ٹرینڈنگ
تحریک ریشمی روما ل: تاریخ کا ایک فراموش کردہ باباسلام اسپیکس: زبانِ عصر میں پیغامِ اسلام کی مؤثر ترجمانیملی اداروں کا مستقبل اور نوکِ قلم پر لٹکتی تلوار: ایف سی آر اے (FCRA) ترمیمی بل 2026 کا ایک تجزیہہواہےگوتیزوتندلیکن چراغ اپناجلارہاہےعالمی مذاہب میں حیات بعد الممات کا تصور: ایک تقابلی جائزہجولائی ۲۰۲۶: وہ مہینہ جب ہندوستانی ٹیلی ویژن نیوز کے زوال سے انکار ناممکن ہو گیا*جنتر منتر احتجاج۔۔۔ اور ہمارے لیے کچھ کام کی باتیںکوکروچ تحریک کی پہلی بڑی کامیابیتحریک ریشمی روما ل: تاریخ کا ایک فراموش کردہ باباسلام اسپیکس: زبانِ عصر میں پیغامِ اسلام کی مؤثر ترجمانیملی اداروں کا مستقبل اور نوکِ قلم پر لٹکتی تلوار: ایف سی آر اے (FCRA) ترمیمی بل 2026 کا ایک تجزیہہواہےگوتیزوتندلیکن چراغ اپناجلارہاہےعالمی مذاہب میں حیات بعد الممات کا تصور: ایک تقابلی جائزہجولائی ۲۰۲۶: وہ مہینہ جب ہندوستانی ٹیلی ویژن نیوز کے زوال سے انکار ناممکن ہو گیا*جنتر منتر احتجاج۔۔۔ اور ہمارے لیے کچھ کام کی باتیںکوکروچ تحریک کی پہلی بڑی کامیابی

یہ ہے اصلی ہندوستان

0%
یہ ہے اصلی ہندوستان
ریاستوں

یہ ہے اصلی ہندوستان

Eastern
1 min read1 views
Save this article for later

یہ ہے اصلی ہندوستان

تحریر: ابوالاعلی سید سبحانی

راجستھان میں مساجد کے انہدام کے خلاف تمام مذاہب کے لوگوں نے مل کر زبردست اور تاریخی احتجاج درج کرایا۔  یہ اس احتجاج کی محض تین تصویریں ہیں۔ ورنہ سوشل میڈیا پر بہت سی تصویریں اور بہت سی ویڈیوز گردش میں ہیں۔

ان تصاویر کو دیکھ کر ذہن نے فوراً اس بات کی گواہی دی کہ:– یہی اصلی ہندوستان ہے–  بھائی چارے اور رواداری والا ہندوستان –  ملی جلی دوستانہ تہذیب والا ہندوستان  –  جہاں ہندومسلمان ہمیشہ مل جل کر رہے  –  جہاں کے باشندوں نے ہمیشہ ایک دوسرے کا احترام کیا  –  جہاں ایک ہی محلے میں ہندو بھی بستے تھے، مسلمان، سکھ اور عیسائی بھی – جہاں ایک ہی محلے میں سب کی عبادت گاہیں بھی ہوتی تھیں  – جہاں ایک ہی محلے میں سب اپنے اپنے تہوار بھی مناتے تھے  اور جہاں سب ایک دوسرے کے مذہبی جذبات  کا خیال بھی رکھتے تھے  – یہی اصلی ہندوستان ہے اور یہی ہندوستان کی اصل پہچان اور اصل تاریخ ہے۔

Advertisement
Advertisement

بعد میں جو کچھ ہوا  اور جو آج بھی بڑھتا چلا جارہا ہے، وہ غلط ہے۔  اس ملک میں نفرت کا کاروبار بہت بعد کا کھیل ہے، اس ملک میں نفرت کی سیاست بہت بعد کی ایجاد ہے۔  اس ملک میں ہندومسلم فسادات اور ہندومسلم منافرت کا کوئی تصور ہی نہیں تھا۔
یہاں مسلم حکمراں بھی رہے اور غیرمسلم حکمراں بھی  لیکن، یہاں ایسی نفرت، ایسی دشمنی اور ایسی آپسی دوری کبھی نہیں رہی۔

افسوس کہ ملک میں نفرت کی منڈی جس وقت لگائی جارہی تھی اس وقت لوگوں نے توجہ نہیں دی ، دھیرے دھیرے نفرت کا بازار بڑھتا چلاگیا،  رواداری، محبت اور میل جول کا سلسلہ کمزور پڑنے لگا۔  اور آج جو صورت حال ہے وہ سب کے سامنے ہے  سب نے اس وقت سرینڈر کردیا ہے۔  کیا ہندو، کیا مسلمان، کیا سکھ  اور کیا عیسائی،  سب اس کے جال میں پھنستے چلے گئے   اور سب ایک دوسرے سے دور بہت دور جاتے چلے گئے۔اس طرح نفرت کی منڈی کو خوب پھلنے پھولنے کا موقع ملا۔ اندیشوں، غلط فہمیوں اور بہتان تراشیوں کا خوب خوب کاروبار ہوا  اور آج حالت یہ ہے کہ سب کچھ کنٹرول سے باہر ہوا جارہا ہے  اور کوئی اس کے خلاف کھڑے ہونے، زبان کھولنے اور آواز اٹھانے کو تیار نہیں۔

Advertisement
Advertisement

ایسے وقت میں راجستھان کی یہ خبر دل کو سکون دینے والی ہے۔  یہ ملک بھر کے لیے امید کی کرن ہے۔ یہ ملک بھر کے امن پسند شہریوں کے لیے حوصلہ بخش تصویر ہے۔

آئیے، ان تصویروں کو غور سے دیکھیں! ان کو نظر میں رکھ کر مستقبل کا ایک خاکہ تیار کرنے کی کوشش کریں   اور اس میں تمام ہندوستانیوں کو شامل کرنے کی کوشش کریں  ،  ہر مذہب، ہر ذات اور ہر علاقے کے ہندوستانیوں کو۔

یاد رکھیں! ظلم اور نفرت کے اس زہریلے اور خطرناک ماحول کو تبدیل کرنے کے لیے باہر تو نکلنا پڑے گا۔ کیسے نکلنا ہوگا، اور کس کس کو ساتھ رکھنا ہوگا، اس کا فیصلہ ہماری اپروچ، ذہانت، حکمت اور دوراندیشی پر منحصر ہوگا۔ بہرحال، راجستھان کی یہ تصویر ہماری بہترین رہنمائی کرسکتی ہے۔

Eastern

Eastern

Staff writer at Eastern Crescent Urdu.

View all posts →

Comments (0)

Leave a Comment

اوپر تک سکرول کریں۔