بہار میں کھیل ہوگیا
از: محمد برہان الدین قاسمی
ایڈیٹر: ایسٹرن کریسنٹ
اب بہار میں بھی مہاراشٹر کی طرح کھیل ہو گیا نا! آپ حضرات کو اگر یاد ہو تو میں نے بہار کے انتخابات سے تقریباً پندرہ روز پہلے، اور پھر نتیجے کے ایک دن بعد، جو لکھا تھا تقریباً ویسا ہی ہو رہا ہے۔ نتیش کمار وزیرِ اعلیٰ کی کرسی خالی کر رہے ہیں۔ ان کے پاس اس کے علاوہ کوئی سیاسی چارہ بھی نہیں۔ اب بہار بھی یو پی اور آسام کی طرف چل پڑا ہے، جہاں سے واپسی کافی مشکل ہوگی۔
کچھ لوگ کہہ رہے ہیں کہ ہمارے ساتھ دھوکہ ہوا اور نتیش کمار نے عوامی رائے، خاص کر مسلمانوں کے ووٹ بیچ دیے۔ تو ان کے لیے عرض ہے کہ حضور! اس دنیا میں اتنا مغفّل ہونا بھی ایک جرم ہے، اور پھر کہنے والوں نے تو چلا چلا کر آپ کو کہا تھا کہ نتیش کمار اس مرتبہ وزیرِ اعلیٰ کے طور پر ایک سال بھی مکمل نہیں کر پائیں گے۔ اب تو پانچ مہینے بھی مکمل نہیں ہوئے اور نتیش جی دہلی کو چل دیے۔ اس لیے کسی اور کو دھوکہ باز بول کر اپنے آپ کو اور اپنی آنے والی نسلوں کو مزید دھوکہ نہ دیجیے، جناب۔
واضح رہے کہ یہ سب مغربی بنگال کے آنے والے انتخابات کو سامنے رکھ کر کیا گیا ہے، جہاں بہار اور یو پی سے تعلق رکھنے والے ووٹروں کی تعداد خاصی ہے اور جن کی کلکتہ کی تجارت پر بھی اچھی خاصی پکڑ ہے۔ بنگال والوں کو بابری مسجد اور اپنے قائد والی نعرۂ تکبیر — اللہ اکبر کی سیاست سے ہوشیار رہنا چاہیے، ورنہ وہاں کے حالات یو پی اور آسام سے بھی زیادہ خراب ہو سکتے ہیں۔
باقی کہنے کے لیے مسلمان اللہ کے سوا کسی سے نہیں ڈرتا، اور بی جے پی کا ڈر دکھا کر نام نہاد سیکولر پارٹیوں کے لیے ووٹ مانگنا "خلافِ ایمان عمل ہے”؛ لیکن عملی طور پر، عرب ممالک کی طرح، کچھ ہندوستانی مسلمان جھنڈ میں پیٹے جاتے ہیں اور کبھی کبھی بیچارے غریب عوام بسوں، ٹرینوں اور پارکوں میں ہاتھ جوڑ کر "جے شری رام” کا نعرہ بھی لگانے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔ جان بچانے کے لیے حرام یا کفر و شرکیہ کلمات زبان سے ادا کر لینے سے ایمان خراب تھوڑی ہوتا ہے! "بھائی جان” کے لوگ پارلیمنٹ اور اسمبلیوں میں مسلم مخالف بل کا مسودہ پھاڑ دیں گے تو ہمارے ایمان اپنی جگہ طاقتور ہو جائے گا، ان شاء اللہ۔