جامعہ اسلامیہ کوکن — دینی و عصری تعلیم کا حسین امتزاج
از: مفتی جسیم الدین قاسمی
استاذ، مرکز المعارف، ممبئی
مہاراشٹر کے خوبصورت اور پُرسکون علاقے کوکن کے شہر مہاڈ کے پہاڑی مقام کاملہ میں قائم جامعہ اسلامیہ کوکن موجودہ دور کے تعلیمی اداروں میں ایک نمایاں اور مثالی حیثیت رکھتا ہے۔ یہ ادارہ 1998 میں انجمن دردمندان تعلیم و ترقی ٹرسٹ کے زیر اہتمام قائم کیا گیا، جس کا بنیادی مقصد ایسا تعلیمی نظام فراہم کرنا تھا جس میں دینی اور عصری علوم کا بہترین امتزاج ہو۔ آج یہ ادارہ اپنے اسی مقصد میں کامیابی کے ساتھ آگے بڑھ رہا ہے اور ملت کے لیے ایک روشن مثال بن چکا ہے۔
جامعہ اسلامیہ کوکن کی سب سے بڑی خصوصیت یہ ہے کہ یہاں طلبہ کو صرف دینی تعلیم تک محدود نہیں رکھا جاتا بلکہ انہیں عصری علوم سے بھی آراستہ کیا جاتا ہے۔ اسی وژن کو مزید وسعت دینے کے لیے 2001 میں "دردمند اسکول” کی بنیاد رکھی گئی، جہاں طلبہ کو اسکولی تعلیم کے ساتھ ساتھ اسلامی تعلیمات، عقائد، سیرت، تاریخ اسلام، اخلاقیات، روزمرہ دعائیں اور قرآن کریم کی تعلیم بھی دی جاتی ہے۔ اس کے نتیجے میں طلبہ ایک متوازن شخصیت کے حامل بنتے ہیں جو دین اور دنیا دونوں میدانوں میں کامیابی حاصل کرنے کے قابل ہوتے ہیں۔
ادارے کی تعلیمی ترقی کا اندازہ اس کے سالانہ اجلاس سے بخوبی لگایا جا سکتا ہے، جس میں طلبہ کی شاندار کارکردگی سامنے آئی۔ اس موقع پر 18 حفاظ کرام کی دستاربندی کی گئی، 6 نئے علماء فارغ ہوئے، 6 طلبہ نے گریجویشن مکمل کیا، 47 طلبہ بارہویں پاس ہوئے، 92 طلبہ دسویں میں کامیاب ہوئے اور 14 طلبہ نے NEET جیسے اہم امتحان میں کامیابی حاصل کی۔ یہ نتائج اس بات کا واضح ثبوت ہیں کہ ادارہ دینی اور عصری دونوں میدانوں میں یکساں توجہ دے رہا ہے۔
جامعہ کے ذمہ داران کی دور اندیشی اور اساتذہ کی محنت کا نتیجہ ہے کہ آج یہاں کے طلبہ نہ صرف حفظ قرآن مکمل کرتے ہیں بلکہ گریجویشن کے ساتھ ساتھ عالمیت اور فضیلت کی تعلیم بھی حاصل کرتے ہیں۔ یہ ماڈل اس بات کی عملی مثال ہے کہ اگر صحیح منصوبہ بندی اور مخلص قیادت موجود ہو تو دینی و عصری تعلیم کا امتزاج نہ صرف ممکن ہے بلکہ انتہائی کامیاب بھی ہو سکتا ہے۔
۱۲ فروری ۲۰۲۶ کو سالانہ اجلاس میں شرکت کا موقع ملا، اس اجلاس میں ملک کے کئی ممتاز اہل علم نے شرکت کی اور اپنے قیمتی خیالات سے نوازا۔ چنانچہ مولانا بلال حسنی ندوی، ناظم ندوۃ العلماء و سکریٹری آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ نے علم کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے فرمایا کہ قرآن مجید کی پہلی وحی میں "اقرأ” کا حکم دیا گیا اور "قلم” کا ذکر کیا گیا، جو اس بات کی واضح دلیل ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس امت کو آغاز ہی سے علم کے ساتھ وابستہ کر دیا ہے۔ ایک امّی قوم میں امّی نبی کو مبعوث فرمایا اور پھر اسی امت میں علم کے سوتے جاری فرما دیے۔
انہوں نے مزید کہا کہ حضرت آدم علیہ السلام کو دیگر مخلوقات پر جو فضیلت اور برتری حاصل ہوئی، وہ علم ہی کی بدولت تھی۔ درحقیقت علم ایک اکائی ہے، اس میں کوئی تقسیم نہیں؛ البتہ وہ علم سب سے افضل ہے جو انسان کو اللہ تعالیٰ سے جوڑ دے۔
مزید وضاحت کرتے ہوئے انہوں نے فرمایا کہ جب انسان سائنس، جغرافیہ اور طب جیسے علوم میں غور و فکر کے ساتھ آگے بڑھتا ہے تو اسے اللہ تعالیٰ کی قدرت کی نشانیاں اور اس کی معرفت حاصل ہوتی ہے، جو اس کے ایمان کو مزید مضبوط کرتی ہیں۔
اسی طرح اجلاس کے مہمان خصوصی مولانا برہان الدین قاسمی، ڈائریکٹر مرکز المعارف، ممبئی نے اپنے خطاب میں اس ادارے کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ پندرہ بیس سال پہلے جس تصور کو محض ایک خواب سمجھا جاتا تھا، آج اس ادارے نے اسے حقیقت کا روپ دے کر یہ ثابت کر دیا ہے کہ اعلیٰ معیار کی دینی تعلیم کے ساتھ عصری علوم کی اعلیٰ تعلیم بھی بیک وقت دی جا سکتی ہے۔ بلاشبہ یہ ایک مثالی ادارہ ہے جو ہماری رہنمائی کرتا ہے۔
اپنی ناکامیوں کا الزام دوسروں پر ڈالنا کمزور قوموں کی علامت ہے، جبکہ ہم اہلِ اسلام ایک مضبوط ملت ہیں۔ ہمیں چاہیے کہ اپنی کوتاہیوں کا جائزہ لیں، سستی اور غفلت کو چھوڑ کر مثبت انداز میں تعلیم کی تحریک کو مزید تیز کریں اور اپنی نسل کو ترقی کی راہ پر گامزن رکھیں۔ اگر ہم اس ملک میں عزت و وقار کے ساتھ جینا چاہتے ہیں تو دینی اور عصری تعلیم کو مضبوطی سے تھامنا ہوگا، ورنہ ہمیں بھی دوسروں کی طرح پستی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
طلبہ کو مخاطب کرتے مزید یہ کہا کہ امت نے آپ کو اس مقام تک پہنچایا ہے، اس لیے آپ اس کی امانت ہیں۔ آپ کی ذمہ داری ہے کہ اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لا کر قوم و ملت کی خدمت کریں اور اس امانت کا حق ادا کریں۔
اجلاس میں طلبہ نے جدید موضوعات پر بھی اپنی صلاحیتوں کا مظاہرہ کیا، جن میں مصنوعی ذہانت (AI) کے فوائد و نقصانات پر انگریزی تقریر خاص طور پر قابل ذکر رہی۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ ادارہ جدید دور کے تقاضوں سے ہم آہنگ تعلیم فراہم کر رہا ہے۔
ادارے کے صدر مفتی رفیق پورکر مدنی، مہتمم مولانا اسحاق قاسم گھارے اور دیگر ذمہ داران کی قیادت میں یہ ادارہ مسلسل ترقی کی راہ پر گامزن ہے۔ ان کی محنت، اخلاص اور وژن نے جامعہ اسلامیہ کوکن کو ایک ایسا تعلیمی مرکز بنا دیا ہے جو نہ صرف مہاراشٹر بلکہ پورے ملک کے لیے ایک مثالی نمونہ ہے۔
آخر میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ جامعہ اسلامیہ کوکن ایک ایسی روشن مثال ہے جہاں دین اور دنیا کی تعلیم کو یکجا کر کے ایک باصلاحیت، باکردار اور باعمل نسل تیار کی جا رہی ہے۔ یہ ادارہ اس حقیقت کی عملی تعبیر ہے کہ اگر نیت خالص ہو اور قیادت مخلص ہو تو تعلیم کے ذریعے قوم کی تقدیر بدلی جا سکتی ہے۔