ٹرینڈنگ
مشرقِ وسطیٰ میں امریکہ-اسرائیل اتحاد کو ایک اور بڑا دھچکامرکز المعارف ایجوکیشن اینڈ ریسرچ سینٹر، ممبئی میں انگریزی تقریری مقابلے کا انعقادشیخ محمد یحییٰ باسکندی کی مرکز المعارف، ممبئی آمد؛ طلبہ سے خطاب، تعلیم، تزکیہ اور تعلق مع اللہ کی اہمیت پر زورکیا ملت کو بیدار کرنے کی تمام کوششیں بند کردی جائیں!تحریک ریشمی روما ل: تاریخ کا ایک فراموش کردہ باباسلام اسپیکس: زبانِ عصر میں پیغامِ اسلام کی مؤثر ترجمانیملی اداروں کا مستقبل اور نوکِ قلم پر لٹکتی تلوار: ایف سی آر اے (FCRA) ترمیمی بل 2026 کا ایک تجزیہہواہےگوتیزوتندلیکن چراغ اپناجلارہاہےمشرقِ وسطیٰ میں امریکہ-اسرائیل اتحاد کو ایک اور بڑا دھچکامرکز المعارف ایجوکیشن اینڈ ریسرچ سینٹر، ممبئی میں انگریزی تقریری مقابلے کا انعقادشیخ محمد یحییٰ باسکندی کی مرکز المعارف، ممبئی آمد؛ طلبہ سے خطاب، تعلیم، تزکیہ اور تعلق مع اللہ کی اہمیت پر زورکیا ملت کو بیدار کرنے کی تمام کوششیں بند کردی جائیں!تحریک ریشمی روما ل: تاریخ کا ایک فراموش کردہ باباسلام اسپیکس: زبانِ عصر میں پیغامِ اسلام کی مؤثر ترجمانیملی اداروں کا مستقبل اور نوکِ قلم پر لٹکتی تلوار: ایف سی آر اے (FCRA) ترمیمی بل 2026 کا ایک تجزیہہواہےگوتیزوتندلیکن چراغ اپناجلارہاہے

بلڈوزر جسٹس’ والوں کو منھ توڑ جواب ، قانون کی حکمرانی کی طرف اہم قدم:سپریم کورٹ کے فیصلہ پر مولانا محمود مدنی کا ردعمل

0%
بلڈوزر جسٹس’ والوں کو منھ توڑ جواب ، قانون کی حکمرانی کی طرف اہم قدم:سپریم کورٹ کے فیصلہ پر مولانا محمود مدنی کا ردعمل
صوبائی سیاست

بلڈوزر جسٹس’ والوں کو منھ توڑ جواب ، قانون کی حکمرانی کی طرف اہم قدم:سپریم کورٹ کے فیصلہ پر مولانا محمود مدنی کا ردعمل

Eastern
1 min read2 views
Save this article for later

بلڈوزر جسٹس’ والوں کو منھ توڑ جواب ، قانون کی حکمرانی کی طرف اہم قدم:سپریم کورٹ کے فیصلہ پر مولانا محمود مدنی کا ردعمل

ای سی نیوز ڈیسک
 13 نومبر 2024

نئی دہلی :بلڈوزر کارروائی پر سپریم کورٹ کا بڑا فیصلہ آیا ہے، سپریم کورٹ نے کہا بلڈوزر چلا كر کسی کا گھر توڑنا جرم کی سزا نہیں ہے۔ حکومت جج نہیں بن سکتی جو ملزم کے گھر کو بلڈوز سے توڑنے کا فیصلہ دے۔ سچ اور حقیقت کا تعین عدلیہ ہی کرے گی۔ سپریم کورٹ نے مزید کہا کہ سرکار  جج نہیں بن سکتی ، بلڈوزر جسٹس نہیں ہوگی، اگر افسران نے قانون توڑ کر گھر گرایا تو سزا دی جائے گی۔

جمعیۃ علماء ہند کے صدر اور نام نہاد بلڈوزر جسٹس کے خلاف اولین عرضی گزار مولانا محمود مدنی نے "بلڈوزر انصاف” کے خلاف فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے اسے قانون کی حکمرانی اور شہریوں کے بنیادی حقوق کے تحفظ کی جانب ایک اہم قدم قرار دیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ انصاف کا خون کرنے والوں کو منہ توڑ جواب ملاہے۔ انھوں نے کہا، "یہ فیصلہ اس بات کی یاد دہانی ہے کہ کسی بھی فرد کے قصوروار ہونے کا فیصلہ عدالت کا اختیار ہے نہ کہ انتظامیہ کا۔ سرکاری ادارے اور افسران جو عدالت بن کر لوگوں کی املاک کو منہدم کر رہے تھے، انہیں یہ بات ذہن نشین کر لینی چاہیے کہ ایسے غیر قانونی اقدامات ناقابل قبول ہیں، مولانا مدنی نے کہا کہ بلڈوزر جسٹس کے مکروہ عمل سے حکومتوں کے دامن بھی صاف نہیں ہیں ، امید ہے کہ حکومتیں اس فیصلے سے نصیحت حاصل کرے گی۔”

مولانا مدنی نے زور دیتے ہوئے کہا کہ ان تمام افراد کو معاوضہ دیا جائے جن کی املاک بغیر مناسب قانونی عمل کے منہدم کی گئی ہیں۔انھوں نے کہا کہ آئین ہر شہری کے بنیادی حقوق کی حفاظت کرتا ہےاور ان کے خلاف کسی بھی غیر آئینی اقدام کو روکا جانا ضروری ہے۔ جمعیۃ علماء ہند نے ہمیشہ اصول انصاف اور آئینی حقوق کی حفاظت کے لیے آواز بلند کی ہےاور اس فیصلے کے بعد ہمارا عزم مزید مضبوط ہوا ہے کہ ہم اس مقصد کے لیے اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے۔اس موقع پر مولانا محمود اسعد مدنی نے جمعیۃ کے سبھی وکیلوں اور دیگر عرضی گزاروں کو مبارکباد دی جن کی جد و جہد سے انصاف کا چراغ جلا ہے۔ واضح ہو کہ سپریم کورٹ نے آج اپنے تاریخی فیصلہ میں عدالت نے صاف کہا کہ بلڈوزر کارروائیوں کا عمل آئین کے تحت افراد کے حقوق کی خلاف ورزی ہے کسی بھی ملزم کی جائیداد سزا کے طور پر نہیں گرائی جا سکتی۔ عدالت نے حکومتی اختیارات کے غلط استعمال پر بھی روک لگا یا۔ عدالت نے مزید کہا کہ جب بھی کسی جائیداد کو منہدم کرنے کا حکم دیا جائے، اس کے لیے عدلیہ کی نگرانی ضروری ہے تاکہ کسی بھی قسم کی غیر قانونی کارروائی سے بچا جا سکے۔ قابل ذکر ہے کہ مولانا محمود مدنی کی طرف سے دائر عرض نمبر 295/2022کی سماعت کرتے ہوئے سپریم کورٹ نے یہ فیصلہ سنایاہے۔

Eastern

Eastern

Staff writer at Eastern Crescent Urdu.

View all posts →

Comments (0)

Leave a Comment

اوپر تک سکرول کریں۔