موجودہ ہندوستان میں سب سے بڑا اچھوت کون؟

Eastern
3 Min Read
144 Views
3 Min Read

موجودہ ہندوستان میں سب سے بڑا اچھوت کون؟

از ـ  محمود احمد خاں دریابادی

  ہم نے تو نہیں دیکھا مگر بزرگوں سے سُنا ضرور ہے کہ آزادی سے پہلے ریلوے اسٹیشن پر دو قسم کے پانی ملتے تھے، ہندو پانی، مسلم پانی، اسی طرح پنگھٹ اور کنویں وغیرہ بھی ہندو مسلم، اعلی اور ادنی ذاتوں کے لئے تقسیم تھے، ہندووں کے بھنگی، چماروں وغیرہ کی یہ مجال نہیں تھی کہ برھمنوں، ٹھاکروں کے کنویں سے پانی لے سکیں ـ ……….. مگر یہی چمار، کمھار، اعلی ذات کے لوگوں کے کھیتوں، کھلیانوں اور باغوں میں مزدوری کرتے تھے، پیڑوں سے آم، امرود وغیرہ توڑتے تھے، ان چماروں کے ہاتھ کا اگایا ہوا اناج اور ان کے توڑے ہوئے پھل تمام پنڈت، ٹھاکر وغیرہ بلا چھوت چھات کا خیال کئے مزے لے لے کر کھاتے تھے ـ

    ملک آزاد ہوئے ستہتر برس ہوگئے، ڈاکٹر امبیڈکر وغیرہ کی کوششوں سے چھوا چھوت کے خلاف قانون بھی بن گیا،……… مگر………. کیا آپ یقین کریں گے کہ اب اُسی چھوا چھوت کا دائرہ بڑھ کر مسلمانوں تک آگیا ہے، سابقہ چھوا چھوت کو تو بظاہر انگریز سرکار کی سرپرستی حاصل نہیں تھی، مگر ہمارے آزاد ہندوستان کی موجودہ سرکار کھلے عام اِس چھوا چھوت کی سرپرستی فرمارہی ہے ـ

موجودہ ہندوستان میں سب سے بڑا اچھوت کون؟
قلیل مدتی انگلش کورس

   سب جانتے ہیں آج کل شمالی ہندوستان میں کانوڑ یاترا چل رہی ہے، اُس یاترا کے راستے میں پڑنے والی کئی ریاستوں نے اعلان کردیا ہے کہ راستے میں پڑنے والے تمام مسلم دوکانداروں کو اپنی دوکانوں پر اپنا اور اپنے یہاں کام کرنے والے افراد کے نام کا بورڈ لگاکر رکھنا چاہیئے، ………… صرف ہوٹل اور ڈھابوں تک بات ہوتی تو سمجھ میں آسکتا تھا کہ ممکن ہے کسی ہوٹل میں گوشت انڈا وغیرہ بھی بنتا ہو، جس سے یاتریوں کے مذہبی جذبات مجروح ہوسکتے تھے ـ مگر افسوس ہمیں تب ہوا جب ہم نے ریڑھی لگاکر بیچنے والے کئی پھل فروشوں کو بھی اپنے نام کی تختی لگائے دیکھا ۔

موجودہ ہندوستان میں سب سے بڑا اچھوت کون؟
Advertisement

    آزادی سے پہلے جب کھلے عام چھوا چھوت کا رواج تھا تب تو سارے پنڈت،ٹھاکر،چماروں، بھنگیوں کے چھوئے ہوئے آم، امرود وغیرہ مزے سے کھاتے تھے، اب سے دوتین سال پہلے تک کانوڑ یاترا کے راستے میں مسلم تنظیمیں یاتریوں کے لئے شربت، پانی کا نظم کرتی تھیں، تمام کانوڑئے بے جھجھک اس کا بھی فائدہ اٹھاتے تھے ـ………..  اب کیا ہوا؟ ……….  اب کیوں مسلمانوں کے چھوئے ہوئے پھل سے بھی دھرم بھرشٹ ہورہا ہے؟  …………. آخر دوتین سالوں کے اندر مسلمان بھنگیوں سے بدتر کیسے ہوگئے ؟ ؟

(مضمون نگارمولانامحمود احمد خاں دریابادی ممبئی کے مشہور سماجی کارکن اور آل انڈیا علماء کونسل کے جنرل سیکرٹری ہیں)

Share This Article
13 تبصرے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Trending News

مرکزالمعارف ممبئی میں اکیسواں جلسۂ تقسیمِ اسناد کا شاندار انعقاد

مرکزالمعارف ممبئی میں اکیسواں جلسۂ تقسیمِ اسناد کا شاندار انعقاد ای سی…

Eastern

ایران، عالمی مزاحمت اور مغربی بالادستی کا زوال

ایران، عالمی مزاحمت اور مغربی بالادستی کا زوال از: محمد برہان الدین…

Eastern

”سامعین کی توجہ اور فکری وزن کے بغیر تقریر بے اثر ہے“_سہیل مسعود

”سامعین کی توجہ اور فکری وزن کے بغیر تقریر بے اثر ہے“_سہیل…

Eastern

ٹریل بلیزر: فکر، ایمان و سائنس کا سنگم

ٹریل بلیزر: فکر، ایمان و سائنس کا سنگم از____ محمد توقیر رحمانی…

Eastern

ماہ ربیع الاول اور اسوۂ نبوی ﷺ کا تقاضا

ماہ ربیع الاول اور اسوۂ نبوی ﷺ کا تقاضا از____ محمد توقیر…

Eastern

انسان کی تخلیق محض وجود کیلئےنہیں ، خلافتِ ارضی کی عظیم ذمہ داری کیلئے ہے

انسان کی تخلیق محض وجود کیلئےنہیں ، خلافتِ ارضی کی عظیم ذمہ…

Eastern

Quick LInks

سید محمد نقیب العطاس: سوانحِ حیات اور علمی خدمات

سید محمد نقیب العطاس: سوانحِ حیات اور علمی خدمات از: مولانا صادق…

Eastern

بہار میں کھیل ہوگیا

بہار میں کھیل ہوگیا از: محمد برہان الدین قاسمی ایڈیٹر: ایسٹرن کریسنٹ…

Eastern

ایک کھلا خط

ایک کھلا خط ​عرب اور خلیج فارس کے مسلم حکمرانوں کے نام،…

Eastern