اسلام کا نظامِ زکوٰۃ
از:مفتی جسیم الدین قاسمی
کوآرڈینیٹرآن لائن دارالافتاء و استاذ مرکزالمعارف، ممبئی
(قسط سوم)
زکوٰۃ کے حقدار میں سے ہم کس کو ترجیح دیں
ایسے لوگوں کو زکوٰۃ میں ترجیح دینی چاہیے جو متقی و دیندار ہوں اس لئے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سعد بن عباده کے یہاں دعوت کھانے کے بعد جو ان کو دعا دی ہے اس دعا کے الفاظ یہ تھے: «أفطر عندكم الصائمون، وأكل طعامكم الأبرار، وصلّت عليكم الملائكة».
ترجمہ :تمہارے یہاں روزے دار افطار کرے، تمہارے کھانے نیک لوگ کھائے، اور تمہارے اوپر فرشتے درود بھیجیے۔
نیز رشتہ داروں کو ہم زکوٰۃ اداکرتے وقت ترجیح دیں کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی ترغیب دی ہے کہ رشتہ داروں کی مدد پہلے کی جائے، چنانچہ ایک حدیث میں آپ نے فرمایا: ـ“الصدقةعلىالمسكينصدقةٌ،وعلىذىالرحمثِنْتَانِ،صدقةٌوصِلَةٌ”. (ترمذی)
ترجمہ: خیرات مسکین کو دینے میں ایک صدقہ کا ثواب ہے اور رشتہ دار کو دینے میں دو صدقے کا ثواب ہے؛ ایک صدقہ کا اور دوسرے صلہ رحمی کا۔
اسی طرح وہ مستحقین جو دین کی تعلیم و اشاعت میں مشغول ہیں جیسے علماء اور علوم اسلامیہ کے طلبہ کہ ان کودینے میں ایک تو ضرورت مندوں کی ضرورت پوری کرنا ہے اور دوسرے دین کی اشاعت میں ان کی مدد کرنا ہے۔
اسی طرح ایسے محتاج لوگوں کو تلاش کرکے خاص طور دینا چاہئے جو اپنی غیرت و عزت کی وجہ سے کسی کے سامنے ہاتھ نہیں پھیلاتے اور کسم پرسی کی حالت میں زندگی گزارتے ہیں، قرآن کریم نے انہیں لوگوں کے تعلق سے کہا ہے : لِلۡفُقَرَآءِ الَّذِیۡنَ اُحۡصِرُوۡا فِیۡ سَبِیۡلِ اللّٰہِ لَا یَسۡتَطِیۡعُوۡنَ ضَرۡبًا فِی الۡاَرۡضِ ۫ یَحۡسَبُہُمُ الۡجَاہِلُ اَغۡنِیَآءَ مِنَ التَّعَفُّفِ ۚ تَعۡرِفُہُمۡ بِسِیۡمٰہُمۡ ۚ لَا یَسۡـَٔلُوۡنَ النَّاسَ اِلۡحَافًا ؕ وَ مَا تُنۡفِقُوۡا مِنۡ خَیۡرٍ فَاِنَّ اللّٰہَ بِہٖ عَلِیۡمٌ ﴿۲۷۳﴾
ترجمہ: (مالی امداد کے بطور خاص) مستحق وہ فقرا ہیں جنہوں نے اپنے آپ کو اللہ کی راہ میں اس طرح مقید کر رکھا ہے کہ وہ (معاش کی تلاش کے لیے) زمین میں چل پھر نہیں سکتے۔ چونکہ وہ اتنے پاک دامن ہیں کہ کسی سے سوال نہیں کرتے، اس لیے ناواقف آدمی انہیں مال دار سمجھتا ہے، تم ان کے چہرے کی علامتوں سے ان (کی اندرونی حالت) کو پہچان سکتے ہو (مگر) وہ لوگوں سے لگ لپٹ کر سوال نہیں کرتے۔ اور تم جو مال بھی خرچ کرتے ہو اللہ اسے خوب جانتا ہے۔ (سورۃ البقرة، آیت 273)
رمضان میں زکوٰۃ کی ادائیگی کرنا
پوری دنیا میں یہ رواج ہے کہ مسلمان رمضان المبارک کے مہینے میں زکوۃ ادا کرتے ہیں۔ یہ رواج اس اعتبار سے بہتر بھی ہے کہ اس مہینے میں فرض کا ثواب ستر گنا زیادہ ملتا ہے دوسرے مہینوں کے مقابلے جبکہ نفلی عبادات کا ثواب فرض کے برابر ملتا ہے۔
حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ رمضان المبارک کے تعلق سے کہا کرتے تھے کہ یہ مہینہ زکوۃ اداکرنے کا مہینہ ہے، اپنے قرض کو ادا کردو، تاکہ تم اپنے مال کا حساب صحیح سے کرکے اپنی زکوۃ ادا کرسکو ۔ (موطا مالک: 17)
اس سے پتہ چلتا ہے کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا بھی عام معمول یہی تھا کہ رمضان المبارک میں زکوۃ کی ادائیگی کیا کرتے تھے، اس روایت سے یہ بھی پتہ چلا کہ قرض کی رقم منہا کرنے کے بعد زکوۃ ادا کی جائے گی۔ لیکن اس کا ہرگز مطلب یہ نہیں ہے کہ رمضان زکوۃ کے علاوہ مہینے میں نہیں نکالنا چاہیے، بلکہ اصل حکم تو یہی ہے کہ جس دن آدمی مالدار ہوا تھا اس کے ایک سال بعد اسی تاریخ میں اس پر زکوۃ فرض ہوجاتی ہے لہذا جن کو رمضان کی فضیلت حاصل کرنی ہے اور ان کی زکوۃ کی تاریخ رمضان کے علاوہ مہینے میں ہے تو وہ اپنی زکوۃ پیشگی رمضان میں نکال دیا کریں اور پھر زکوۃ کی تاریخ میں پورا حساب کرلیا کریں اگر حساب کرنے کے بعد معلوم ہو کہ مزید کچھ ادائیگی باقی رہ گئی ہے تو وہ ادا کردیں، مثال کےطور پر ایک آدمی کی زکوۃ ادا کرنے کی تاریخ 15 ذیقعدہ ہے تو ڈیڑھ مہینے پہلے رمضان میں ہی ادا کردیں زکوۃ اور پھر ذیقعدہ کی 15 تاریخ کو حساب کرکے جو زکوۃ باقی ہے وہ ادا کردیں، لیکن ایسا نہ کریں کہ 15 ذیقعدہ میں ادا نہ کرکے آئندہ سال رمضان میں ادا کرے اس لئے کہ اس صورت میں ایک فرض عمل کو بغیر کسی عذر کے موخر کرنا ہوگیا جو شریعت میں مکروہ اور باعثِ گناہ ہے، جیساکہ فتاوی عالمگیری میں ہے: "وَتَجِبُ عَلَى الْفَوْرِ عِنْدَ تَمَامِ الْحَوْلِ حَتَّى يَأْثَمَ بِتَأْخِيرِهِ مِنْ غَيْرِ عُذْرٍ۔ (5 / 14)
اسی طرح اگر کوئی محتاےغیر رمضان میں آجائے تو اس کی ضرورت اسی وقت پوری کردینا چاہیے رمضان کا انتظار نہیں کرنا چاہئے۔
زکوۃ کن کو نہیں دے سکتے؟
1۔ زکوۃ اس شخص کو نہیں دے سکتے جس کے پاس سونا ساڑے سات تولہ ہو یا ساڑھے باون تولہ چاندی ہو یا چاندی کے نصاب کے بقدر ضرورت سے زائد مال موجود ہے خواہ وہ مال نامی جیسے پیسے، مال تجارت یا مال غیر نامی ہو جیسے زائد کپڑے یا برتن، ضرورت سے زائد گاڑی، ضرورت سے زائد خالی مکان یاخالی زمین، تو ایسا شخص زکوۃ نہیں لے سکتا ہے۔ ایسا ممکن ہے کہ ایک شخص پر زکوۃ فرض نہ پھر بھی وہ زکوۃ نہیں لے سکتا مثال کے طور ایک شخص کے پاس دو گھر ہیں ایک میں رہتا ہے اور ایک یوں ہی خالی جس کی قیمت ساڑھے باون تولہ چاندی سے زیادہ ہے تو اس شخص پر زکوۃ تو اس لئے نہیں ہے کہ گھر قابل زکوۃ مال (مال نامی) نہیں ہے اور زکوۃ لے اس لئے نہیں سکتا کیونکہ کہ ضرورت سے زائد مال اتنا ہے اس کے پاس کہ جو نصابِ زکوۃ کے بقدر ہے۔
لیکن اگر کسی کے پاس دو مکان ہیں، ایک میں رہتا ہے اور ایک کرایے پر ہے جس سے اس کا گزر بسر چلتا ہے یا دو گاڑیاں ہیں ایک استعمال کے لیے اور دوسری کو وہ کرایہ پر چلا کر اپنا خرچ چلاتا ہے یا اتنی زمین ہے جس سے کھیتی کرکے وہ اپنا روزی روٹی چلاتا ہے، اور اس کے پاس اس کے علاوہ مال نہیں ہے جو نصاب کے بقدر ہو تو وہ ضرورت کے وقت وہ زکوۃ لے سکتا ہے۔
سئل محمد عمن لہ ارض یزرعھا اوحانوت یستغلھا او دار غلتھا ثلاثۃ الا ف ولا تکفی لنفقتہ ونفقۃ عیالہ سنۃ یحل لہ اخذ الزکوٰۃ وان کانت قیمتھا تبلغ الو فا۔ (رد المحتار، باب المصرف)
2۔ زکوۃ دو طرح کے رشتہ داروں کو نہیں دے سکتے، ایک تو وہ ہمارے رشتہ دار جن کے ساتھ پیدائش کا تعلق ہے جیسے ماں باپ، دادا دادی، نانا نانی، بیٹے بیٹاں، پوتے پوتیاں، نواسے نواسیاں وغیرہ۔ دوسرے وہ جس سے نکاح کا تعلق ہے لہذا شوہر بیوی کو زکوۃ نہیں دے سکتا اسی طرح بیوی شوہر کو زکوۃ نہیں دے سکتی۔ اس کے علاوہ دوسرے رشتہ داروں کو زکوۃ دی جاسکتی ہے جیسے بھائی، بہن، چچا، پھوپھی، ماموں، ساس سسر، سالے بہنوئی، داماد وغیرہ، ان رشتہ داروں کو زکوۃ دینے میں کوئی حرج نہیں۔ اگر یہ لوگ محتاج و مستحق زکوۃ ہوں تو ان کو زکوٰۃ دی جاسکتی ہے بلکہ ان کو دینا بہتر ہے۔
رشتے داروں کو زکوٰۃ دینے و نہ دینے کے بارے ميں حضرت ان عباس فرماتے ہیں: عن ابن عباس رضى اللَّه عنهما قال : إذا كان ذو قرابة لا تعولهم فأعطهم من زكاة مالك ، وإن كنت تعولهم فلا تعطهم ولا تجعلها لمن تعول (نيل الأوطار للشوكانى ج 4 ص 189 )
ترجمہ : ‘ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایسے رشتے دار جن کی پرورش و نفقہ تم پر لازم نہیں ہے ان کو زکوۃ دے دیا کرو، اور جن کی پرورش و نفقہ دو۔ارے ذمہ ہے ان کو ان کو زکوۃ مت دیا کرو۔”
3۔ غیر مسلم کو زکوۃ اور واجب صدقات نہیں دیے جاسکتے اس لئے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کو یمن کا حاکم بناکر بھیجا تھا تو آپ نے ان کو کئی نصیحتیں کی تھیں ان میں سے ایک نصیحت یہ تھی: فأعلمهم أن الله افترض عليهم صدقة في أموالهم تؤخذ من أغنيائهم وترد على فقرائهم۔
ترجمہ: ان (نو مسلموں) کو بتادینا کہ اللہ نے ان کے مال میں زکوۃ کو فرض کیا ہے جو ان(مسلمانوں) کے مالداروں سے لی جائے گی اور ان کے غریبوں کو دے دی جائے گی۔
البتہ غیر مسلموں کو نفل صدقہ دینے میں کوئی حرج نہیں بلکہ ضرورت مند غیر مسلموں کی مدد کی ترغیب دی گئی ہے۔ چنانچہ قرآن کریم میں ارشاد ہے: لَّا يَنْهَاكُمُ اللّـٰهُ عَنِ الَّـذِيْنَ لَمْ يُقَاتِلُوْكُمْ فِى الدِّيْنِ وَلَمْ يُخْرِجُوْكُمْ مِّنْ دِيَارِكُمْ اَنْ تَبَـرُّوْهُـمْ وَتُقْسِطُوٓا اِلَيْـهِـمْ ۚ اِنَّ اللّـٰهَ يُحِبُّ الْمُقْسِطِيْنَ (8)
ترجمہ: "اللہ تمہیں اس بات سے منع نہیں کرتا کہ جن لوگوں نے دین کے معاملے میں تم سے جنگ نہیں کی، اور تمہیں تمہارے گھروں سے نہیں نکالا، ان کے ساتھ تم کوئی نیکی کا یا انصاف کا معاملہ کرو، یقینا اللہ انصاف کرنے والوں کو پسند کرتا ہے۔”
4۔ زکوۃ سید اور ہاشم خاندان کو نہیں دی جاسکتی اس لیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خود اپنے زمانے میں بعض سادات کے شدید محتاج ہونے کے باوجود انہیں زکاۃ نہیں دی، بلکہ انہیں زکاۃ وصول کرنے سے بھی منع فرمایا، چناں چہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد مبارک ہے: "«إن هذه الصدقات إنما هي أوساخ الناس، وإنها لاتحل لمحمد، ولا لآل محمد»”.
ترجمہ: ’’یہ صدقات (زکات اور صدقاتِ واجبہ) لوگوں کے مالوں کا میل کچیل ہیں، ان کے ذریعہ لوگوں کے نفوس اور اَموال پاک ہوتے ہیں اور بلاشبہ یہ محمد(صلی اللہ علیہ وسلم) کے لیے اور آلِ محمد(صلی اللہ علیہ وسلم ) کے لیے حلال نہیں ہے‘‘۔ (صحيح مسلم: 2/ 754)
علامہ ابن عابدین شامی رحمۃ ﷲ علیہ نے بنی ہاشم کے بارے میں جو بیان کیا ہے اس کا مفہوم یہ ہے: عبد مناف نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے چوتھے اَب ہیں انہوں نے چار بیٹے چھوڑے: ہاشم، مطلب، نوفل اور عبد شمش پھر ان میں سے سوائے عبد المطلب کے باقی تین کی نسل ختم ہو گئی، عبد المطلب کے بارہ (12) بیٹے تھے ان میں سے جس کی بھی نسل مسلمان ہو اور غریب ہو اس کو زکوٰۃ دینی جائز ہے سوائے: عباس، حارث، اور ابو طالب کی اولاد کے، ابو طالب کی اولاد حضرات علی، جعفر اور عقیل رضی اللہ عنہما ہیں۔ (رد المحتار، 2: 350، بیروت: دار الفکر)
خلاصہ یہ کہ سید و ہاشم کے یہ پانچ خاندان ہیں جن کو زکوۃ نہیں دی جاسکتی ۱۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے خانوادے، ۲۔ حضرت عباس رضی اللہ عنہ کے خانوادے،۳۔ حضرت جعفر رضی اللہ عنہ کے خانوادے ۴۔حضرت عقیل رضی اللہ عنہ کے خانوادے، ۵۔ حضرت حارث بن عبدالمطلب کے خانوادے۔
صحیح مسلم کی روایت میں ہے کہ جب حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے پوچھا گیا کہ رسول اللہ ﷺ کے اہلِ بیت کون ہیں؟ کیا آپ کی ازواجِ مطہرات اہلِ بیت میں سے نہیں ہیں؟ زید بن ارقم رضی اللہ عنہ نے فرمایا: آپ ﷺ کی ازواجِ مطہرات رضی اللہ عنہن اہلِ بیت میں سے ہیں، لیکن (یہاں) اہلِ بیت وہ ہیں جن کے لیے صدقہ لینا حرام کردیا گیا ہے۔ حصین نے پوچھا: وہ کون ہیں (جن پر صدقہ لینا حرام ہے)؟ حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہ نے فرمایا: وہ علی (رضی اللہ عنہ) کی اولاد ہیں، عقیل (رضی اللہ عنہ) کی اولاد ہیں، جعفر (رضی اللہ عنہ) کی اولاد ہیں، عباس (رضی اللہ عنہ) کی اولاد ہیں۔ حصین نے کہا: کیا ان سب پر صدقہ حرام ہے؟ حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہ نے فرمایا: جی ہاں!‘‘ (صحیح مسلم، کتاب الفضائل، باب من فضائل علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ)
ایک مستحق زکوۃ غریب شخص ہے، اس کا باپ غیر سید ہے اور ماں سید ہے تو کیا اس کو زکوۃ دے سکتے ہیں؟شریعت کے اعتبار نسل باپ سے چلتی ہے اس لیے اگر باپ سید ہے تو اولا بھی سید ہوں گے اور اگر باپ غیر سید ہے تو اولاد بھی غیر سید سمجھے جائیں گے، لہذا مذکورہ شخص کو آپ زکوۃ دے سکتے ہیں ۔
اگر سید غریب اور محتاج ہے تو صاحبِ حیثیت مال داروں پر لازم ہے کہ وہ سادات کی اِمداد زکات اور صدقاتِ واجبہ کے علاوہ رقم سے کریں اور ان کو مصیبت اور تکلیف سے نجات دلائیں اور یہ بڑا اجروثواب کا کام ہے اور حضور اکرم ﷺ کے ساتھ محبت کی دلیل ہے۔ اور ان شاء اللہ تعالیٰ آپ ﷺ کی شفاعت کی قوی امید کی جاسکتی ہے۔ صحیح بخاری میں حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کا قول منقول ہے: "ارقبوا محمداً في أهل بيته”. یعنی رسولِ اقدس ﷺ کے اہلِ بیت کا لحاظ وخیال کرکے نبی کریم ﷺ کے حق کی حفاظت کرو۔
قسط دوم کیلئے کلک کریں ـ اسلام کا نظامِ زکوٰۃ