہو جاتی ہے۔ بڑے مالیاتی ادارے، جیسے عالمی بینک اور بین الاقوامی مالیاتی فنڈ، بظاہر معاشی استحکام اور ترقی کے داعی بن کر سامنے آتے ہیں، مگر عملی سطح پر ان کا طریقۂ کار ایک ایسا جال بن جاتا ہے جس میں داخل ہونا تو آسان محسوس ہوتا ہے، لیکن نکلنا تقریباً ناممکن ہو جاتا ہے۔ ابتدا میں قرض ایک سہارا معلوم ہوتا ہے، جیسے ڈوبتے کو تنکے کا آسرا، مگر یہی سہارا آہستہ آہستہ ایک ایسے بوجھ میں بدل جاتا ہے جو پوری معیشت کی سمت متعین کرنے لگتا ہے۔
جب کوئی ملک اس دائرے میں داخل ہوتا ہے تو اس کی پالیسیوں پر اس کا اختیار کمزور پڑنے لگتا ہے۔ اس کے فیصلے اس کی داخلی ضرورتوں کے بجائے بیرونی شرائط کے تابع ہو جاتے ہیں۔ یہ کیفیت کچھ یوں ہوتی ہے جیسے کوئی شخص اپنی ضرورت کے تحت کسی کے سامنے دستِ سوال دراز کرے، اور پھر اسی ایک عمل کے نتیجے میں اپنی آزادیِ فیصلہ بھی اس کے حوالے کر دے۔ رفتہ رفتہ یہ انحصار اس حد تک بڑھ جاتا ہے کہ ملک کی معیشت، اس کی ترجیحات، حتیٰ کہ اس کے سماجی ڈھانچے پر بھی اس کے اثرات مرتب ہونے لگتے ہیں۔
سب سے پیچیدہ پہلو یہ ہے کہ اس نظام میں ایک بار الجھ جانے کے بعد واپسی کا راستہ مسدود سا ہو جاتا ہے۔ قرض کی ادائیگی کے لیے مزید قرض لینا پڑتا ہے، اور یوں یہ سلسلہ ایک نہ ختم ہونے والے دائرے کی شکل اختیار کر لیتا ہے۔ یہ ایسا چکر ہے جس میں گردش تو جاری رہتی ہے، مگر پیش قدمی کہیں دکھائی نہیں دیتی۔ بظاہر معاہدے اور تعاون کے نام پر یہ تعلق قائم رہتا ہے، مگر حقیقت میں یہ ایک ایسی وابستگی بن جاتی ہے جس سے نجات کی ہر کوشش مزید الجھاؤ کا سبب بنتی ہے۔
یوں محسوس ہوتا ہے کہ اس گرفت سے مکمل آزادی کا تصور محض ایک نظری امکان بن کر رہ گیا ہے—ایسا امکان جو عملی دنیا میں شاذ ہی کسی کو میسر آتا ہے۔ اسی لیے بعض اوقات یہ تاثر ابھرتا ہے کہ اس جال سے نکلنے کا راستہ کسی معمولی تدبیر سے نہیں، بلکہ ایک ہمہ گیر تبدیلی سے وابستہ ہے؛ ایسی تبدیلی جو صرف نظام کو نہیں بلکہ اس کے پسِ منظر میں کارفرما سوچ کو بھی بدل دے۔ یہی وہ نکتہ ہے جہاں سوال صرف معاشی نہیں رہتا، بلکہ ایک گہری فکری اور انسانی بحث میں تبدیل ہو جاتا ہے۔
ایسے ماحول میں، جہاں پوری دنیا ایک ہی معاشی دھارے میں بہتی دکھائی دیتی ہے اور اس سے ہٹ کر سوچنا بھی ناممکن سا محسوس ہوتا ہے، کسی ایک معاشرے کا اس عمومی روش سے الگ راستہ اختیار کرنا محض ایک معاشی فیصلہ نہیں بلکہ ایک فکری اعلان ہوتا ہے۔ یہ اعلان دراصل اس یقین کی ترجمانی کرتا ہے کہ انسان کے بنائے ہوئے نظام، چاہے کتنے ہی مستحکم کیوں نہ دکھائی دیں، بہرحال ناقص ہو سکتے ہیں، اور ان کے مقابلے میں ایک ایسا راستہ بھی موجود ہے جو انسان کی فطرت، ضرورت اور عدل کے تقاضوں سے زیادہ ہم آہنگ ہے۔
اسی پس منظر میں افغانستان کا سود سے پاک اسلامی نظام معیشت کو اختیار کرنا ایک غیر معمولی قدم کے طور پر سامنے آتا ہے۔ یہ محض کسی نئے تجربے کی شروعات نہیں، بلکہ ایک ایسے اصول کی طرف رجوع ہے جو پہلے بھی انسانی معاشرے میں آزمودہ رہا ہے۔ اس نظام کی بنیاد اس تصور پر قائم ہے کہ دولت کا بہاؤ فطری توازن کے ساتھ جاری رہے، نہ کہ ایک طرف سمٹ کر طاقت کا ذریعہ بن جائے۔ یہاں نفع کا تعلق محض سرمائے سے نہیں بلکہ محنت، ذمہ داری اور خطرے کی شراکت سے جوڑا جاتا ہے، تاکہ کسی ایک فریق پر بوجھ نہ پڑے اور دوسرے کے لیے یکطرفہ فائدہ یقینی نہ ہو۔
اس تاریخی فیصلے کا اعلان مرکزی بینک (دا افغانستان بینک) کے ڈائریکٹر بینکنگ اینڈ فنانشل سروسز، ڈاکٹر لطف اللہ خیرخواہ نے 15 اپریل 2026 کو کی۔ اس اعلان کے مطابق افغانستان کے تمام تجارتی اور سرکاری مالیاتی اداروں سے سود (ربا) کا مکمل خاتمہ کر دیا گیا ہے اور ملک کا بینکنگ سیکٹر اب مکمل طور پر اسلامی شریعہ کے اصولوں پر منتقل ہو چکا ہے۔ اگرچہ اس عمل کا آغاز طالبان حکومت کی واپسی کے بعد مارچ 2022 میں ایک ہدایت نامے کے ذریعے ہوا تھا، لیکن اپریل 2026 کا یہ حالیہ اعلان اس نظام کے مکمل اور حتمی نفاذ کی علامت ہے۔ یہ پورے عالمی نظام معیشت کیلئے چیلنج اور عالم اسلام کی غیرت و حمیت کو للکار ہے۔
بہرحال، جب ایک معاشرہ اس اصول کو قبول کرتا ہے تو وہ دراصل اپنے اقتصادی رویّے کی سمت بدلتا ہے۔ اب لین دین محض فائدے کے حصول کا ذریعہ نہیں رہتا بلکہ ایک باہمی تعاون کی شکل اختیار کر لیتا ہے۔ ضرورت مند کی مدد اس طرح کی جاتی ہے کہ اس کی مجبوری کو مستقل کمزوری میں تبدیل نہ کیا جائے، اور سرمائے کے مالک کو بھی اس بات کا احساس رہے کہ اس کا فائدہ کسی دوسرے کے نقصان پر قائم نہیں ہونا چاہیے۔ یہ وہ نکتہ ہے جہاں معاشی سرگرمی ایک اخلاقی دائرے میں داخل ہو جاتی ہے۔
افغانستان کی حالیہ پیش رفت اسی فکری تبدیلی کی عکاس ہے۔ جب وہاں کے مالیاتی اداروں سے سودی معاملات کو ختم کرنے کا اعلان کیا گیا تو یہ دراصل ایک علامتی قدم نہیں تھا، بلکہ اس بات کا اظہار تھا کہ پورے نظام کی بنیاد کو نئے اصولوں پر استوار کیا جا رہا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ معیشت کے ہر پہلو میں اس تبدیلی کو سرایت دی جائے، تاکہ محض نام کی تبدیلی نہ ہو بلکہ عملی سطح پر ایک مختلف طرزِ فکر غالب آ جائے۔ ایسی تبدیلیاں وقتی طور پر مشکلات بھی پیدا کرتی ہیں، کیونکہ پرانے ڈھانچے سے نکل کر نئے راستے پر چلنا آسان نہیں ہوتا، مگر یہی وہ مرحلہ ہوتا ہے جہاں کسی معاشرے کا حقیقی عزم سامنے آتا ہے۔
یہ قدم ایک اور پہلو سے بھی اہم ہے کہ یہ اس تصور کو چیلنج کرتا ہے کہ موجودہ عالمی نظام کے علاوہ کوئی متبادل ممکن نہیں۔ جب ایک ملک عملی طور پر یہ دکھاتا ہے کہ وہ ایک مختلف اصول پر اپنی معیشت کو ترتیب دے سکتا ہے، تو وہ دراصل ایک فکری دروازہ کھولتا ہے۔ اب سوال صرف یہ نہیں رہتا کہ کون سا نظام رائج ہے، بلکہ یہ بھی اہم ہو جاتا ہے کہ کون سا نظام زیادہ عادلانہ، پائیدار اور انسانی وقار کے مطابق ہے۔
آخرکار، کسی بھی معاشی نظام کی اصل کامیابی اس کے اعداد و شمار میں نہیں بلکہ اس کے انسانی اثرات میں پوشیدہ ہوتی ہے۔ اگر کوئی طریقہ انسان کو باوقار بناتا ہے، اس کی ضرورت کو بوجھ میں تبدیل نہیں کرتا، اور معاشرے میں توازن پیدا کرتا ہے، تو وہی طریقہ دیرپا ثابت ہوتا ہے۔ افغانستان کا یہ قدم اسی سمت میں ایک کوشش ہے—ایک ایسی کوشش جو نہ صرف اپنے لیے بلکہ دنیا کے لیے بھی ایک سوال چھوڑتی ہے کہ کیا واقعی انصاف اور توازن پر مبنی معیشت صرف ایک خواب ہے، یا اسے حقیقت کا روپ بھی دیا جا سکتا ہے؟