معروف سعودی عالمِ دین مفتی محمد عمر شفیق حجازی حفظہ اللہ کا مرکزالمعارف، ممبئی کا دورہ
ای سی نیوز ڈیسک
22 جولائی 2026
ممبئی ______المملكة العربية السعودية کے شہر جدہ میں مقیم، معروف عالمِ دین اور فقہِ حنفی کے ممتاز مفتی، مفتی محمد عمر شفیق حجازی حفظہ اللہ نے آج مرکزالمعارف، ممبئی کا دورہ کیا۔ ادارے کے اساتذہ، ذمہ داران اور طلبہ نے ان کا نہایت گرمجوشی اور والہانہ انداز میں استقبال کیا۔
اس موقع پر مفتی محمد عمر شفیق حجازی حفظہ اللہ نے طلبہ سے خطاب کرتے ہوئے علم کی حقیقی اہمیت اور اس کے مقاصد پر نہایت فکر انگیز گفتگو کی۔ انہوں نے فرمایا کہ اصل علم وہ ہے جو انسان کو اپنے خالق کی معرفت عطا کرے، اور یہ دولت قرآنِ کریم کے علم سے حاصل ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ دیگر علوم اپنی افادیت کے باوجود دراصل فنون اور مہارتیں ہیں، جبکہ علمِ وحی ہی وہ سرچشمہ ہے جو انسان کی فکری، روحانی اور اخلاقی تعمیر کرتا ہے۔
دعوتِ دین میں زبان کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے انہوں نے حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کے اس تاریخی واقعے کا حوالہ دیا کہ رسول اللہ ﷺ نے انہیں مختلف زبانیں سیکھنے کی ترغیب دی، تاکہ دعوت، ابلاغ اور دینی خدمات کو زیادہ مؤثر انداز میں انجام دیا جا سکے۔ انہوں نے اس واقعے کے ذریعے واضح کیا کہ ہر دور میں مخاطب کی زبان کو سمجھنا اور اسی زبان میں دین کا پیغام پہنچانا کامیاب دعوت کا بنیادی تقاضا ہے۔

اس موقع پر ممبئی کے نوجوان عالمِ دین مفتی یحییٰ معین نے بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ آج کی نئی نسل تک دین کی صحیح تعلیمات پہنچانے کے لیے ضروری ہے کہ ان کی زبان، اندازِ فکر اور فہم کو سامنے رکھتے ہوئے مؤثر ابلاغ کا طریقہ اختیار کیا جائے۔ انہوں نے اس ذمہ داری کو موجودہ دور کے اہلِ علم اور نوجوان علماء کی ایک اہم دینی ذمہ داری قرار دیا۔
طلبہ کے ساتھ سوال و جواب کی نشست میں ایک طالب علم نے دریافت کیا کہ کسی کام پر مسلسل توجہ اور یکسوئی کیسے برقرار رکھی جا سکتی ہے؟ اس کے جواب میں مفتی یحییٰ معین نے فرمایا کہ کامیابی کے لیے دو اصول بنیادی حیثیت رکھتے ہیں: اول، مقصد کے حصول کی سچی خواہش، مضبوط ارادہ اور مسلسل لگن؛ دوم، ہر اس چیز سے مکمل اجتناب جو توجہ منتشر کرے اور انسان کو اپنے مقصد سے غافل کر دے۔ ان کے مطابق انہی دو اصولوں کو اختیار کرکے انسان علمی، دینی اور عملی زندگی میں غیر معمولی کامیابی حاصل کر سکتا ہے۔
اس وفد کے ہمراہ مفتی اسامہ، حاجی رئیس صاحب اور خلیل بھائی بھی موجود تھے، جنہوں نے اس بابرکت دورے میں شرکت کی۔

یہ ملاقات طلبہ کے لیے علمی و فکری اعتبار سے نہایت مفید ثابت ہوئی۔ مرکزالمعارف کے ڈائریکٹر مولانا محمد برہان الدین قاسمی نے کہا کہ ایسے مواقع نوجوانوں کے اندر علمِ دین کی قدر، دعوتی شعور، زبانوں کی اہمیت اور مقصدِ حیات کے صحیح ادراک کو مزید مضبوط کرتے ہیں اور انہیں مستقبل میں امت کی بہتر رہنمائی کے لیے تیار کرنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
