موجودہ وقت میں زکوۃ کے بہترین مصارف مدارسِ دینیہ کے طلبہ ہیں

Eastern
11 Min Read
40 Views
11 Min Read

زکوٰۃ کی جمع و تقسیم شرعی و دینی مسائل و  معلومات دین و شریعت کے ماہرین سے ہی حاصل کریں !
موجودہ وقت میں زکوۃ کے بہترین مصارف مدارسِ دینیہ کے طلبہ ہیں

از: ( مولانا ڈاکٹر ) ابوالکلام قاسمی شمسی

زکوٰۃ دین اسلام کا ایک رکن ہے ، یہ صاحب نصاب پر فرض ہے ، اس کے جمع اور تقسیم کا تعلق شریعت سے ہے ، اس کے جمع کرنے کا طریقہ احادیث میں موجود ہے ، نیز اس کے مصارف کا تفصیلی تذکرہ قرآن کریم میں بیان کیا گیا ہے ، اس کے خلاف خرچ نہیں کیا جاسکتا ہے۔ موجودہ وقت میں علم اور تعلیم کے بہت سے شعبے ہیں ، یہی نہیں ، بلکہ موجودہ دور تخصص کا دور ہے ، ہر فن کی تعلیم الگ الگ دی جاتی ہے ، سائنس کی تعلیم کے شعبے الگ ہیں ، آرٹ کے شعبے الگ ہیں ، اب تو الگ الگ ادارے بھی قائم کئے گئے ہیں ، ان میں بھی ہر فن میں تخصص کا سلسلہ بھی شروع ہے ، میڈیکل تعلیم کے شعبے الگ ہیں ، انجینرنگ کے شعبے الگ ہیں ، ایجوکیشن کے شعبے الگ ہیں ، ہر شعبے الگ الگ ہیں ، ہر شعبے کے ماہرین کی بات اپنے ہی شعبے میں قبول کی جاتی ہے ، کوئی آدمی بیمار ہو جاتا ہے تو وہ علاج کے لئے میڈیکل ڈاکٹر کے پاس جاتا ہے ، وہ کسی انجینیر کے پاس نہیں جاتا ہے ، ڈاکٹر بھی اس کا مجاز نہیں ہے کہ وہ انجینیرنگ کے معاملہ میں رائے دے اور نہ انجینیر اس کا مجاز ہے کہ وہ میڈیکل کے شعبے میں دخل دے ، اگر کوئی کسی دوسرے کے شعبہ میں دخل دیتا ہے تو اس کی بات قبول نہیں کی جائے گی ، کیونکہ عصری اداروں میں ایک سبجیکٹ بھی دینی مضامین پر مشتمل نہیں ہے ، اس طرح عصری ادارے کے فارغین اپنے فن میں ماہر ضرور ہیں ، مگر دینی مسائل کے سلسلے میں وہ مستند نہیں ہیں ، چونکہ وہ دینی تعلیم و مضامین سے واقف نہیں ہیں ، کیونکہ یہ نہ تو ان کا سبجیکٹ ہے اور نہ کبھی رہا ہے۔

موجودہ وقت میں دینی تعلیم و علوم کے درس و تدریس کے لئے الگ انتظام ہے ، وہ جگہ جہاں دینی تعلیم کا انتظام ہے ،وہ مدارس کہلاتے ہیں ، یہاں ابتدائی درجات سے انتہا تک دینی و اسلامی علوم کی تعلیم دی جاتی ہے ، یہاں دینی تعلیم و علوم کے لئے تخصص کے شعبے قائم ہیں ، یہاں دین و شریعت کے ماہرین پیدا کئے جاتے ہیں ، جو دین و شریعت کے ہر مسائل کا حل پیش کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں ،اور پیش کرتے ہیں ، اس طرح مدارس اپنے قیام کے مقاصد میں پورے طور پر کامیاب ہیں ، سرکاری سروے کے مطابق 3 / سے 4/ فیصد طلبہ مدارس میں تعلیم حاصل کرتے ہیں ، جبکہ ہمارے ملک میں مسلمانوں کی تعداد تقریبا 20/ فیصد ہے ، اعلی تعلیم میں یہ تعداد اور بھی کم ہو جاتی ہے ، پھر بھی یہ کم تعداد ہونے کے باوجود ملت کی دینی ضروریات کی تکمیل کرتے ہیں ، اس طرح یہ مدارس ملت اسلامیہ کے لئے رحمت ہیں۔

Advertisement
Advertisement

رمضان کے مبارک مہینہ میں اہل خیر حضرات عام طور پر زکوٰۃ نکالتے ہیں ، چنانچہ رمضان المبارک کا مہینہ شروع ہوتے ہی زکوٰۃ کے جمع اور تقسیم پر بحث شروع ہو جاتی ہے ، مسلمانوں سے غریبی ختم کرنے پر گفتگو کی جاتی ہے ، کوئی کل کارخانے اور فیکٹری قائم کرنے کا مشورہ دیتے ہیں ، کوئی اعلی تعلیم دلانے پر خرچ کرنے کا مشورہ دیتے ہیں ، صرف مشورہ ہی نہیں ، بلکہ اس کے لئے تگ و دو بھی کرنے لگتے ہیں ، اسی کے ساتھ مدارس کی کمزوریوں کو بھی بتانے لگتے ہیں ، یہ ایسے لوگ ہیں جو دینی تعلیم اور دینی علوم میں مہارت نہیں رکھتے ہیں ، مہارت تو دور کی بات ہے ، دینی علوم و مضامین ان کا کبھی سبجیکٹ نہیں رہا ہے ، پھر بھی وہ دینی معاملات میں دخل دیتے ہیں ، یہ افسوس کی بات ہے۔

دین اور دینی تعلیم و علوم کی حفاظت کو ہردور میں اہمیت حاصل رہی ہے ، ہندوستان میں مسلمانوں کی حکومت رہی تو مدارس اور دینی اداروں کے لئے حکومت کی جانب سے بڑی بڑی جائیدادیں اور جاگیریں وقف کی گئیں ، ان کے ذریعے ان کے اخراجات پورے کئے جاتے تھے ، جب ہندوستان میں مسلم حکومت ختم ہوگئی ، تو مدارس اور دینی اداروں کو چلانے کے لئے آمدنی کا کوئی ذریعہ نہیں رہا ، تو اس وقت کے علمائے کرام نے مسلم مخلص اہل خیر حضرات کو اس جانب متوجہ کیا ، اور صدقات ، زکوٰۃ اور عوامی چندے سے ان کو چلانے کی ترغیب دلائی ، اس کا اچھا اثر پڑا ، چنانچہ انگریزی دور حکومت سے ابھی تک یہ سلسلہ جاری ہے ، البتہ کرونا وائرس کے دور سے مدارس میں تعاون کا سلسلہ کم ہوتا نظر آرہا ہے ، جبکہ ہندوستان میں پیدا شدہ موجودہ حالات کے تناظر میں اس بات کی سخت ضرورت ہے کہ دینی تعلیم و علوم کے اداروں کو مضبوط کیا جائے ، تاکہ ہندوستانی مسلمانوں کی دینی ضروریات کی تکمیل ہوتی رہے۔

زکوٰۃ فرض ہے ، قرآن کریم میں اس کے مصارف کا تذکرہ موجود ہے ، ان ہی مصارف میں زکوۃ کی رقم خرچ کی جا سکتی ہے ، فرض کی ادائیگی کے لئے لازم ہے کہ زکوٰۃ دینے والے اہل خیر حضرات بھی اس پر نظر رکھیں کہ وہ اپنی زکوٰۃ کی رقم کہاں خرچ کر رہے ہیں یا خرچ کرنے کے لئے کسے دے رہے ہیں ؟

رمضان المبارک خیر و برکت کا مہینہ ہے ، اس کے شروع ہوتے ہی واٹس ایپ ، فیس بک اور سوشل میڈیا پر زکوٰۃ کے سلسلے میں طرح طرح کے مشورے شروع ہوگئے ہیں ، ایسے ایسے حضرات بھی مشورہ دینے لگے ہیں ، جو دینی علوم میں مہارت نہیں رکھتے ، ایسے لوگوں کو خود اپنا جائزہ لینا چاہیے کہ کیا وہ علوم دینیہ سے واقفیت کے بغیر دین و شریعت کی باتوں میں مشورہ اور رائے دینے کے مجاز ہیں ؟ کیا ان کی بات دنیاوی معاملے میں اس شعبے میں قابل قبول ہے جس شعبے کی انہوں نے تعلیم حاصل نہیں کی ؟ جب دنیاوی معاملے میں ایسا نہیں ہے تو پھر دین و شریعت کے معاملے میں ان کی بات کیسے قابل قبول ہوسکتی ہے ؟ یہ خود انہیں بھی سمجھنا چاہیے ، نیز ایسے وقت میں زکوہ دینے والے اہل خیر حضرات کی بھی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنی زکوٰۃ کی حفاظت کریں ، اور زکوٰۃ ادا کرتے وقت کسی بھی قسم کی رہنمائی معتبر علماء اور مستند ادارے سے حاصل کریں ، بہرحال زکوٰۃ دینے والے اہل خیر حضرات یہ دیکھ لیں کہ وہ اپنی زکوٰۃ کی رقم کسے دے رہے ہیں ؟

Advertisement
Advertisement

ہندوستان جیسے ملک میں جہاں دینی تعلیم اور دینی علوم کی ترویج و اشاعت کے لئے باقاعدہ کوئی ذریعہ نہیں ہے ، نہ حکومت کی جانب سے اور نہ عوام کی جانب سے ، ایسی حالت میں دینی تعلیم و علوم کی حفاظت اور ترویج و اشاعت موجودہ وقت کہ سب سے اہم ضرورت ہے ، اور ایسے ممالک جہاں دینی تعلیم و علوم کے تحفظ و ترویج و اشاعت کے لئے کوئی فنڈ یا کفالت کا کوئی ذریعہ نہیں ، ایسے ملک میں ایسے ادارے ہی زکوٰۃ کے زیادہ مستحق ہیں ، ان اداروں میں اکثر غریب طلبہ تعلیم حاصل کرتے ہیں ، جو مصارف زکوٰۃ میں شامل ہیں ، جن پر خرچ کرنے سے اہل خیر کئی مصارف زکوٰۃ میں خرچ کرنے کا ثواب حاصل کرتے ہیں ، کیونکہ مصارف زکوٰۃ میں جن کا ذکر ہے ، ان میں فقراء ہیں ، مساکین ہیں ، ان میں فی سبیل اللہ اور ابن السبیل بھی ہے ، مدارس کے طلبہ مذکورہ چاروں مصارف میں آتے ہیں ، ان پر خرچ کرنے سے چار مصارف میں خرچ کرنے کا ثواب حاصل ہوتا ہے ، اس لئے ہندوستان جیسے ملک میں زکوۃ کے بہترین مصارف مدارس اسلامیہ ہیں ، اس لئے اہل خیر حضرات کو اپنی زکوٰۃ کی زیادہ سے زیادہ رقم مدارس کے طلبہ پر خرچ کرنا چاہئے ، تاکہ وہ ثواب کے زیادہ مستحق ہوں ، اگر ہم نے مدارس کی جانب توجہ نہ دی اور خدا نخواستہ مدارس جیسی نعمت سے محروم ہوگئے ، تو مسلمان دین سے محروم ہو جائیں گے ، جبکہ ہمارے اکابر نے اس ملک میں دین کی آبیاری کی ہے ، اور مدارسِ و مساجد سے اس کو آباد کیا ہے اور امن و شانتی کا پیغام دیا ہے ،اللہ تعالیٰ صحیح فکر عطا فرمائے ، جزاکم اللہ خیرا

Share This Article
کوئی تبصرہ نہیں ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Trending News

مرکزالمعارف ممبئی میں اکیسواں جلسۂ تقسیمِ اسناد کا شاندار انعقاد

مرکزالمعارف ممبئی میں اکیسواں جلسۂ تقسیمِ اسناد کا شاندار انعقاد ای سی…

Eastern

ایران، عالمی مزاحمت اور مغربی بالادستی کا زوال

ایران، عالمی مزاحمت اور مغربی بالادستی کا زوال از: محمد برہان الدین…

Eastern

”سامعین کی توجہ اور فکری وزن کے بغیر تقریر بے اثر ہے“_سہیل مسعود

”سامعین کی توجہ اور فکری وزن کے بغیر تقریر بے اثر ہے“_سہیل…

Eastern

ٹریل بلیزر: فکر، ایمان و سائنس کا سنگم

ٹریل بلیزر: فکر، ایمان و سائنس کا سنگم از____ محمد توقیر رحمانی…

Eastern

ماہ ربیع الاول اور اسوۂ نبوی ﷺ کا تقاضا

ماہ ربیع الاول اور اسوۂ نبوی ﷺ کا تقاضا از____ محمد توقیر…

Eastern

انسان کی تخلیق محض وجود کیلئےنہیں ، خلافتِ ارضی کی عظیم ذمہ داری کیلئے ہے

انسان کی تخلیق محض وجود کیلئےنہیں ، خلافتِ ارضی کی عظیم ذمہ…

Eastern

Quick LInks

موجودہ وقت میں زکوۃ کے بہترین مصارف مدارسِ دینیہ کے طلبہ ہیں

زکوٰۃ کی جمع و تقسیم شرعی و دینی مسائل و  معلومات دین…

Eastern

جامعہ اسلامیہ کوکن — دینی و عصری تعلیم کا حسین امتزاج

جامعہ اسلامیہ کوکن — دینی و عصری تعلیم کا حسین امتزاج از:…

Eastern

بھارت کیلئے نئی ہمسایہ سفارتی حکمت عملی اب محض ایک اختیار نہیں بلکہ ایک تزویراتی ضرورت ہے

بھارت کیلئے نئی ہمسایہ سفارتی حکمت عملی اب محض ایک اختیار نہیں…

Eastern