نسل پرستانہ فکر کی تائید میں ایک اور من گھڑت تاریخ
بقلم: روچیکا شرما
ترجمہ: خورشید عالم داؤد قاسمی
مدھیہ پردیش ہائی کورٹ کے دو رکنی بنچ نے بروز: جمعہ، 15/مئی (2026) کو اندور کے قریب "دھار” میں واقع ایک سات سو سالہ پرانی مسجد کو ہندو دیوی سرسوتی کا مندر قرار دے دیا۔ یہ فیصلہ بڑی حد تک آرکیالوجیکل سروے آف انڈیا (اے ایس آئی، یعنی حکومت ہند کا ایک ادارہ جو ملک میں آثار قدیمہ کی تحقیق، تاریخی مقامات کے تحفظ اور ثقافتی یادگاروں کی دیکھ بھال کے لیے ذمہ دار ہے) کی جانب سے، عدالت کے حکم پر کیے گئے جی پی آر (گراؤنڈ پینیٹریٹنگ راڈر) سروے کی بنیاد پر دیا گیا ہے۔
سروے کے مطابق، "کمال مولا مسجد”، جو چودھویں صدی کی ایک کثیر ستونوں والی تاریخی عمارت ہے، "دھار” کی پہلی جامع مسجد بھی ہے، ایک پہلے سے موجود گیارھویں صدی کے مندر کی بنیاد پر تعمیر کی گئی تھی، جسے جدید دور میں نام کی غلط نسبت کی بنیاد پر "بھو ج شالہ” کہا جاتا ہے (یہ نام گیارھویں صدی کے پرمار بادشاہ بھوج کے نام سے منسوب ہے)۔ لیکنآرکیالوجیکل سروے آف انڈیاکی آثارِ قدیمہ سے متعلق تشریح اور عدالت کا فیصلہ، دونوں ہی تاریخی مآخد، تعمیراتی اجزاء کے دوبارہ استعمال اور مذاہب کے تاریخی ارتقا کو سمجھنے کے حوالے سے محل نظر اور قابل اعتراض ہیں۔
عدالتی حکم میں درج، اے ایس آئی کے سروے کے مختصر نتائج کے مطابق، مسجد کے نیچے ایک پہلے سے موجود عمارت کے آثار پائے گئے، جو "بہت بڑی، شاید عوامی مقصد کے لیے” تھی (صفحہ: 186)۔ مزید یہ کہا گیا ہے کہ اس پہلے سے موجود ڈھانچے کو "نقصان پہنچایا گیا اور دوبارہ استعمال کے لیے اس میں تبدیلیاں کی گئیں” (ایضا)۔ اے ایس آئی بعد میں صفحہ 189 پر خود اپنی بات کی تردید کرتی ہے، جب وہ یہ کہتی ہے کہ "برآمدوں میں موجود ستونوں اور دیوار سے ابھرا ہوا ستون نما حصہ کا طرزِ تعمیر اور فن تعمیر اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ وہ اصل میں مندروں کا حصہ تھے” (زور دیا گیا ہے)۔ اس طرح یہ باقیات کسی ایک عمارت سے نہیں؛ بلکہ متعدد مندروں سے تعلق رکھتی ہیں (صفحہ 189)۔

نیچے موجود ڈھانچے کو مندر قرار دینا، مکمل طور پر مسجد میں دوبارہ استعمال کیے گئے تعمیراتی مواد کی بنیاد پر کیا گیا ہے۔آرکیالوجیکل سروے آف انڈیا کے مطابق، دوبارہ استعمال کیے گئے ستونوں پر چار بازوؤں والی دیوی دیوتاؤں کی مورتیاں اور پوران میں مذکور دیگر دیوتاؤں، جیسے گنیش، کی تصاویر موجود ہیں، البتہ انھیں اسلامی بت شکنی کی روایت کے مطابق مسخ کر دیا گیا ہے۔
آرکیالوجیکل سروے آف انڈیا کے سروے میں اس امکان پر غور نہیں کیا گیا کہ مسجد کے نیچے موجود ڈھانچہ کوئی محل بھی رہا ہوگا اور یہ کہ مسجد کی تعمیر میں دوبارہ استعمال ہونے والا مواد بھی کسی محل سے حاصل کیا گیا ہوگا۔ دیوی دیوتاؤں کی نقاشی پر مشتمل مجسماتی نقش و نگار محلات کے ستونوں، دیوار کے اوپری کناروں اور دروازوں کا ایک عام حصہ ہوا کرتے تھے۔
آرکیالوجیکل سروے آف انڈیا اپنے ہی اس نتیجے کو بھی نظر انداز کرتی ہے کہ مسجد میں دوبارہ استعمال ہونے والا مواد صرف ایک نہیں؛ بلکہ متعدد ذرائع سے لیا گیا تھا (صفحہ 189)۔ مزید برآں، سروے اپنے اس دعوے کے حق میں کوئی ثبوت پیش نہیں کرتا کہ پہلے سے موجود ڈھانچہ ہی وہ عمارت تھی جسے نقصان پہنچا کر، مسجد کی تعمیر میں دوبارہ استعمال کیا گیا۔
سن2019 کے ایودھیا فیصلے (صفحہ: 906 – 907)میں یہ درج ہے کہ غیر قانونی طور پر منہدم کی گئی بابری مسجد کے نیچے مکمل کھدائی کے باوجود یہ ثابت نہیں کیا جا سکا کہ اس کے نیچے موجود ڈھانچے کو تباہ کیا گیا تھا۔ پھر آخر آرکیالوجیکل سروے آف انڈیا ایک جی پی آر سروے کی بنیاد پر کسی پہلے سے موجود ڈھانچے کی تباہی کو کیسے ثابت کر سکتی ہے؟
یہ امکان کہ پہلے سے موجود ڈھانچہ دراصل ایک محل تھا، مبینہ طور پر "واگ دیوی” کے مجسمے کی "دریافت” سے اس کی مزید تائید ہوتی ہے۔ اس کا پہلی بار ذکر صفحہ 12 پر کیا گیا ہے، جہاں دعوی کیا گیا ہے کہ یہ "دیوی واگ دیوی (ماں سرسوتی) کا مجسمہ ہے، جسے مسلم حکمرانوں نے وہاں دفن کر دیا تھا”۔ اس دعوے کے ساتھ ایک غیر فعال ویب لنک بھی دیا گیا ہے، جس میں برٹش میوزیم کا نام غلط لکھا گیا ہے۔ اس مجسمہ کا دوبارہ ذکر صفحہ 44 پر آتا ہے اور وہاں دیا گیا ویب لنک بھی کسی صفحے تک نہیں پہنچتا، غالبا اس لیے کہ اس میں بھی برٹش میوزیم کا نام غلط درج کیا گیا ہے۔
موجودہ ویب لنک ایک دلچسپ صورتِ حال پیش کرتا ہے۔ اس نوادرات کو "موٹے، کھردرے سفید سنگِ مرمر میں تراشی گئی جین یکشینی امبیکا کی کھڑی شخصیت” کے طور پر بیان کیا گیا ہے۔ برٹش میوزیم کی ویب سائٹ پر کہیں بھی اس شخصیت کو دیوی سرسوتی کے طور پر شناخت نہیں کیا گیا۔ اس مجسمے کی شناخت جین یکشینی امبیکا کے طور پر اس کے ساتھ موجود کتبے کی بنیاد پر کی گئی ہے، جس میں مجسمے کو 1034 عیسوی کا بتایا گیا ہے اور یہ درج ہے کہ ورروچی نے واگ دیوی اور تین جینوں کے مجسمے بنانے کے بعد امباکا یہ مجسمہ تیار کیا۔ درحقیقت، اسی کتبے میں ورروچی خود کو ان لوگوں میں شمار کرتا ہے جو چنڈرانگری اور ودیادھری کے دھرم کے پیروکار ہیں، جو جین مذہب کی شاخیں ہیں۔ اس طرح یہ مجسمہ نہ صرف ایک جین یکشینی کا ہے؛ بلکہ اسے ایک جین فنکار نے ہی بنایا ہے۔ تاہم یہ معلومات مکمل طور پر نظر انداز کر دی گئی ہیں اور ایسے مضحکہ خیز دعوے کی تائيد کے لیے بغیر کوئی ثبوت پیش کیے، صفحہ: 12 پر واگ دیوی اور امبا دونوں کو دیوی سرسوتی کی شکلیں قرار دیا گیا ہے۔
یہ فیصلہ اس حقیقت کو بھی نظر انداز کرتا ہے کہ نوآبادیاتی سروے کار ولیم کنکیڈ نے جین یکشینی کے مجسمے کو 1875 میں "دھار” میں، ایک شہری محل کے کھنڈرات سے دریافت کیا تھا — یہ معلومات برٹش میوزیمکی ویب سائٹ پر واضح طور پر درج ہیں؛ لیکن عدالتی حکم میں موجود نہیں۔ جین یکشینی امبیکا کو دیوی سرسوتی کے بت کے طور پر بالقصد غلط طور پر پیش کرنا، دراصل ایسا واحد ثبوت ہے جس کی بنیاد پر یہ دعوی کیا گیا کہ یہاں پرمار بادشاہ بھوج کا بنایا ہوا ایک سرسوتی مندر موجود تھا اور یہ 1034 عیسوی میں تعمیر کیا گیا تھا۔

یہ امکان کہ پہلے سے موجود ڈھانچہ جین مذہب سے تعلق رکھتا تھا، اس کی اس بات سے بھی تائید ہوتی ہے کہ اسی آرکیالوجیکل سروے آف انڈیا کے سروے میں مسجد کے احاطے سے ایک جین تیرتھنکر کے مجسمے کی دریافت بھی رپورٹ کی گئی۔ فیصلے نے (صفحہ 234 پر) اس بات کی یہ کہہ کر وضاحت کرنے کی کوشش کی کہ "بھارت میں جین مت اور ہندو مت الگ الگ اکائیاں نہیں ہیں۔ اگرچہ ان دونوں مذاہب کی عبادتی رسومات مختلف ہو سکتی ہیں؛ لیکن دونوں قدیم زمانے سے ساتھ ساتھ ارتقا پذیر رہے ہیں اور ایک ہی اعلی ہستی کی پرستش کرتے رہے ہیں۔” تاہم یہ مؤقف تاریخی طور پر کمزور اور ناقابل قبول ہے۔ ماہرِ آثارِ قدیمہ کے آر سرینیواسن نے سن 1975 میں تمل ناڈو کے چٹانوں میں تراشے گئے مندروں پر اپنی تحقیق میں واضح کیا ہے کہ آٹھویں اور نویں صدی میں چٹان پر تراشے گئے کئی جین عبادت گاہیں شیو یا وشنو مت کے مندروں میں تبدیل کر دیے گئے۔
جین مت اور ہندو مت کو ایک دوسرے سے الگ نہ سمجھنے کا یہ تصور دراصل ہندومت کی نوآبادیاتی تعریف کو بھی دہراتا ہے، جس میں اسے "نہ مسلمان، نہ عیسائی” کے طور پر بیان کیا گیا تھا۔ ہندومت کی یہ غلط فہمی نوآبادیاتی دور کے سروے کاروں نے بھی اختیار کی، خاص طور پر ماہرِ تعمیرات مورخ جیمز فرگوسن نے، جنھوں نے اپنی 1876 میں لکھی گئی کتاب میں جین بسادیوں اور بدھ اسٹوپوں کو ہندو فنِ تعمیر کے زمرے میں شامل کیا۔
یہ حکم نہ صرف ہندومت کی نوآبادیاتی تعریف پر انحصار کرتا ہے؛ بلکہ مسجد کے اندر پائے جانے والے سنسکرت کتبوں کی تفہیم کے حوالے سے بھی نوآبادیاتی ذرائع پر بھروسہ کرتا ہے۔ تا ہم کسی بھی ایسے سنسکرت ماخذ کا حوالہ نہیں دیا گیا جو مسجد کے آس پاس کسی مندر کی موجودگی کو درج کرتا ہو۔
جس طرح ایک محل میں ملنے والے جین یکشینی امبیکا کے مجسمے کو غلط طور پر سرسوتی کے طور پر پیش کیا گيا ہے، جس کا تعلق ایک مندر سے ہے، اسی طرح ایک کتبہ جو متنازع مقام سے تین کلومیٹر دور صوفی بزرگ عبداللہ شاہ چنگل کے مزار میں ملا تھا، اسے بھی پہلے سے موجود ڈھانچے کی تباہی کے ثبوت کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔ یہ وضاحت نہیں کی گئی ہے کہ آرکیالوجیکل سروے آف انڈیا کس بنیاد پر کمال مولا مسجد کے مقام پر مندر کی مبینہ طور پر تباہی اور چنگل کے مزار پر موجود اس کتبے کے درمیان تعلق اور ربط قائم کرتی ہے۔
موجودہ ڈھانچے کو مندر فرض کرنے، دوبارہ استعمال ہونے والے مواد کو پہلے سے موجود مندر کی تباہی سے منسوب کرنے، جین شخصیت کو سرسوتی کا بت قرار دینے اور ہندومت اور جین مت کو الگ نہ سمجھنے جیسے مفروضوں کے علاوہ، جس بات کو نظر انداز کیا گیا ہے وہ یہ ہے کہ یہ عمارت پچھلے سات سو سال سے ایک مسجد کے طور پر استعمال ہوتی رہی ہے۔

اس مقام پر ملنے والے ایک کتبے (جسے آرکیالوجیکل سروے آف انڈیاکے سروے میں بھی درج کیا گیا ہے) میں درج ہے کہ مالوہ کے گورنر دلاور خان غوری نے سن 1392-93 میں "دھار” کی مساجد کی مرمت کروائی۔ اس سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ کمال مولا مسجدکی تعمیر ابتدائی تیرھویں صدی میں، ممکنہ طور پر دہلی سلطنت کے حکمراں علاؤالدین خلجی کے گورنر عین الملک ملتانی نے کروائی تھی۔
مسجد میں ایک محراب موجود ہے جس پر قرآنی کتبے درج ہیں، ایک منبر (جہاں سے جمعہ کی نماز کا خطبہ دیا جاتا ہے) بھی ہے اور ایک زنانہ (عورتوں کے نماز کی جگہ) بھی شامل ہے۔ نہ صرف یہ کہ یہ فیصلہ اس مقام اور خطے کی جین تاریخ کو نظر انداز کرتا ہے؛ بلکہ مسجد کی حیثیت سے اس عمارت کی طویل (عرصے پر محیط) تاریخ کو بھی نظروں سے اوجھل کردیتا ہے، جو چشتی صوفی بزرگ مولانا کمال کے مزار سے وابستہ رہی ہے۔
(محترمہ روچیکا شرما دہلی میں مقیم ایک مؤرخ اور پروفیسر ہیں۔ وہ ہندوستانی تاریخ پر ایک مقبول یوٹیوب چینل بھی چلاتی ہیں۔)
