آہ! قتل کا یہ کھیل
"بھتیجا نے چچا کو گولی ماری, ماں نے داماد کے عشق میں بیٹی کا گلا گھونٹا، نامراد عاشق نے معصوم لڑکی کی جان لی۔۔۔۔۔ایک ہفتے میں یہ واقعات ایک ہی علاقے میں پیش آئے ۔۔۔اور ہر نئے دن قتل کی کوئی نئی خبر آرہی ہے۔۔۔۔۔قاتل و مقتول سب مسلمان ہیں۔”
مدثر احمد قاسمی
اسسٹنٹ ایڈیٹر ایسٹرن کریسنٹ، ممبئی
جس علاقے میں میں رہتا ہوں، رواں ہفتے تقریباً پانچ ایسے افسوسناک واقعات پیش آئے ہیں جن میں ایک رشتہ دار نے دوسرے رشتہ دار کو قتل کر دیا۔ ان میں بعض واقعات کی بنیاد لین دین کے تنازعات تھے، جبکہ بعض ناجائز تعلقات اور اخلاقی بے راہ روی کے نتیجے میں رونما ہوئے۔ ان سانحات نے پورے معاشرے کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔
سوال یہ ہے کہ ایک مسلمان اس قدر سنگین جرم کا ارتکاب کیسے کر سکتا ہے، جبکہ اسلام نے انسان کی جان، مال اور عزت کو انتہائی محترم قرار دیا ہے؟ قرآنِ کریم نے انسانی جان کی حرمت کو اس قدر اہمیت دی ہے کہ ایک جگہ ارشاد فرمایا: "جس نے کسی شخص کو ناحق قتل کیا، گویا اس نے تمام انسانوں کو قتل کر دیا، اور جس نے کسی ایک جان کو بچایا گویا اس نے پوری انسانیت کو بچا لیا۔” (سورۃ المائدہ: 32)۔
عام طور پر اس طرح کے بیشتر واقعات مادیت پرستی اور دنیا کی بے جا محبت سے جنم لیتے ہیں۔ جب دولت، جائیداد، زمین، کاروبار اور مالی مفادات انسان کی زندگی کا سب سے بڑا مقصد بن جائیں تو رشتوں کی اہمیت کم ہونے لگتی ہے۔
اسی طرح بعض واقعات نفسانی خواہشات کی غلامی کا نتیجہ ہوتے ہیں۔ جب کسی شخص کی خواہشات کے راستے میں کوئی رکاوٹ آتی ہے یا اس کے غلط تعلقات بے نقاب ہونے کا اندیشہ پیدا ہوتا ہے تو وہ اپنے جرم کو چھپانے یا اپنی خواہشات کی تکمیل کے لیے انتہائی خطرناک اقدامات تک پہنچ جاتا ہے۔
اب معاشرے کے سمجھدار، بااثر اور ذمہ دار افراد کو نہایت اہم کردار ادا کرنا ہوگا۔ معاشرے میں بڑھتی ہوئی مادیت پرستی، اخلاقی بے راہ روی اور رشتوں کے تقدس کو پامال کرنے والے رجحانات کے خلاف مؤثر آواز بلند کرنا ہوگا۔ اگر آج بھی ہم نے اپنی ذمہ داریوں کا احساس نہ کیا تو ایسے المناک واقعات مزید بڑھ سکتے ہیں!