زندگی کا جوہر اور طویل عمری کے راز: ایک 104 سالہ طبیب کا تجربہ
میں ڈاکٹر ایلس ورتھ ویرہمو ایک مشہور امریکی ہارٹ سرجن۔۔۔۔ طب کی دنیا میں اپنے 53 سالہ طویل سفر کے دوران میں نے چار ہزار سے زائد انسانوں کو موت کی آغوش میں جاتے دیکھا۔ میں نے ان کے ڈیتھ سرٹیفکیٹ پر دستخط کیے، ان کے آخری لمحات میں ان کا ہاتھ تھاما اور ان کے سوگوار خاندانوں کو دلاسا دیا۔ اس طویل مشاہدے کے بعد میں ایک گہری حقیقت تک پہنچا ہوں: ان میں سے اکثر لوگوں کو اُس وقت مرنے کی ضرورت نہیں تھی جب وہ مرے۔ یہ نہ جینیات کا معاملہ تھا اور نہ ہی محض بدقسمتی کا، بلکہ زیادہ تر یہ ان کے اپنے طرزِ زندگی اور فیصلوں کا نتیجہ تھا۔ میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے کہ کون لوگ طویل عمر پاتے ہیں اور کون اچانک دنیا سے رخصت ہو جاتے ہیں—اور اس فرق کی وجوہات حیران کن حد تک واضح ہیں۔
میری طویل پریکٹس کا سب سے اہم مشاہدہ یہ رہا کہ مسلسل بیٹھے رہنا انسان کو خاموشی سے اندر ہی اندر کمزور کر دیتا ہے۔ میں نے 1980 کی دہائی میں اپنے مریضوں کے طرزِ زندگی پر باقاعدہ نظر رکھنا شروع کیا۔ جو لوگ دن بھر بیٹھتے تھے، ان کے جسم، خون کے ٹیسٹ اور دل کی حالت اُن لوگوں سے مختلف تھی جو متحرک رہتے تھے۔ میں اس نتیجے پر پہنچا کہ روزانہ آٹھ سے نو گھنٹے بیٹھنے والا شخص اندرونی طور پر کہیں زیادہ تیزی سے بوڑھا ہو جاتا ہے۔ جب انسان ساکن رہتا ہے تو خون کی گردش سست پڑ جاتی ہے، خون ٹانگوں میں جمع ہونے لگتا ہے، جسم کے صفائی کا نظام متاثر ہوتا ہے اور زہریلے مادے جمع ہونے لگتے ہیں۔ وقت کے ساتھ پٹھے کمزور پڑ جاتے ہیں، خاص طور پر بڑھتی عمر میں یہ عمل اور تیز ہو جاتا ہے۔ یاد رکھنے کی بات یہ ہے کہ صرف صبح کی ورزش دن بھر کی ساکن زندگی کے نقصانات کو ختم نہیں کر سکتی۔ اس کا سادہ حل یہ ہے کہ انسان ہر گھنٹے بعد اٹھے، چلے اور اپنے جسم کو حرکت میں رکھے۔ میں خود بھی کئی دہائیوں سے اس عادت پر عمل کر رہا ہوں۔
اسی طرح نیند کے بارے میں بھی ایک بڑی غلط فہمی عام ہے۔ بہت سے لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ کم نیند لینا طاقت کی علامت ہے، حالانکہ حقیقت اس کے برعکس ہے۔ نیند دراصل دماغ کی مرمت کا عمل ہے۔ گہری نیند کے دوران دماغ ایک خاص نظام کے ذریعے زہریلے مادوں کو صاف کرتا ہے، اور اگر یہ عمل مکمل نہ ہو تو یہ مادے آہستہ آہستہ جمع ہوتے رہتے ہیں اور دماغی صحت کو متاثر کرتے ہیں۔ میں نے اپنی زندگی میں ایک بھی ایسا شخص نہیں دیکھا جو طویل عمر تک پہنچا ہو اور وہ مستقل نیند کی کمی کا شکار رہا ہو۔ اس لیے ضروری ہے کہ انسان روزانہ سات سے نو گھنٹے معیاری نیند لے۔
تنہائی بھی ایک خاموش مگر خطرناک بیماری ہے۔ انسان فطرتاً ایک سماجی مخلوق ہے اور اسے دوسروں کے ساتھ تعلق کی ضرورت ہوتی ہے۔ میں نے بارہا دیکھا کہ جو لوگ اکیلے رہتے تھے یا جن کا کوئی سماجی دائرہ نہیں تھا، وہ مختلف بیماریوں کا جلد شکار ہو جاتے تھے۔ تنہائی جسم میں مسلسل تناؤ پیدا کرتی ہے، ہارمونز کے توازن کو بگاڑتی ہے اور مدافعتی نظام کو کمزور کر دیتی ہے۔ اسی لیے میں اپنے مریضوں کو سماجی تعلقات قائم کرنے کا مشورہ بھی اتنی ہی اہمیت سے دیتا تھا جتنی دواؤں کو۔
زندگی کا مقصد بھی صحت اور لمبی عمر میں ایک بنیادی کردار ادا کرتا ہے۔ میں نے یہ مشاہدہ کیا کہ بہت سے لوگ ریٹائرمنٹ کے بعد اس لیے جلد دنیا سے رخصت ہو جاتے ہیں کہ وہ اپنی زندگی کا مقصد کھو دیتے ہیں۔ جب انسان کے پاس صبح اٹھنے کی کوئی وجہ نہیں رہتی، تو اس کا جسم آہستہ آہستہ کمزور ہونے لگتا ہے۔ میں آج بھی اس عمر میں زندہ ہوں کیونکہ میرے پاس ہر دن ایک مقصد ہوتا ہے۔ کبھی وہ سادہ سا ہی کیوں نہ ہو، مگر وہ مجھے متحرک رکھتا ہے۔
لوگ اکثر مجھ سے پوچھتے ہیں کہ لمبی عمر کا راز کیا ہے۔ میں اسے “جوس” کہتا ہوں—یعنی وہ زندگی کی توانائی جو ہمارے اندر بہتی ہے۔ جب یہ توانائی رک جاتی ہے تو جسم میں بیماریاں پیدا ہونے لگتی ہیں۔ اگر انسان کسی حالت یا سوچ میں جمود کا شکار ہو جائے تو اسے خود کو حرکت میں لانا چاہیے، تبدیلی لانی چاہیے، کیونکہ حرکت ہی زندگی کی علامت ہے۔
میں نے یہ بھی سیکھا کہ محبت سب سے بڑی شفا ہے۔ میں نے محبت کو وہ اثر کرتے دیکھا ہے جو ادویات بھی نہ کر سکیں۔ اس کے برعکس غصہ، نفرت اور حسد انسان کے لیے زہر کا کام کرتے ہیں۔ یہ وہ کیفیتیں ہیں جن میں انسان پھنس کر رہ جاتا ہے اور آہستہ آہستہ خود کو نقصان پہنچاتا ہے۔ اس لیے معاف کرنا سیکھنا چاہیے—دوسروں کے لیے نہیں بلکہ اپنی زندگی کے سکون کے لیے۔
آخر میں میں یہی کہنا چاہوں گا کہ زندگی ایک خوبصورت تحفہ ہے، مگر یہ ایک ذمہ داری بھی ہے۔ ہمیں اس کی حفاظت کرنی ہوتی ہے۔ ہمیں حرکت میں رہنا چاہیے، بھرپور نیند لینی چاہیے، لوگوں سے جڑنا چاہیے اور اپنی زندگی کا ایک واضح مقصد قائم رکھنا چاہیے۔ دنیا کو خود پر حاوی نہ ہونے دیں، بلکہ نرم دل، متجسس اور سیکھنے والا بنے رہیں، کیونکہ یہی رویہ انسان کو زندہ اور جوان رکھتا ہے۔
میں 102 سال کی عمر میں بھی یہاں موجود ہوں اور آپ کی حوصلہ افزائی کر رہا ہوں۔ باہر نکلیں، زندگی کو محسوس کریں، اور صرف زندہ نہ رہیں بلکہ بھرپور طریقے سے جئیں۔