کوکروچ تحریک کی پہلی بڑی کامیابی
از: محمد برہان الدین قاسمی
ایڈیٹر: ایسٹرن کریسنٹ، ممبئی
کوکروچ تحریک نے آج اپنی جدوجہد کی پہلی بڑی سیاسی کامیابی حاصل کر لی ہے۔ یہ کامیابی صرف احتجاجی صفوں میں موجود طلباء اور نوجوانوں کی ثابت قدمی کا نتیجہ نہیں، بلکہ اس حقیقت کا بھی واضح ثبوت ہے کہ منظم، پُرامن اور مسلسل عوامی جدوجہد بالآخر اقتدار کے ایوانوں کو بھی اپنے فیصلوں پر نظرثانی کے لیے مجبور کر دیتی ہے۔
احتجاج میں شریک ہر طالب علم، نوجوان اور ان کے اہلِ خانہ مبارکباد کے مستحق ہیں۔ یہ حقیقت ہمیشہ ذہن میں رہنی چاہیے کہ احتجاج کرنے والوں کے بھی گھر ہوتے ہیں، والدین ہوتے ہیں اور ایسے عزیز ہوتے ہیں جو ہر لمحہ ان کی سلامتی کے لیے فکرمند رہتے ہیں۔ اس لیے محض سوشل میڈیا یا واٹس ایپ پر بیٹھ کر جذباتی تبصرے کرنا آسان ہے، لیکن میدانِ عمل میں کھڑے افراد اور ان کے خاندان ہی جانتے ہیں کہ ایسے حالات میں حکومتی دباؤ، گرفتاریوں اور دیگر خطرات کا سامنا کس طرح کیا جاتا ہے۔
یہ بھی سمجھنا ضروری ہے کہ کوئی بھی عوامی تحریک ایک ہی مرحلے میں اپنی تمام منزلیں طے نہیں کرتی۔ بڑی کامیابیاں ہمیشہ مرحلہ وار حاصل ہوتی ہیں۔ اسی لیے اگر احتجاج کی بعض قیادتوں نے وقتی طور پر بھوک ہڑتال ختم کی ہے یا حکومت نے چند اہم مطالبات تسلیم کیے ہیں تو اس بنیاد پر ان کی نیت، اخلاص یا جدوجہد پر سوال اٹھانا نہ صرف غیر منصفانہ بلکہ ان قربانیوں کی ناقدری بھی ہوگی جو انہوں نے اس تحریک کے لیے دی ہیں۔

آج، 25 جولائی 2026 کو وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان کا استعفیٰ اسی عوامی دباؤ کا براہِ راست نتیجہ ہے۔ تاہم یہ بھی حقیقت ہے کہ حکومت اس استعفے کو احتجاج کی شدت کم کرنے اور تحریک کی صفوں میں اختلافات پیدا کرنے کے لیے استعمال کرنے کی کوشش کرے گی۔ بظاہر تحریک کے تین اہم مطالبات تسلیم کیے جا چکے ہیں، اس لیے امکان ہے کہ کل کے مجوزہ ملک گیر احتجاج کی شدت میں کچھ کمی آئے اور حکومت کو سیاسی طور پر صورتِ حال سنبھالنے کا موقع مل جائے۔
اگر یہ استعفیٰ نہ آتا تو غالب امکان یہی تھا کہ اتوار کے بعد حالات کہیں زیادہ پیچیدہ ہو جاتے۔ اس وقت صرف ایک وزیر کے استعفے سے بات نہ بنتی بلکہ معاملہ براہِ راست وزیرِ اعظم کی سیاسی ساکھ اور قیادت کے لیے ایک بڑے امتحان میں تبدیل ہو سکتا تھا۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ حکومت نے ایک کڑوا مگر ناگزیر فیصلہ کرتے ہوئے فوری سیاسی نقصان کو محدود کرنے کی کوشش کی ہے۔
اب حکومت کی اولین حکمتِ عملی یقیناً یہی ہوگی کہ تحریک کے مومینٹم کو توڑا جائے، طلباء کی صفوں میں اختلافات پیدا کیے جائیں اور نمایاں رہنماؤں کو مختلف طریقوں سے دباؤ میں لایا جائے۔ اس تناظر میں "جنید” جیسے نمایاں ناموں سمیت متعدد سرگرم کارکن آئندہ دنوں میں خصوصی نگرانی یا دباؤ کا سامنا کر سکتے ہیں، جس کے لیے تحریک کو ذہنی طور پر تیار رہنا ہوگا۔
دوسری جانب کوکروچ تحریک کی قیادت پر بھی بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔ انہیں نہ صرف احتجاج کی رفتار اور اتحاد کو برقرار رکھنا ہوگا بلکہ شریکِ احتجاج طلباء و نوجوانوں کی سلامتی کو بھی اولین ترجیح دینی ہوگی۔ مزید یہ کہ اپنے پانچ نکاتی اعلامیے پر عمل درآمد کے لیے واضح، تحریری اور قابلِ عمل یقین دہانی حاصل کرنے کی کوشش کرنی چاہیے، تاکہ مستقبل میں ان مطالبات کو نظر انداز نہ کیا جا سکے۔ بصورتِ دیگر خدشہ ہے کہ بعد میں انہی رہنماؤں کو نشانہ بنایا جائے، انہیں بدنام کیا جائے اور اس تحریک کی قربانیوں کی اہمیت کم کرنے کی کوشش کی جائے۔

میری رائے میں یہ استعفیٰ حکومت کی مکمل شکست کا اعتراف نہیں بلکہ بڑے سیاسی بحران سے خود کو بچانے کی ایک حکمتِ عملی ہے، اور ممکن ہے حکومت اس حد تک اپنے مقصد میں کامیاب بھی ہو جائے۔ تاہم اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ یہ احتجاج اپنی پہلی بڑی منزل حاصل کر چکا ہے۔ اس تحریک نے یہ تصور توڑ دیا ہے کہ منظم عوامی دباؤ سے کچھ تبدیل نہیں ہو سکتا۔ حکومت کا حالیہ ردِعمل اس بات کا اشارہ ہے کہ وہ عوامی بے چینی اور طلباء کی یکجہتی کو سنجیدگی سے لینے پر مجبور ہوئی ہے۔
اب اس تحریک کی آئندہ کامیابی کا انحصار اس بات پر ہے کہ کیا یہ چند افراد کی قیادت تک محدود رہتی ہے یا پورا طلبہ طبقہ اجتماعی دانش، مشاورت اور مشترکہ حکمتِ عملی کے ساتھ آگے بڑھتا ہے۔ اگر فیصلے صرف چند نمائندوں تک محدود رہے تو خدشہ ہے کہ چند ماہ بعد حالات دوبارہ وہیں پہنچ جائیں جہاں سے یہ تحریک شروع ہوئی تھی۔ لیکن اگر اجتماعی قیادت، اتحاد اور مستقل مزاجی برقرار رہی تو یہ تحریک اپنی موجودہ کامیابی کو ایک بڑی اور دیرپا تبدیلی کی بنیاد بنا سکتی ہے۔
