عصرحاضر کے ‘مقدس سراب’ اور بندگی کی گمشدہ شاہراہ
از: مولانا صادق ابوحسان پوترک فلاحی
انسان اپنی فطرت میں کسی "حتمی سچائی” کا پیاسا ہے، لیکن جب اسے راستے میں کوئی "خوشنما سراب” مل جاتا ہے جو اس کی وقتی پیاس (ذہنی الجھن یا جذباتی اذیت) کو دور کر دے، تو وہ اسے ہی اپنی منزل قرار دے دیتا ہے۔ نفسیاتی تسکین کے خوشنما جال ، بندگی کے راستہ کی سب سے بڑی فکری کشمکش کا عنوان ہے۔انسانی زندگی کے تضادات کا منظر بھی ہے۔ وہ کائنات کی وسعتوں کو تسخیر کر رہا ہے مگر اپنے اندر کے "خلا” سے خوفزدہ ہے۔ اس خوف، تنہائی اور بے یقینی نے اسے ہر اس آواز پر لبیک کہنے پر مجبور کردیتی ہے جو اسے "فوری سکون” (Instant Relief) کی امید دلادے ۔ انسان کی اسی کیفیت سے مختلف فلسفے اور تحریکیں وجود پاتی ہیں جو "حجابِ اکبر” بن کر اسلام کے آفاقی پیغام کے درمیان حائل ہو جاتی ہیں۔
عالمی استعمار اور سرمایہ دارانہ نظام نے اسی اضطراب کا حل ، بڑی مہارت سے کارپوریٹ روحانیت کے نام سے پیش کردیا اور "مائنڈ فلنس” (Mindfulness) اور "یوگا” جیسی چیزوں کوبڑی تیزی سے رواج دیا تاکہ انسان کو خدا سےکٹ کر محض ایک "ذہنی ورزش میں الجھا ر ہے۔ دوسری طرف فکری درد کش ادویات کی صورت میں ایسے مفکرین سامنے آتے ہیں جو اسی کمزوری کو "منطقی عیاشی” (Intellectual Luxury) کے طور پر بیچتے ہیں۔ وہ انسان کو یہ باور کرواتے ہیں کہ تمہاری نجات کسی "ہادی” یا "آخرت” میں نہیں، بلکہ تمہارے اپنے "مشاہدے” میں ہے۔ یہ فلسفہ انسان کو "بندگی” سے نکال کر "خود پرستی” کے ایک نئے جال میں پھنسا دیتا ہے۔
اسلام کی آفاقی تعلیمات کی راہ میں دو طرح کے حجاب سب سے زیادہ رکاوٹ ہیں۔ ایک عقل کا حجاب، جو "سائنٹزم” اور "منطق” کے نام پر انسان کو یہ وہم دیتا ہے کہ جو عقل میں نہیں آتا وہ سچ نہیں ہے۔ اگر کوئی سچ ہے بھی تو اس کا کوئی مذہبی رنگ نہیں ، ،یعنی خدا ہے بھی اور نہیں بھی کے درمیان جھول رہا ہوتا ہے جس کے پانے کی جستجو ہی لاحاصل ہوجاتی ہے ، جب انسان یہ سمجھ لیتا ہے کہ اس کی عقل ہی سچائی کا واحد پیمانہ ہے، تو وہ "غیب” (Unseen) پر ایمان لانے کی ضرورت محسوس نہیں کرتا۔یہ عقل اسے اللہ کے سامنے جھکنے (سجدے) سے روک دیتی ہے کیونکہ اس کی "انا” اب "علم” کے لبادے میں زیادہ مضبوط ہو گئی ہے۔ یہ "ذہنی نشہ” اسے اس سادگی سے دور کر دیتا ہے جو ایمان کا تقاضا ہے۔
دوسرا محبت کا حجاب ہے، جب مذہب کو صرف "محبت، موسیقی اور کیف” تک محدود کر دیا جائے، تو "شریعت اور جوابدہی” کا عنصر غائب ہو جاتا ہے۔• انسان "عشق” کے نام پر ایک ایسی خیالی دنیا میں مگن ہو جاتا ہے جہاں اسے نہ کسی ضابطے کی فکر رہتی ہے اور نہ ہی آخرت کی جوابدہی کی۔ یہ "جذباتی سکون” اسے اس عملی جدوجہد (جہادِ نفس) سے غافل کر دیتا ہے جو اسلام کا اصل مطالبہ ہے۔
ایسی روحانیت جو شریعت اور جوابدہی سے عاری ہے۔ یہ انسان کو جذباتی کیف و مستی میں ایسا گم کرتی ہے کہ وہ "عمل” اور "آخرت” کے مقصد سے غافل ہو جاتا ہے۔ یہ محبت "خدا” سے نہیں بلکہ "محبت کے احساس” سے ہوتی ہے، جو دراصل ایک قسم کی اسکیپنگ (Escaping) ہے۔
عصرِ حاضر کےعلماء و اسلامی دانشور جدید انسان کی نفسیات کا مطالعہ کرنے میں بڑی حد تک ناکام رہے ہیں۔ وہ آج بھی تیرہویں صدی کے سوالات کے جواب دے رہے ہیں، جبکہ آج کا نوجوان "وجودیت” (Existentialism)، "لامرکزیت” اور "نفسیاتی صدموں” (Trauma) کے بوجھ تلے دبا ہوا ہے۔ اور علماء اور دنشور دین کو محض "قوانین کا مجموعہ” کے طورپر پیش کررہے ہوتے ہیں اور اس کے "نفسیاتی و وجودی پہلوؤں” (Ontological Aspects) کو واضح نہیں کرنے سے قاصر رہ جاتے ہیں، پھر عقل اور محبت کے نام پر اٹھنے والی تحریکیں ہمارے نوجوانوں کو اغوا کرنے میں کامیاب ہوجاتی ہیں ۔
ایکس مسلم رجحان کو محض فکری بغاوت سمجھ لینا مسئلے کی سطحی تعبیر ہے۔ درحقیقت یہ جدید انسان کی وجودی بے معنویت، نفسیاتی صدمات اور مذہب کی سطحی پیشکش کے باہمی امتزاج کا نتیجہ ہے۔ آج کا نوجوان الحاد کی طرف اس لیے نہیں بڑھ رہا کہ اس کواسلام کے رد کی کوئ طاقتور دلیل مل گئی ہے ، بلکہ اس لیے کہ اسے وہ اسلام دکھائی ہی نہیں دیا جو اس کے داخلی خلا، اضطراب اور سوالات کو سمجھ سکے۔ جب دین کو محض احکام و قوانین کے مجموعے کے طور پر پیش کیا جاتا ہے اور اس کے نفسیاتی و وجودی پہلوؤں کو واضح نہیں کیا جاتا، تو جدید ذہن اسے ہدایت کے بجائے دباؤ محسوس کرتا ہے۔ نتیجتاً وہ یا تو سائنٹزم کی پناہ لیتا ہے، یا جذباتی روحانیت کی طرف جھک جاتا ہے، یا اپنی ذاتی سچائی کو حتمی معیار بنا لیتا ہے۔
عصرِ حاضر کے اسلامی دانشوروں کی ایک بڑی کمزوری یہ رہی ہے کہ انہوں نے جدید انسان کی نفسیات کا سنجیدہ مطالعہ نہیں کیا۔ ہم اب بھی ماضی کے سوالات کے جوابات دے رہے ہیں، جبکہ آج کا نوجوان وجودیت، شناختی بحران، ٹراما اور ڈیجیٹل تنہائی کے بوجھ تلے دبا ہوا ہے۔ جب اس کے وجودی سوالات کے جواب میں اسے صرف فقہی دلائل یا نصیحتیں ملتی ہیں تو وہ اپنے درد کو غیر سنا ہوا محسوس کرتا ہے۔ اسی خلا کو بعض عقلی تحریکیں “منطق” کے نام پر اور بعض روحانی تحریکیں “محبت” کے نام پر پُر کرنے کی کوشش کرتی ہیں، اور نوجوان ان کی طرف مائل ہو جاتا ہے۔
دوسری طرف، چند افراد کے قبولِ اسلام کے واقعات ہمیں مسرور کردیتے ہیں ، حالانکہ ان کا اسلام بھی ہماری کسی منصوبہ بند کوشش کا نتیجہ نہیں ہوتا بلکہ اکثر ان کے اسلام کی طرف آنے وجوہات بھی وہی نکلتی ہیں جو ایکس مسلم کے اسلام سے دستبرداری کی وجہ ہوتی ہے ۔ ہمارے آس پاس کے ہزاروں نوجوان جو خاموشی سے اسلام سے ناوابستگی کا اعلان کر رہے ہیں، ان کے لیے کوئی منظم حکمت عملی تشکیل نہیں دی جا رہی۔ مساجد، مدارس اور تعلیمی اداروں میں سوال پوچھنے کی فضا محدود ہے، نفسیاتی تربیت کا فقدان ہے، اور دین کی تشریح وجودی زبان میں کم ہی کی جاتی ہے۔ جب تک ہم ایمان کو عقل، نفسیات اور عملی بندگی کے جامع ربط کے ساتھ پیش نہیں کریں گے، یہ خلا برقرار رہے گا۔
اصل ضرورت اس بات کی ہے کہ اسلام کومحض “ممنوعات کی فہرست” کے طور پر نہیں بلکہ انسان کے وجودی اضطراب کے علاج کے طور پربھی کرنے کی ضرورت ہے۔ نماز کو مرکز سے تعلق کی تجدید، روزہ کو خواہش پر قابو کے ذریعے آزادی، اور زکوٰۃ کو انا کے علاج کے طور پر سمجھایا جائے۔ نوجوان کے سوال سے خوفزدہ ہونے کے بجائے اسے مکالمے کا دروازہ دیا جائے۔ جب دین عقل کو بصیرت، جذبے کو طہارت اور زندگی کو معنویت عطا کرنے والا نظام بن کر سامنے آئے گا، تب بندگی جبر نہیں بلکہ عزت اور شعور کا انتخاب محسوس ہوگی۔ ورنہ جدید ذہن اسے "اخلاقی پولیسنگ” (خدائی فوجداری)سمجھ لیتا ہے ، ہدایت نہیں۔
ہم ایک ایسی فکری جنگ کے دور میں جی رہے ہیں جہاں ہر طرف “مقدس سراب” بچھے ہوئے ہیں۔ سچائی مفقود نہیں، مگر تہوں میں چھپ چکی ہے، یہاں تک کہ حجاب ہی منزل دکھائی دینے لگتا ہے۔ یہ حجاب کسی ایک فلسفے کا نام نہیں بلکہ میڈیا، مارکیٹ، لائف سٹائل اور نام نہاد روحانیت کا مرکب جال ہے، جس نے انسان کو “عبد” کے بجائے “صارف” اور “ذہنی عیاش” بنا دیا ہے۔ سوشل میڈیا ایک نئے مذہب کی صورت اختیار کر چکا ہے، جہاں لائکس اور ویوز توجہ کی نئی عبادت بن گئے ہیں، اور لامتناہی تفریح انسان کو اس کے باطن کی پکار سننے نہیں دیتی۔
اسی طرح عہدِ جدید میں جسم کو مرکز بنا کر غذاؤں، سپلیمنٹس اور بائیو ہیکنگ کے ذریعے خوشی کا سراب بیچا جا رہا ہے۔ یہ دراصل موت اور فنا سے فرار کی لاحاصل کوشش ہے۔ دوسری طرف عقل کے نام پر منطق کو مطلق بنا دیا گیا ہے اور محبت کے نام پر ایسی روحانیت پیش کی جا رہی ہے جو شریعت اور جوابدہی سے عاری ہے۔ یہ دونوں لبادے انسان کو وقتی کیف تو دیتے ہیں، مگر بندگی کے سجدے سے محروم کر دیتے ہیں۔
داخلی سطح پر بھی ایک ایسا رجحان پیدا ہو چکا ہے جو اصلاح کے نام پر اسلام کو مغربی معیارات کے مطابق ڈھالنے کی کوشش کرتا ہے، اور وحی و آخرت کی روح نکال کر اسے محض سماجی ضابطہ بنا دینا چاہتا ہے۔ یہ سب مل کر انسان کو ایک خیالی اطمینان دیتے ہیں، مگر اس کے وجودی خلا کو نہیں بھر پاتے۔
حقیقت یہ ہے کہ جب تک انسان ان حجاباتِ اکبر کو چاک کر کے اپنے خالق کے سامنے عبد بن کر کھڑا نہیں ہوتا، وہ اپنے اندر کے خلا کو نہیں بھر سکتا، چاہے وہ کتنا ہی پُراعتماد یا روحانی کیوں نہ دکھائی دے۔ عصرِ حاضر کے مقدس سرابوں کے مقابلے میں بندگی ہی وہ گمشدہ شاہراہ ہے جو انسان کو اس کے اصل مرکز، اصل سکون اور اصل معنویت تک واپس لے جا سکتی ہے۔