ٹرینڈنگ
عالمی مذاہب میں حیات بعد الممات کا تصور: ایک تقابلی جائزہجولائی ۲۰۲۶: وہ مہینہ جب ہندوستانی ٹیلی ویژن نیوز کے زوال سے انکار ناممکن ہو گیا*جنتر منتر احتجاج۔۔۔ اور ہمارے لیے کچھ کام کی باتیںکوکروچ تحریک کی پہلی بڑی کامیابیمعروف سعودی عالمِ دین مفتی محمد عمر شفیق حجازی حفظہ اللہ کا مرکزالمعارف، ممبئی کا دورہدیوبند میں "Concept of Life After Death in World’s Major Religions” کی تقریبِ اجراعالمی یومِ آبادی: مسئلہ آبادی ہے ہی نہیں!اہل ووٹروں کے حقوق کے تحفظ کے لیے فیڈریشن آف مہاراشٹر مسلمس اعلی سطحی وفد کی چیف الیکٹورل آفیسر مہاراشٹر سے اہم ملاقاتعالمی مذاہب میں حیات بعد الممات کا تصور: ایک تقابلی جائزہجولائی ۲۰۲۶: وہ مہینہ جب ہندوستانی ٹیلی ویژن نیوز کے زوال سے انکار ناممکن ہو گیا*جنتر منتر احتجاج۔۔۔ اور ہمارے لیے کچھ کام کی باتیںکوکروچ تحریک کی پہلی بڑی کامیابیمعروف سعودی عالمِ دین مفتی محمد عمر شفیق حجازی حفظہ اللہ کا مرکزالمعارف، ممبئی کا دورہدیوبند میں "Concept of Life After Death in World’s Major Religions” کی تقریبِ اجراعالمی یومِ آبادی: مسئلہ آبادی ہے ہی نہیں!اہل ووٹروں کے حقوق کے تحفظ کے لیے فیڈریشن آف مہاراشٹر مسلمس اعلی سطحی وفد کی چیف الیکٹورل آفیسر مہاراشٹر سے اہم ملاقات

کرئیر بنانے کے چکر میں آپ بھی خدا کو بھول گئے!

0%
کرئیر بنانے کے چکر میں آپ بھی خدا کو بھول گئے!
آراء

کرئیر بنانے کے چکر میں آپ بھی خدا کو بھول گئے!

Eastern
1 min read0 views
Save this article for later

کرئیر بنانے کے چکر میں آپ بھی خدا کو بھول گئے!

مدثر احمد قاسمی
اسسٹنٹ ایڈیٹر ایسٹرن کریسنٹ، ممبئی

آج نوجوانوں کا ایک طبقہ ایسا پروان چڑھ رہا ہے جو کیریئر بنانے کے جنون میں دینی ذمہ داریوں سے غافل ہوتا جا رہا ہے۔ ان کی صبح کوچنگ سینٹر سے شروع ہوتی ہے اور رات موبائل، انٹرنیٹ یا مسابقتی امتحانات کی تیاری میں ختم ہو جاتی ہے، لیکن دن میں پانچ مرتبہ اپنے رب کے حضور کھڑے ہونے کی فرصت نہیں ملتی۔ وہ زندگی کی دوڑ میں اتنے مصروف ہو گئے ہیں کہ انہیں اپنی روح کی آواز سنائی نہیں دیتی۔

حالانکہ بہتر مستقبل کے لیے فکرمند ان نوجوانوں کو یہ سمجھنا چاہیے کہ جب تک اللہ رب العزت نہ چاہیں، تب تک ان کی قسمت کا ستارہ چمک نہیں سکتا۔ دنیا کے تمام اسباب، تمام ڈگریاں، تمام سفارشیں اور تمام منصوبے اسی وقت نتیجہ خیز ثابت ہوتے ہیں جب ان کے پیچھے اللہ تعالیٰ کی مشیت شامل ہو۔ کتنے ہی لوگ اعلیٰ قابلیت رکھنے کے باوجود کامیابی سے محروم رہ جاتے ہیں اور کتنے ہی لوگ محدود وسائل کے باوجود غیر معمولی کامیابی حاصل کر لیتے ہیں۔ یہ حقیقت اس بات کا اعلان ہے کہ اسباب ضروری ہیں لیکن مسبب الاسباب اللہ تعالیٰ ہے۔

Advertisement
Advertisement

یاد رکھیں!جو ہاتھ کتابوں کے ساتھ دعا کے لیے بھی اٹھتے ہیں اور جو پیشانیاں مطالعے کے ساتھ سجدوں سے بھی آشنا ہوتی ہیں، ان کے لیے کامیابی کے دروازے زیادہ کشادہ ہو جاتے ہیں۔

آج کل کیریئر کونسلنگ کے بڑے بڑے پروگرام منعقد ہوتے ہیں۔ ماہرین بھاری فیس لے کر نوجوانوں کو بہتر مستقبل، بہتر ملازمت، اعلیٰ تنخواہ اور کامیاب زندگی کے راستے دکھاتے ہیں۔ حالانکہ ایک ایسی کامیابی جس میں خدا کی ناراضی شامل ہو، درحقیقت ناکامی ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ کیریئر کونسلنگ کے ساتھ "کردار کونسلنگ” بھی ہو، تاکہ نوجوان صرف کامیاب پروفیشنل ہی نہیں بلکہ باکردار اور خدا شناس انسان بھی بن سکیں۔

Advertisement
Advertisement

کسی بھی معاشرے میں نوجوان ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں۔ ان کے افکار، ان کا کردار اور ان کی ترجیحات ہی مستقبل کے معاشرے کی شکل متعین کرتی ہیں۔ اگر نوجوان دینی شعور، اخلاقی اقدار اور روحانی وابستگی سے آراستہ ہوں گے تو معاشرہ بھی مضبوط، متوازن اور ترقی یافتہ ہوگا، لیکن اگر یہی طبقہ دین سے دور، اخلاق سے محروم اور صرف مادہ پرستی کا اسیر ہو جائے تو پوری قوم کمزور پڑ جائے گی۔

Eastern

Eastern

Staff writer at Eastern Crescent Urdu.

View all posts →

Comments (0)

Leave a Comment

اوپر تک سکرول کریں۔