اسلام کا نظامِ زکوٰۃ

Eastern
5 Min Read
7 Views
5 Min Read

اسلام کا نظامِ زکوٰۃ

از:مفتی جسیم الدین قاسمی
کوآرڈینیٹرآن لائن دارالافتاء  و استاذ مرکزالمعارف، ممبئی 

(قسط چہارم-آخری قسط)

زکوٰۃ اداکرنے کے آداب
 زکوٰۃ کسی کو اتنا دینا بہتر ہے کہ اس کی ضرورت پوری ہوجائے، مثال کے طور پر اگر وہ قرضدار ہے تو اپنے قرض کی ادائیگی کرسکے، اگر وہ مسافر ہے تو وہ اپنی منزل تک پہنچ سکے۔ یہ بہتر نہیں ہے کہ زکوٰۃ اتنی تھوڑی تھوڑی کرکے بہت سے لوگوں کو دی جائے کہ کسی کی بنیادی ضرورت بھی پوری نہ ہوپاۓ۔

 زکوۃ پورے اخلاص کے ساتھ، محض اللہ کی رضامندی کے لئے  ادا کرنا چاہیے۔ مستحقین کو  زکوٰۃ عزت و احترام کے ساتھ دینا چاہیے، اگر زکوۃ دیتے وقت کسی محتاج کو ہم نے تکلیف دی اپنے طرزعمل سے یا کوئی تکلیف دہ جملہ بولکر یا احسان جتلاکر تو ہم زکوۃ پر حاصل ہونے والے اجر سے ہم محروم ہوجائیں گے۔ جیساکہ اللہ رب العزت نے قرآن عظیم میں فرمایا: یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تُبْطِلُوْا صَدَقٰتِكُمْ بِالْمَنِّ وَ الْاَذٰىۙ-كَالَّذِیْ یُنْفِقُ مَالَهٗ رِئَآءَ النَّاسِ وَ لَا یُؤْمِنُ بِاللّٰهِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِؕ-فَمَثَلُهٗ كَمَثَلِ صَفْوَانٍ عَلَیْهِ تُرَابٌ فَاَصَابَهٗ وَابِلٌ فَتَرَكَهٗ صَلْدًاؕ-لَا یَقْدِرُوْنَ عَلٰى شَیْءٍ مِّمَّا كَسَبُوْاؕ-وَ اللّٰهُ لَا یَهْدِی الْقَوْمَ الْكٰفِرِیْنَ(264)

Advertisement
Advertisement

ترجمہ:"اے ایمان والو اپنے صدقات کو احسان جتلا کر اور تکلیف پہنچا کر اس شخص کی طرح ضائع مت کرو جو اپنا مال لوگوں کو دکھانے کے لیے خرچ کرتا ہے اور اللہ اور یوم آخرت پر ایمان نہیں رکھتا۔ چنانچہ اس کی مثال ایسی ہے جیسے ایک چکنی چٹان پر مٹی جمی ہو، پھر اس پر زور کی بارش پڑے اور اس (مٹی کو بہا کر چٹان) کو (دوبارہ) چکنی بنا چھوڑے۔  ایسے لوگوں نے جو کمائی کی ہوتی ہے وہ ذرا بھی ان کے ہاتھ نہیں لگتی، اور اللہ (ایسے) کافروں کو ہدایت تک نہیں پہنچاتا۔” (سورۃ البقرة، آیت: 264)

 لہذا ہمارے پاس اگر کوئی زکوٰۃ لینے آئے تو ہم ان کو گری نظر سے نہ دیکھیں بلکہ ہمیں ان کو اپنا محسن سمجھنا چاہیے کہ ہمارے گھر تک آۓورنہہمیںمستحقینکوتلاشکرکےانتکزکوٰۃپہنچاناپڑتا۔اسلئےہمیشہزکوۃ لینےکےلئےآنےوالوںکواسطرحواپسکرناچاہیےکہوہخوشہوکرجائے،چاہےکمدیںیانہدیںلیکنہم ان سے اس طرح ملیں اور اس طرح ان کو واپس کریں کہ ان کو تکلیف نہ پہچنے بلکہ خوش ہوکر واپس جائیں، اسی تعلق سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک حدیث میں ارشاد فرمایا کہ:   وعن جرير بن عبد الله قال : قال رسول الله – صلى الله عليه وسلم – : ” إذا أتاكم المصدق فليصدر عنكم وهو عنكم راض ". ( مسلم )

ترجمہ:  "زکوۃ وصول کرنے والے جب تمہارے پاس آئے تو وہ اس حالت میں ہی واپس ہوں کہ ان دل خوش ہو۔” 

قرآن کریم میں سورہ ضحیٰ میں اللہ تعالیٰ واضح لفظ میں فرمایا کہ تم سے جو اپنی ضرورت کا سوال کرے ان کو جھڑک کر بات نہ کہو۔ نیز سورہ بقرہ اللہ تبارک وتعالیٰ نے فرمایا کہ جو زکوٰۃ وصدقات سے کسی کی مدد کرکے اس پر احسان نہیں جتلاتا انہیں کو ثواب ملتا ہے اور آگے فرمایا کہ کچھ دیکر احسان جتلانے سے بہتر ہے کہ مت دو لیکن کوئی اچھی بات کہہ کر منع کردو، چنانچہ ارشاد باری ہے: اَلَّـذِيْنَ يُنْفِقُوْنَ اَمْوَالَـهُـمْ فِىْ سَبِيْلِ اللّـٰهِ ثُـمَّ لَا يُتْبِعُوْنَ مَآ اَنْفَقُوْا مَنًّا وَّلَا اَذًى ۙ لَّـهُـمْ اَجْرُهُـمْ عِنْدَ رَبِّـهِـمْ وَلَا خَوْفٌ عَلَيْـهِـمْ وَلَا هُـمْ يَحْزَنُـوْنَ (262)

ترجمہ: جو لوگ اپنے مال اللہ کے راستے میں خرچ کرتے ہیں، پھر خرچ کرنے کے بعد نہ احسان جتلاتے ہیں اور نہ کوئی تکلیف پہنچاتے ہیں، وہ اپنے پروردگار کے پاس اپنا ثواب پائیں گے، نہ ان کو کوئی خوف لاحق ہوگا اور نہ کوئی غم پہنچے گا۔ (سورۃ البقرة، آیت : 262)

Advertisement
Advertisement
قَوْلٌ مَّعْرُوْفٌ وَّمَغْفِرَةٌ خَيْـرٌ مِّنْ صَدَقَةٍ يَّتْبَعُهَآ اَذًى ۗ وَاللّـٰهُ غَنِىٌّ حَلِـيْمٌ (263)
بھلی بات کہہ دینا اور درگزر کرنا اس صدقے سے بہتر ہے جس کے بعد کوئی تکلیف پہنچائی جائے  اور اللہ بڑا بےنیاز، بہت بردبار ہے۔ (سورۃ البقرة، آیت: 263)
تیسری قسط کیلئے یہاں کلک کریں- اسلام کا نظامِ زکوٰۃ
Share This Article
کوئی تبصرہ نہیں ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Trending News

مرکزالمعارف ممبئی میں اکیسواں جلسۂ تقسیمِ اسناد کا شاندار انعقاد

مرکزالمعارف ممبئی میں اکیسواں جلسۂ تقسیمِ اسناد کا شاندار انعقاد ای سی…

Eastern

ایران، عالمی مزاحمت اور مغربی بالادستی کا زوال

ایران، عالمی مزاحمت اور مغربی بالادستی کا زوال از: محمد برہان الدین…

Eastern

”سامعین کی توجہ اور فکری وزن کے بغیر تقریر بے اثر ہے“_سہیل مسعود

”سامعین کی توجہ اور فکری وزن کے بغیر تقریر بے اثر ہے“_سہیل…

Eastern

ٹریل بلیزر: فکر، ایمان و سائنس کا سنگم

ٹریل بلیزر: فکر، ایمان و سائنس کا سنگم از____ محمد توقیر رحمانی…

Eastern

ماہ ربیع الاول اور اسوۂ نبوی ﷺ کا تقاضا

ماہ ربیع الاول اور اسوۂ نبوی ﷺ کا تقاضا از____ محمد توقیر…

Eastern

انسان کی تخلیق محض وجود کیلئےنہیں ، خلافتِ ارضی کی عظیم ذمہ داری کیلئے ہے

انسان کی تخلیق محض وجود کیلئےنہیں ، خلافتِ ارضی کی عظیم ذمہ…

Eastern

Quick LInks

ایک کھلا خط

ایک کھلا خط عرب اور خلیج فارس کے مسلم حکمرانوں کے نام،…

Eastern

اسلام کا نظامِ زکوٰۃ

اسلام کا نظامِ زکوٰۃ از:مفتی جسیم الدین قاسمی کوآرڈینیٹرآن لائن دارالافتاء  و…

Eastern

اسلام کا نظامِ زکوٰۃ

اسلام کا نظامِ زکوٰۃ از:مفتی جسیم الدین قاسمی کوآرڈینیٹرآن لائن دارالافتاء  و…

Eastern