سید محمد نقیب العطاس: سوانحِ حیات اور علمی خدمات

Eastern
8 Min Read
4 Views
8 Min Read

سید محمد نقیب العطاس: سوانحِ حیات اور علمی خدمات

از: مولانا صادق ابوحسان پوترک فلاحی

معاصر اسلامی فکر میں جن مفکرین نے اسلامی تہذیب، علم اور تعلیم کے بنیادی تصورات کو نئے انداز میں واضح کیا ہے ان میں سید محمد نقیب العطاس کا نام خاص اہمیت رکھتا ہے۔ وہ ان مفکرین میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے جدید دور میں مسلمانوں کے فکری بحران کو محض سیاسی یا معاشی مسئلہ نہیں بلکہ ایک علمی اور تہذیبی مسئلہ کے طور پر سمجھنے کی کوشش کی۔ ان کی تحریروں اور تعلیمی منصوبوں کا مرکزی مقصد یہ تھا کہ مسلمانوں کو اپنے تصورِ علم، تصورِ انسان اور تصورِ تہذیب کو از سر نو سمجھنے میں مدد دی جائے۔

سید محمد نقیب العطاس کی پیدائش 5 ستمبر 1931ء کو انڈونیشیا کے شہر بوگور میں ہوئی۔ ان کا تعلق ایک ایسے علمی اور روحانی خاندان سے تھا جس کی جڑیں اسلامی علمی روایت سے وابستہ تھیں۔ ان کے خاندان کی نسبت سادات کے سلسلے سے جوڑی جاتی ہے، جس کے باعث بچپن ہی سے ان کی تربیت میں اسلامی تہذیب، ادب اور روحانیت کا رنگ نمایاں رہا۔ یہی خاندانی ماحول بعد میں ان کی فکری تشکیل میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔
ابتدائی تعلیم کے بعد انہوں نے مختلف ممالک میں اعلیٰ تعلیم حاصل کی۔ انہوں نے ملایا یونیورسٹی میں تعلیم حاصل کی اور اس کے بعد برطانیہ کی رائل ملٹری اکیڈمی سینڈہرسٹ میں بھی کچھ عرصہ تعلیم و تربیت حاصل کی۔ بعد ازاں ان کی علمی دلچسپی مکمل طور پر اسلامیات اور فلسفہ کی طرف متوجہ ہو گئی۔ اس مقصد کے لیے انہوں نے McGill University (کینیڈا) میں اسلامی علوم کی تعلیم حاصل کی اور پھر School of Oriental and African Studies (SOAS)، یونیورسٹی آف لندن سے اسلامی فلسفہ میں ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی۔ ان کی پی ایچ ڈی کا موضوع ملائشیا کے صوفی مفکر حمزہ فنصوری کی فکر اور تصوف تھا، جس کے ذریعے انہوں نے اسلامی تصوف اور ملائی اسلامی روایت کے فکری پہلوؤں کو علمی انداز میں پیش کیا۔

Advertisement
Advertisement

تعلیم مکمل کرنے کے بعد سید نقیب العطاس نے ملائشیا میں علمی اور تعلیمی خدمات انجام دینا شروع کیں۔ انہوں نے نہ صرف تدریس کے میدان میں اہم کردار ادا کیا بلکہ اسلامی فکر کے احیاء کے لیے ادارہ جاتی سطح پر بھی کام کیا۔ ان کی سب سے بڑی علمی خدمات میں International Institute of Islamic Thought and Civilization (ISTAC) کا قیام شامل ہے۔ یہ ادارہ انہوں نے اس مقصد کے تحت قائم کیا تھا کہ اسلامی تہذیب کے علمی ورثے کو جدید دنیا کے سامنے منظم انداز میں پیش کیا جائے اور مسلم نوجوانوں کو ایسا فکری ماحول فراہم کیا جائے جس میں وہ اپنی تہذیبی شناخت کو سمجھ سکیں۔ ISTAC جلد ہی اسلامی تہذیب اور اسلامی فلسفہ کی تحقیق کا ایک ممتاز مرکز بن گیا۔

سید نقیب العطاس کی فکری کاوشوں کا ایک اہم پہلو اسلامی تصورِ علم کی وضاحت ہے۔ ان کے نزدیک مسلمانوں کا سب سے بڑا مسئلہ علم کی کمی نہیں بلکہ علم کے صحیح مفہوم سے دوری ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ علم کا مقصد محض معلومات حاصل کرنا نہیں بلکہ حقیقت کو اس کے درست مقام پر پہچاننا ہے۔ ان کے مطابق جب انسان حقیقت کی صحیح درجہ بندی کو سمجھتا ہے تو اس کے اندر ایک خاص قسم کا ادب پیدا ہوتا ہے، یعنی وہ ہر چیز کو اس کے مناسب مقام پر رکھتا ہے۔ العطاس کے نزدیک موجودہ دور کا فکری بحران دراصل ادب کے زوال کا نتیجہ ہے۔

اسی تناظر میں انہوں نے جدید مغربی فکر پر بھی تنقیدی نظر ڈالی۔ ان کے مطابق جدید مغربی تہذیب کی بنیاد ایسے فلسفیانہ تصورات پر قائم ہے جو دین کو زندگی کے مجموعی نظام سے الگ کر دیتے ہیں۔ اس لیے انہوں نے مسلمانوں کو متنبہ کیا کہ اگر وہ جدید علوم کو بغیر تنقیدی جائزے کے قبول کریں گے تو ان کے اندر غیر شعوری طور پر سیکولر تصورات بھی داخل ہو جائیں گے۔ چنانچہ انہوں نے اسلامائزیشن آف نالج (Islamization of Knowledge) کا تصور پیش کیا، جس کا مقصد یہ تھا کہ جدید علوم کو اسلامی تصورِ حقیقت اور اسلامی اخلاقی اصولوں کے مطابق سمجھا اور مرتب کیا جائے۔
تعلیم کے میدان میں بھی سید نقیب العطاس نے ایک اہم نظریہ پیش کیا۔ ان کے نزدیک تعلیم کا مقصد صرف ایک اچھا شہری یا ماہر پیشہ ور پیدا کرنا نہیں بلکہ ایک اچھا انسان (Good Man) تیار کرنا ہے۔ ان کے خیال میں اسلامی تعلیم کا حقیقی ہدف یہ ہونا چاہیے کہ انسان کے اندر اخلاقی، روحانی اور علمی توازن پیدا ہو اور وہ اپنے خالق، معاشرے اور کائنات کے ساتھ صحیح تعلق قائم کر سکے۔

سید نقیب العطاس نے اپنے افکار کو متعدد اہم کتابوں کے ذریعے پیش کیا۔ ان کی مشہور تصانیف میں Islam and Secularism، The Concept of Education in Islam اور Prolegomena to the Metaphysics of Islam شامل ہیں۔ ان کتابوں میں انہوں نے اسلامی تہذیب کے فکری اصولوں، اسلامی فلسفۂ تعلیم اور جدید مغربی فکر کی تنقید کو نہایت گہرائی کے ساتھ بیان کیا ہے۔ ان کی تحریروں کا اسلوب علمی ہونے کے ساتھ ساتھ تہذیبی شعور سے بھرپور ہے۔

Advertisement
Advertisement

مجموعی طور پر دیکھا جائے تو سید محمد نقیب العطاس کی فکر کا مرکزی پیغام یہ ہے کہ مسلمانوں کی علمی اور تہذیبی نشاۃ ثانیہ اسی وقت ممکن ہے جب وہ اپنے تصورِ علم، تصورِ تعلیم اور تصورِ تہذیب کو اسلامی بنیادوں پر دوبارہ سمجھیں۔ انہوں نے اپنی زندگی اور علمی خدمات کے ذریعے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی کہ اسلام صرف ایک مذہبی عقیدہ نہیں بلکہ ایک مکمل تہذیبی اور فکری نظام ہے جو انسانی زندگی کے تمام پہلوؤں کی رہنمائی کر سکتا ہے۔

اس طرح سید محمد نقیب العطاس معاصر اسلامی فکر کے ان اہم مفکرین میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے جدید دور میں مسلمانوں کے فکری اور تعلیمی مسائل کو سمجھنے اور ان کا حل پیش کرنے میں گراں قدر خدمات انجام دی ہیں۔ ان کی تحریریں آج بھی اسلامی تعلیم، اسلامی فلسفہ اور اسلامی تہذیب کے مطالعے میں بنیادی اہمیت رکھتی ہیں۔

Share This Article
کوئی تبصرہ نہیں ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Trending News

مرکزالمعارف ممبئی میں اکیسواں جلسۂ تقسیمِ اسناد کا شاندار انعقاد

مرکزالمعارف ممبئی میں اکیسواں جلسۂ تقسیمِ اسناد کا شاندار انعقاد ای سی…

Eastern

ایران، عالمی مزاحمت اور مغربی بالادستی کا زوال

ایران، عالمی مزاحمت اور مغربی بالادستی کا زوال از: محمد برہان الدین…

Eastern

”سامعین کی توجہ اور فکری وزن کے بغیر تقریر بے اثر ہے“_سہیل مسعود

”سامعین کی توجہ اور فکری وزن کے بغیر تقریر بے اثر ہے“_سہیل…

Eastern

ٹریل بلیزر: فکر، ایمان و سائنس کا سنگم

ٹریل بلیزر: فکر، ایمان و سائنس کا سنگم از____ محمد توقیر رحمانی…

Eastern

ماہ ربیع الاول اور اسوۂ نبوی ﷺ کا تقاضا

ماہ ربیع الاول اور اسوۂ نبوی ﷺ کا تقاضا از____ محمد توقیر…

Eastern

انسان کی تخلیق محض وجود کیلئےنہیں ، خلافتِ ارضی کی عظیم ذمہ داری کیلئے ہے

انسان کی تخلیق محض وجود کیلئےنہیں ، خلافتِ ارضی کی عظیم ذمہ…

Eastern

Quick LInks

سید محمد نقیب العطاس: سوانحِ حیات اور علمی خدمات

سید محمد نقیب العطاس: سوانحِ حیات اور علمی خدمات از: مولانا صادق…

Eastern

بہار میں کھیل ہوگیا

بہار میں کھیل ہوگیا از: محمد برہان الدین قاسمی ایڈیٹر: ایسٹرن کریسنٹ…

Eastern

ایک کھلا خط

ایک کھلا خط عرب اور خلیج فارس کے مسلم حکمرانوں کے نام،…

Eastern