مدارس کے طلبہ کا فکرِ معاش میں "حفظ پلس” کی طرف بڑھتا رجحان ​روشن مستقبل کی ضمانت یا علومِ نبوی سے انحراف؟

Eastern
9 Min Read
88 Views
9 Min Read

مدارس کے طلبہ کا فکرِ معاش میں "حفظ پلس” کی طرف بڑھتا رجحان
​روشن مستقبل کی ضمانت یا علومِ نبوی سے انحراف؟

از: ​ایڈووکیٹ محمد امجد قاسمی

مدارسِ اسلامیہ کے نونہالوں، بالخصوص حُفاظ اور عُلماء کے معاشی مستقبل کا سوال آج ایک سنگین المیہ بن کر ابھرا ہے۔ یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ برسوں کی محنت کے بعد جب ایک طالبِ علم سندِ فراغت تھامے عملی زندگی میں قدم رکھتا ہے، تو اسے قدم قدم پر معاشی غیر یقینی کی دھند کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ مساجد و مدارس میں خدمتِ دین کی سعادت اپنی جگہ مسلم ہے، مگر عطیات اور چندوں کی بنیاد پر استوار یہ نظام اس پرفریب دلکش دور میں ایک باوقار زندگی کے لیے اکثر ناکافی ثابت ہونے لگا ہے۔
اسی معاشی بحران اور تذبذب کے پیش نظر کچھ خیرخواهان ملت کے ذریعے "حفظِ قرآن پلس” کا کورس پیش کیا گیا جس کا مقصد مدرسہ کے طلبہ کو عصری علوم سے روشناس کراکر انہیں دنیوی علوم کی دھارا میں شامل کرکے معاشی طور پر خود کفیل بنانا تھا، مگر مسیحا کے طور پر پیش کئے گئے اس پروگرام کے نتائج کے خدوخال میں کئی تضادات نمایاں ہوتے ہیں۔

اس فکر کی بنیاد مدارس کے فارغین "علماء” کے معاشی مسائل کے حل پر رکھی گئی تھی، مگر عملی طور پر اس کی زد میں "حفاظ” آ گئے۔ یہ ایک بنیادی فکری لغزش ہے، کیونکہ حفظ قرآن کریم طالب علم کا فی نفسہ کوئی علمی پڑاؤ یا منزل نہیں، بلکہ علمی سفر کا آغاز ہے۔ حافظ کو عالم کے برابر کھڑا کر کے اسے جدید تعلیم کے ریلوے ٹریک پر دوڑا دینا، درحقیقت اسے اس کی اصل علمی اساس سے دور کرنے کے مترادف ہے۔

جب ایک معصوم حافظِ قرآن کو حفظِ کلام اللہ کے فوراً بعد اسکول کی دوڑ میں شامل کر دیا جاتا ہے، تو اس کا دینی وژن دھندلا جاتا ہے۔ وہ نہ تو مکمل قاری و عالم بن پاتا ہے اور نہ ہی عصری علوم میں کسی مستحکم بنیاد کا حامل ہوتا ہے۔ گویا نہ ادھر کے رہے نہ ادھر کے رہے۔

شیطان اور انسان کا معرکہ: رمضان میں کون غالب؟
Advertisement

سب سے اہم سوال یہ ہے کہ کیا صرف دسویں یا بارہویں کی سند آج کے مسابقتی دور میں روزگار کی ضمانت ہے؟ جبکہ ڈگریوں کے انبارلادے ہوئے پہلے ہی بیروزگاروں کی بڑی تعداد موجود ہے۔ بغیر کسی فنی مہارت (اسکلز) کے یہ پروگرام محض ایک سرٹیفکیٹ تھما کر طلبہ کو نیٹ ایگزام میں جوئے شیر لانے کے مترادف اعلی نمبرات حاصل کرکے حکومتی امداد یافتہ اداروں سے ڈاکٹر بننے کا خواب دکھاکر طلباء کی ذمہ داری سے دستبردار ہوجاتا ہے۔

نیٹ ایگزام میں اعلی نمبرات حاصل کرکے حکومتی اداروں میں داخلہ پانے والوں کی تعداد دو سے تین فیصد کے درمیان ہی ہوتی ہے۔ اور عموما یہ دو تین فیصد وہ طلبا ہوتے ہیں جنہوں نے ابتداء سے اعلی ترین انگلش اسکولوں میں تعلیم حاصل کی ہو یا پھر بارہویں کے بعد لاکھوں کی فیس دیکر کسی کوچنگ سینٹرز سے کئی سال پڑھائی کی ہو۔
حفظ پلس کے پروگرام سے آئے ہوئے طلبا کو جب نیٹ ایگزام میں خاطرخواہ رزلٹ نہیں ملتا ہے وہ پھر سے اگلے سال کے لئے تیاری میں لگ جاتے ہیں اور یوں اسی تگ و دو میں وہ اپنے کئی سال گنوانے کے بعد خود کو ایسے مقام پر پاتے ہیں جہاں ان کے خانگی احوال انہیں کسی طویل مدتی کورس میں داخلہ لینے کی اجازت نہیں دیتے جس کی بنا پر وہ ڈاکٹر بننے کا ادھورا خواب لئے عالم دین بننے سے بھی محروم رہ جاتے ہیں۔
اس پروگرام کے فارغین کے لئے ملازمت یا روزگار کی کوئی سبیل نہیں ہوتی حتی کہ مدارس کے فضلاء کی طرح امامت و خطابت اور تدریس جیسی ملازمت کا بھی فقدان ہوتا ہے۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ وہ نوجوان اپنی دینی شناخت بھی کھو دیتا ہے اور جدید دنیا کی دوڑ میں بھی پیچھے رہ جاتا ہے۔

تعلیم اور معاش: تلازم تو ہے، مساوات نہیں
یہ ایک فکری مغالطہ ہے کہ صرف اسکول کی تعلیم ہی رزق کی کنجی ہے۔ عالم اسباب میں رزق کا تعلق ہنر اور محنت سے ہے محض سند سے نہیں ہے۔ اگر علماء کی معاشی حالت بہتر کرنا مقصود ہے، تو انہیں زمانے کی رفتار سے ہم آہنگ اسکلز سکھانے کی ضرورت ہے جو ان کے علمی تشخص کو قربان کئے بغیر جدید دور کے کسب معاش کے طور و طریق سے روشناس کرکے انہیں خود کفیل بنائیں۔

متبادل پروگرام
مدرسہ گریجویٹس کو ان کے اپنے ماحول میں رہتے ہوئے مختلف مہارتوں سے لیس کیا جا سکتا ہے۔ تکنیکی ہنر جیسے ڈیٹا سائنس، گرافک ڈیزائننگ، اور ویڈیو ایڈیٹنگ وغیرہ یا ڈیجیٹل مارکیٹنگ جیسے ای کامرس، مواد سازی ، اور فری لانسنگ وغیرہ سکھاکر اسباب معاش پیدا کئے جاسکتے ہیں۔
یہ وہ راستے ہیں جہاں ڈگری سے زیادہ ہنر کی حکمرانی ہے اور جہاں ایک عالم دین اپنی وضع قطع کے وقار کو برقرار رکھتے ہوئے پوری دنیا کو اپنی خدمات پیش کر سکتا ہے۔ ہمیں ایسے پروگراموں کی ہرگز ضرورت نہیں جو مدارس کو اسکولوں میں بدل دیں، بلکہ ایسے اداروں کی ضرورت ہے جو مدارس کے فضلاء کو "ہنرمند” بناکر انہیں خود کفیل بناسکیں۔

دینی اساس کے تحفظ کے لئے علماء کو ان کے علمی منصب پر فائز رہنے دیا جائے، کیونکہ امت کی فکری آبیاری انہی کے دم سے ہے۔ متوازی هنرمندی کے لئے مدارس کے ساتھ ایسے ٹریننگ سینٹرز قائم کیے جائیں جو قلیل مدتی کورسز کے ذریعے طلبہ کو معاشی طور پر خود کفیل بنائیں۔

Advertisement
Advertisement

حاصلِ کلام یہ ہے کہ ہمیں ایک ایسی حکمت عملی کی ضرورت ہے جہاں دین اور دنیا کے درمیان کھینچی گئی مصنوعی لکیریں مٹ سکیں۔ "حفظِ قرآن پلس” جیسے پروگرام اگرچہ ایک نیک جذبے کے تحت شروع کیا گیا پروگرام ہے۔ تاہم ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم جذباتیت سے نکل کر حقیقت پسندی کا دامن تھامیں۔ ہمیں اپنی اصل یعنی قرآن و سنت اور علمی روایت کو کمزور کئے بغیر ترقی کی عمارت کھڑی کرنی ہے ، ان جڑوں کو جدید مہارتوں کے پانی سے سینچنا ہے تاکہ ایک ایسا تناور درخت تیار ہو جو زمانے کی تند و تیز ہواؤں میں بھی ثابت قدم رہے۔

​آنے والا دور میں ایسے عُلماء کی ضرورت ہے جو منبر و محراب کی عظمت کو بھی جانتے ہوں اور ڈیجیٹل دور کی زبان سے بھی واقف ہوں۔ وہ معاشی طور پر کسی کے دستِ نگر نہ ہوں، بلکہ اپنی محنت اور ہنر کے بل بوتے پر ایک باوقار زندگی گزار کر امت کے لیے نمونہ بن سکیں۔ جب ایک عالمِ دین معاشی طور پر خود کفیل ہوگا، تو اس کی زبان میں وہ جراتِ رندانہ اور فکر میں وہ استقامت پیدا ہوگی جو حق کا علم بلند کرنے کے لیے ناگزیر ہے۔

(مضمون نگار محمد امجد قاسمی 2022سے دلی بار کاؤنسل میں رجسٹرڈ ایڈووکیٹ اور امریکی ملٹی نیشنل کمپنی میں لیگل ایڈوائزر ہیں)

Share This Article
کوئی تبصرہ نہیں ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Trending News

ایران، عالمی مزاحمت اور مغربی بالادستی کا زوال

ایران، عالمی مزاحمت اور مغربی بالادستی کا زوال از: محمد برہان الدین…

Eastern

”سامعین کی توجہ اور فکری وزن کے بغیر تقریر بے اثر ہے“_سہیل مسعود

”سامعین کی توجہ اور فکری وزن کے بغیر تقریر بے اثر ہے“_سہیل…

Eastern

ٹریل بلیزر: فکر، ایمان و سائنس کا سنگم

ٹریل بلیزر: فکر، ایمان و سائنس کا سنگم از____ محمد توقیر رحمانی…

Eastern

ماہ ربیع الاول اور اسوۂ نبوی ﷺ کا تقاضا

ماہ ربیع الاول اور اسوۂ نبوی ﷺ کا تقاضا از____ محمد توقیر…

Eastern

انسان کی تخلیق محض وجود کیلئےنہیں ، خلافتِ ارضی کی عظیم ذمہ داری کیلئے ہے

انسان کی تخلیق محض وجود کیلئےنہیں ، خلافتِ ارضی کی عظیم ذمہ…

Eastern

نئے زمانے کے نئے بت

نئے زمانے کے نئے بت ازــــــ محمد توقیر رحمانی زمانے کی گردِش…

Eastern

Quick LInks

میدانِ ادب میں الغزالی کا پرچم بلند —انٹر اسکول بیت بازی مقابلے میں دوسری پوزیشن

میدانِ ادب میں الغزالی کا پرچم بلند —انٹر اسکول بیت بازی مقابلے…

Eastern

جشنِ ہدایہ: بحُسن و خوبی اختتام کو پہنچا

جشنِ ہدایہ: بحُسن و خوبی اختتام کو پہنچا ای سی نیوز ڈیسک…

Eastern