ٹرینڈنگ
عالمی مذاہب میں حیات بعد الممات کا تصور: ایک تقابلی جائزہجولائی ۲۰۲۶: وہ مہینہ جب ہندوستانی ٹیلی ویژن نیوز کے زوال سے انکار ناممکن ہو گیا*جنتر منتر احتجاج۔۔۔ اور ہمارے لیے کچھ کام کی باتیںکوکروچ تحریک کی پہلی بڑی کامیابیمعروف سعودی عالمِ دین مفتی محمد عمر شفیق حجازی حفظہ اللہ کا مرکزالمعارف، ممبئی کا دورہدیوبند میں "Concept of Life After Death in World’s Major Religions” کی تقریبِ اجراعالمی یومِ آبادی: مسئلہ آبادی ہے ہی نہیں!اہل ووٹروں کے حقوق کے تحفظ کے لیے فیڈریشن آف مہاراشٹر مسلمس اعلی سطحی وفد کی چیف الیکٹورل آفیسر مہاراشٹر سے اہم ملاقاتعالمی مذاہب میں حیات بعد الممات کا تصور: ایک تقابلی جائزہجولائی ۲۰۲۶: وہ مہینہ جب ہندوستانی ٹیلی ویژن نیوز کے زوال سے انکار ناممکن ہو گیا*جنتر منتر احتجاج۔۔۔ اور ہمارے لیے کچھ کام کی باتیںکوکروچ تحریک کی پہلی بڑی کامیابیمعروف سعودی عالمِ دین مفتی محمد عمر شفیق حجازی حفظہ اللہ کا مرکزالمعارف، ممبئی کا دورہدیوبند میں "Concept of Life After Death in World’s Major Religions” کی تقریبِ اجراعالمی یومِ آبادی: مسئلہ آبادی ہے ہی نہیں!اہل ووٹروں کے حقوق کے تحفظ کے لیے فیڈریشن آف مہاراشٹر مسلمس اعلی سطحی وفد کی چیف الیکٹورل آفیسر مہاراشٹر سے اہم ملاقات

شورش کاشمیری کی کتاب یورپ میں چار ہفتے کا حاصل مطالعہ

0%
شورش کاشمیری کی کتاب یورپ میں چار ہفتے کا حاصل مطالعہ
کتاب کے جائزے

شورش کاشمیری کی کتاب یورپ میں چار ہفتے کا حاصل مطالعہ

Eastern
1 min read0 views
Save this article for later

شورش کاشمیری کی کتاب یورپ میں چار ہفتے کا حاصل مطالعہ

از: اظہارالحق بستوی

حالیہ دنوں نگارشات بک سٹور دیوبند کی طرف سے شورش کاشمیری کی دو کتابوں کی اشاعت کا چرچہ ہوا جن میں سے ایک کا نام قلمی چہرے ہے اور دوسری کا یورپ میں چار ہفتے۔ تھوڑی تاخیر سے ہی سہی مگر دونوں کتابیں ہاتھ لگیں۔ کتاب ملتے ہی یورپ میں چار ہفتےکی طرف لپکا جو شورش کے یورپ کا سفرنامہ ہے۔ سفر ناموں سے دلچسپی ہونے کی بنیاد پر اسے پڑھنا شروع کیا۔

بات جب شورش کاشمیری کے نگار خانے کی ہو تو پھر کیا کہنا۔ شورش جب کسی موضوع پر قلم اٹھاتے ہیں تو الفاظ و تعبیرات دست بستہ کھڑے گویا یہ درخواست کرتے ہیں کہ ہمیں بھی اپنے قلم کی لکیروں میں کھینچ کر اعزاز بخش دیں۔

یہ کتاب شورش کے 25 خطوط کا مجموعہ ہے جو شورش نے اپنے یورپ کے چار ہفتوں کے سفر کے درمیان مختلف لوگوں کے نام لکھا اور اس میں جگہ بہ جگہ کے اپنے تجربات، پیش آمدہ واقعات اور تاثرات لکھے۔ کتاب گو کہ خطوط کا مجموعہ ہے مگر یہ ایک بھرا پُرا سفرنامہ ہے جس میں شورش نے یورپ کے سلسلے میں بہت سی مفید باتیں اور بہت سے حقائق وا کیے ہیں اور بہت سے بے لاگ تبصرے کیے ہیں۔

Advertisement
Advertisement

شورش کاشمیری نے اس کتاب میں سات ممالک جرمنی، آسٹریا، فرانس، انگلینڈ، سوئٹزرلینڈ، اٹلی اور لبنان کے کہ سفر کی روداد اور وہاں کے تجربات و مشاہدات بیان کیے ہیں۔

کتاب میں شورش کاشمیری نے اپنے الفاظ اور تعبیرات کے وہ جادو دکھائے ہیں جو ادبی ذوق کے حامل افراد کے لیے زبردست تسکین کا سامان فراہم کرتے ہیں ہے۔ موقع بہ موقع نثر کے ساتھ اردو اور فارسی اشعار کو اس طرح خوب صورت لڑیوں میں پرو دیا ہے کہ قاری عش عش کر اٹھتا ہے۔

شورش کی اس پوری کتاب کا حسن یہ ہے کہ انہوں نے کھلی آنکھوں یورپ کو دیکھا اور یہ بتایا کہ ان کی ترقی کا راز کیا ہے۔ دو لفظ جس میں وہ پورے یورپ کو سمیٹ دیتے ہیں وہ ہیں محنت اور مسرت۔ فرماتے ہیں کہ یورپی لوگ دن میں سخت محنت کرتے ہیں اور رات اور چھٹیاں بڑی پُرمسرت گزارنے کے عادی ہیں۔وہاں کے لوگوں کے کام کے مزاج کی بھی سراہنا کرتے ہوئے انہوں نے لکھا ہے کہ وہاں بچہ، جوان، بوڑھا، عورتیں سب لوگ محنت کرتے ہیں اور محنت کشی کسی بھی طرح کے پیشے کی ہو چاہے خاکروبی کی ہی کیوں نہ ہو اس کی بنیاد پر کسی کو بھی چھوٹا یا بڑا نہیں سمجھا جاتا۔ یہ مرض صرف ہمارے یہاں ہی ہے۔

شورش نے وہاں پر شراب و شباب کے عموم پر بھی بہت سے صفحات سیاہ کیے ہیں اور یہ بتانے کی کوشش کی ہے کہ حسن و جمال کی جو رعنائی وہاں ہے اس کی اپنی ہی بات ہے۔ خوب صورت اور نو عمر لڑکیوں کا سروس انڈسٹری میں ہونا، ہوٹلوں میں ان کا ضیافت کرنا اور سب سے مسکرا کر بات کرنا وغیرہ سب بڑی خاصے کی چیز ہے جس کی طرف مردانہ فطرت بہت راغب ہوتی ہے۔ یورپ کے مختلف خطوں کے حسن میں کیا تفاوت ہے اس کو بھی اپنے ذوق کے اعتبار سے بیان کرتے ہوئے جرمنی اور لبنان کے حسن کو الگ الگ اعتبار سے فائق قرار دیا ہے۔ شورش نے ہمارے یہاں کی دو تہائی شاعری کو وہاں کے سیاق میں عبث قرار دیا ہے کیوں کہ وہاں چلمن اٹھانے اور وصل تک کا مرحلہ لمحوں میں طے ہو جاتا ہے اور ہمارے یہاں بے چارے شاعروں کی عمریں بیت جاتی ہیں مگر چلمن اور نقاب تک رسائی نہیں ہو پاتی چہ جائے کہ وصال یار ہو۔ شراب کے عموم کے بارے میں لکھا ہے کہ اسے وہاں ہر کس و ناکس پیتا ہے چناں چہ شراب سستی اور دیگر مشروبات مہنگے ملتے ہیں۔

Advertisement
Advertisement

کتاب میں یورپ کی تاریخ، بہت سے مقامات کا تعارف، بہت سے افراد کی تعریف اور وہاں کی بودو باش اور دیگر بہت سے دلچسپ موضوعات بڑی خوب صورتی کے ساتھ آگئے ہیں۔

اس سفر نامے میں شورش کی ایک خاص بات نے دل کو بہت متاثر کیا۔ شورش نے لکھا ہے کہ سفر پر نکلتے وقت وہ تین کتابیں ساتھ لے کر نکلے تھے۔ ایک قرآنِ پاک، اور علامہ اقبال کی دو کتابیں پیام مشرق اور بال جبریل۔ نیز یہ بھی لکھا کہ پیہم سفر کی وجہ سے تلاوت کا موقع کم ہی ملتا ہے مگر پھر بھی چند رکوع پڑھ لیتا ہوں۔ یہ معمول ایک ایسی چیز ہے جو تمام سہولتوں کے باوجود آج اکثر لوگوں کو نصیب نہیں ہے مگر یورپ کے سفر میں جاتے وقت قرآن لے جانا اور لے جا کر پڑھنے کے وقت نکال لینا بڑی عظیم چیز ہے اور ہم سب کے لیے درس عبرت ہے۔ لوگ یوں ہی بڑے نہیں ہوتے۔

یورپ میں مذہب و روح کے مسئلے پر بھی شورش کاشمیری نے خوب صورت روشنی ڈالی ہے۔ ان کا شدید احساس ہے کہ یورپ کے لوگ خاصے مذہبی ہیں چناں چہ گرجے سنڈے کو بھرے رہتے ہیں اور بطور خاص تقریباً اسی (80) فیصد شادیاں گرجوں میں ہوتی ہیں جب کہ انھوں نے اپنے علاقوں میں ہونے والی شادیوں اور بہت سی چیزوں پر چوٹ بھی کی ہے۔

Advertisement
Advertisement

خلاصہ یہ کہ خطوط کی شکل کا یہ سفر نامہ نہایت شاندار ہے اور جب شورش کا قلم اسے لکھ رہا ہو تو ںرجستگی، فصاحت و بلاغت، اشعار کی جگہ بہ جگہ آمیزش اور حسن بیان اپنی مثال آپ ہوتا ہے اور وہی سب کچھ یہاں پر ہے۔

طباعت اچھی ہے مگر کمپیوٹر کتابت میں جگہ بہ جگہ فاش غلطیاں در آئی ہیں۔ کئی جگہوں پر تو اصل کتاب (پشکل پی ڈی ایف) دیکھنے کی ضرورت محسوس ہوئی۔ رموز اوقاف وغیرہ میں بھی اصل کتاب کی رعایت کم ہوئی ہے جس سے شورش کے قلم کا حسن بہت سی جگہوں پر ماند پڑتا ہے۔کتاب نگارشات بک سٹور دیوبند نے شائع کی ہے۔

Eastern

Eastern

Staff writer at Eastern Crescent Urdu.

View all posts →

Comments (0)

Leave a Comment

اوپر تک سکرول کریں۔