ٹرینڈنگ
تحریک ریشمی روما ل: تاریخ کا ایک فراموش کردہ باباسلام اسپیکس: زبانِ عصر میں پیغامِ اسلام کی مؤثر ترجمانیملی اداروں کا مستقبل اور نوکِ قلم پر لٹکتی تلوار: ایف سی آر اے (FCRA) ترمیمی بل 2026 کا ایک تجزیہہواہےگوتیزوتندلیکن چراغ اپناجلارہاہےعالمی مذاہب میں حیات بعد الممات کا تصور: ایک تقابلی جائزہجولائی ۲۰۲۶: وہ مہینہ جب ہندوستانی ٹیلی ویژن نیوز کے زوال سے انکار ناممکن ہو گیا*جنتر منتر احتجاج۔۔۔ اور ہمارے لیے کچھ کام کی باتیںکوکروچ تحریک کی پہلی بڑی کامیابیتحریک ریشمی روما ل: تاریخ کا ایک فراموش کردہ باباسلام اسپیکس: زبانِ عصر میں پیغامِ اسلام کی مؤثر ترجمانیملی اداروں کا مستقبل اور نوکِ قلم پر لٹکتی تلوار: ایف سی آر اے (FCRA) ترمیمی بل 2026 کا ایک تجزیہہواہےگوتیزوتندلیکن چراغ اپناجلارہاہےعالمی مذاہب میں حیات بعد الممات کا تصور: ایک تقابلی جائزہجولائی ۲۰۲۶: وہ مہینہ جب ہندوستانی ٹیلی ویژن نیوز کے زوال سے انکار ناممکن ہو گیا*جنتر منتر احتجاج۔۔۔ اور ہمارے لیے کچھ کام کی باتیںکوکروچ تحریک کی پہلی بڑی کامیابی

مر کز المعارف ممبئی میں انگریزی تقریری مقابلے کا انعقاد

0%
مر کز المعارف ممبئی میں انگریزی تقریری مقابلے کا انعقاد
تعلیم

مر کز المعارف ممبئی میں انگریزی تقریری مقابلے کا انعقاد

Eastern
1 min read1 views
Save this article for later

مر کز المعارف ممبئی میں انگریزی تقریری مقابلے کا انعقاد

صرف دو مہینے میں اس انداز سے انگریزی میں تقریر کرنا واقعی ایک حیرت انگیز کامیابی ہے۔۔۔۔ اسامہ غوری
مناسب ادارے کا دستیاب ہوجانا کسی جدید زبان کو سیکھنے کے لیے بڑی نعمت ہے۔ محمد عیسی ندوی

ای سی نیوز ڈیسک
28 /جون 2026 ممبئی
فضلاء مدارس کو انگریزی زبان وادب کی تعلیم دینے کے حوالےسے اپنی منفرد شناخت رکھنے والا ملک کا مشہور ومعروف ادارہ مر کز المعارف ایجوکیشن اینڈ ریسرچ سینٹر (ایم ایم ای آر سی) ممبئی میں تعلیم حاصل کر رہے فضلاء مدارس کے درمیان انگریزی زبان میں تعلیمی سال ٢٠٢٦ -٢٧ کا پہلا تقریری مسابقہ انتہائی تزک و احتشام کے ساتھ منعقد ہوا، جس میں فائنل راؤنڈ کے لیے منتخب ہونے والے کل آٹھ طلبہ نے مختلف اہم عناوین پر انگریزی زبان میں تقاریر پیش کرکے اپنی صلاحیتوں کا بھر پور مظاہرہ کیا۔ اس پروگرام میں شہر کی کئی معزز شخصیات نے بھی شرکت کی۔

پروگرام کا آغاز مولانا قاری محمد بادشاہ کی تلاوت اور مولانا محمد عجاز کے انگریزی ترجمہ سے ہوا اس کے بعد بارگاہ رسالت ﷺ میں محبت سے لبریز نعت مولانا نصیب اللہ کے ذریعے پیش کی گئی۔

پروگرام کی نظامت کرتے ہوئے مفتی جسیم الدین قاسمی نے مرکز المعارف کا مختصر تعارف اور مرکز المعارف کے بانی مولانا محمد بدر الدین اجمل القاسمی کی ملک و ملت کے تئیں گراں قدر خدمات کو بھی اجاگر کیا۔ نیز مہمانوں کا والہانہ خیرمقدم کیا۔

Advertisement
Advertisement

 

پروگرام میں حکم کی حیثیت سے تین معزز شخصیات نے شرکت کی جس میں مرکز المعارف کے سینئر استاذ مولانا محمد اسلم جاوید قاسمی، طببیہ کالج ورسوا کے سابق ڈاکٹر مولانا محمد عیسی ندوی اور انجینیر جناب اسامہ خلیل غوری صاحب شامل تھے۔

پروگرام کی صدارت مرکز المعارف کے برانچ انچارچ مولانا محمد عتیق الرحمن قاسمی نے فرمائی، مہاراشٹرکالج کے سابق پروفیسر محمد حنیف شیخ نے مہمان خصوصی کی حیثیت سے شرکت کی۔ جبکہ جناب حافظ اقبال چوناوالا صاحب بطور مہمان اعزازی پروگرام میں شریک ہوئے۔

مساہمین کی تقاریر کے بعد حکم حضرات نے طلباء کو اپنی قیمتی آراء اور نصائح سے نوازا۔ پروفیسر محمد عیسیٰ ندوی نے کہاکہ فضلائے مدارس کو فراغت کے بعد مرکز المعارف یا اس جیسے ادارے میں جدید زبان سے آراستہ ہونے کے لیے داخلہ مل جانا بڑی نعمت ہے۔

پروگرام کے دوسرے جج جناب اسامہ غوری نے طلبہ کی کارکردگی کو سراہا اور اس پر حیرت کا اظہار کیا کہ صرف دو مہینے میں اس انداز سے تقریر کرنا واقعی ایک حیرت انگیز کامیابی ہے۔

پروفیسر حنیف صاحب نے تقریر کو جامع اور اثر انگیز بنانے کے لیے تلفظ کے حوالے سے نہایت اہم نکات کی جانب رہنمائی کی اور کہا کہ مؤثر تقریر میں مواد سے زیادہ انداز بیان اور تلفظ کا زیادہ دخل ہوتا ہے۔

ادارے کے معزز استاذ اور پروگرام کے تیسرے حکم مولانا محمد اسلم جاوید قاسمی نے طلبہ کی کارکردگی کی تعریف کی اورنتائج کا اعلان کیا۔

فائنل راؤنڈ کے کل آٹھ منتخب طلبہ سے مولوی محمد حمزہ قاسمی، مولوی یوسف چودھری قاسمی اور مولوی ابو سفیان قاسمی نے بالترتیب اول، دوم اور سوم پوزیشن حاصل کی۔
تقریری مقابلے

پروگرام کے مہمان اعزازی جناب حافظ اقبال چوناوالا صاحب نے کہا کہ حالات حاضرہ کے حساب سے عناوین کا انتخاب بے حد ضروری ہے تاکہ حقیقت سے دنیا کو آگاہی ہو اور یہ آج کے پروگرام سے بخوبی جھلکتا ہے۔

پروگرام کے صدر مولانا محمد عتیق الرحمن قاسمی نے اپنے صدارتی خطاب میں تمام مہمانوں کا شکریہ اداکرتے ہوئے طلباء کی کارکردگی کو خوب سراہا اور مسلسل محنت کرنے کی طرف توجہ بھی دلائی۔ مرکز المعارف مسجد کے مؤقر امام مولانا محمد شاہد قاسمی نے اپنی مختصر مگر پرسوز دعا پر پروگرام کا اختتام فرمایا۔

پروگرام کو کامیاب بنانے میں مرکزالمعارف کے لیکچررز مولانا جمیل احمد قاسمی اور مولانا محمد سلمان عالم قاسمی و ادارے کے دیگر عملے نے گراں قدر تعاون پیش کیا۔

Eastern

Eastern

Staff writer at Eastern Crescent Urdu.

View all posts →

Comments (0)

Leave a Comment

اوپر تک سکرول کریں۔