عالمی مذاہب میں حیات بعد الممات کا تصور: ایک تقابلی جائزہ
از: محمد جاوید قاسمی
حق ایجوکیشن اینڈ ریسرچ فاؤنڈیشن کانپور
نام کتاب: Concept of Life after Death in World’s Major Religions
مصنف: مولانا محمدبرہان الدین قاسمی
ڈائریکٹر مرکز المعارف ایجوکیشن اینڈ ریسرچ سینٹر ممبئی
صفحات: 380
ناشر: Markaz Media and Publications Pvt. Ltd
مطالعہ کی ایک قسم تقابلی مطالعہ بھی ہے جس کے بے شمار فوائد ہیں۔ من جملہ ایک سب سے اہم اور مرکزی فائدہ یہ ہے کہ اس سے فکرِ انسانی میں وسعت و پختگی،تدبر کی صلاحیت اور تنقیدی و تجزیاتی سوچ پروان چڑھتی ہے، جس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ انسان اپنے مذہب و مسلک، عقیدہ و نظریہ پر یقین، محض عقیدت و محبت اور تقلید کی وجہ سے نہیں؛ بلکہ استدلال، تنقیدی تجزیہ ، منطقیت اور فلسفیانہ بنیاد پر کرنے لگتا ہے۔ انسان کے سامنے جب کسی عقیدہ و نظریہ کا فلسفہ اور دلیل واضح ہوجاتی ہے تو اس کے ایمان و یقین میں مزید پختگی پیدا ہوجاتی ہے اور وہ اس عقیدے سے اتنی محبت کرنے لگتا ہے کہ اس کی اشاعت و تحفظ کے لیے اپنی پوری زندگی صرف کردیتا ہے، اور اسی عقیدہ کو قلب و جگر میں بساکر مسافرانِ آخرت میں شامل ہوجاتا ہے ۔
قرآن کریم متعدد جگہوں پر مختلف انداز سے انسانوں کو عقل و شعور کے استعمال اور تدبر و مشاہدہ کرنے کی دعوت دیتا ہے۔ قرآن ان لوگوں کی سخت مذمت کرتا ہے جو اندھے اور بہرے ہوکر بغیر کسی منطقیت، تنقیدی تجزیہ اور دلیل کے، اپنے آباء و اجداد کے عقائد و رسومات کو اپناتے ہیں، اور قرآن ان لوگوں کو سراہتا ہے جو کسی حکم پر اندھے ہوکر نہیں؛ بلکہ عقل و شعور کا استعمال کر کے غور و فکر کے بعد ایمان لاتے ہیں ۔
اسی مقصد کے تحت تقابلِ ادیان ومذاہب کے موضوع پر تحریرات و کتب معرض وجود میں آتی ہیں؛ تاکہ انسان اپنی تنقیدی و عقلی صلاحیت کا استعمال کرکے یہ فیصلہ کر سکے کہ کون سا مذہب و دین؛ عقل و فکر کی میزان پر کھرا اترتا ہے ۔

اسی سلسلے کی ایک انگریزی تصنیف
"Concept of Life After Death in World’s Major Religions”
(دنیا کے بڑے مذاہب میں حیات بعد الممات کا تصور )
ہے ۔
اس کتاب کے مصنف مشہور اسلامی اسکالر و قلم کار استاد گرامی مولانا برہان الدین قاسمی ڈائریکٹر مرکز المعارف ایجوکیشن اینڈ ریسرچ سینٹر ممبئی ہیں ۔ مصنف نے اس کتاب میں دنیا کے تیرہ بڑے مذاہب عیسائیت، اسلام، ہندومت، بدھ مت، یہودیت، سکھ مت، شنتومت، تاؤ ازم، کنفیوشس ازم، جین مت، زرتشتیت اور مقامی روحانی روایات اور الحاد کے تصورِ آخرت کو منظم، علمی، تحقیقی اور تقابلی انداز سے پیش کیا ہے۔اور اسلام کو تقابلی معیار کے طور پر اختیار کیا ہے ۔ نیز ہر مذہب کی بنیادی تعلیمات، عقائد، رسوم اور فلسفیانہ بنیادوں کو اختصار کے باوجود جامع انداز میں بیان کیا ہے۔
اس کتاب کی سب سے نمایاں خصوصیت یہ ہے کہ یہ محض معلومات بہم نہیں پہنچاتی ہے؛ بلکہ قاری کے اندر تقابل و تجزیہ کی روح بیدار کرتی ہے۔ کتاب میں مصنف نے اسلام کو تقابلی معیار کے طور پر منتخب کیا ہے اور اس کے تصورِ آخرت کی عقلی، اخلاقی اور روحانی جامعیت کو مدلل انداز میں واضح کیا ہے؛ تاہم اسلوب میں کہیں بھی تعصب یا تحقیر کا رنگ نہیں؛ بلکہ احترام، علمی دیانت اور بین المذاہب مکالمے کی روح نمایاں ہے۔
یہ کتاب 380/ صفحات پر مشتمل ہے، اس کی ترتیب قابلِ تعریف ہے۔ بنیادی طور پر کتاب میں چھ ابواب قایم کیے گئے ہیں ۔
پہلے باب میں موضوع کے تعارف کے ساتھ یہ واضح کیا گیا ہے کہ تصور آخرت پوری انسانیت کا ایک آفاقی اور دائمی مسئلہ ہے. مزید برآں یہ بھی وضاحت کی گئی ہے کہ اس تقابلی مطالعے میں اسلام کو بنیادی معیار کیوں بنایا گیا ہے۔

دوسرا باب کتاب کا سب سے مفصل باب ہے۔اس میں تیرہ مذہبی و فکری روایات میں تصورِ آخرت کا منظم تجزیہ کیا گیا ہے۔ مقدس صحائف، مذہبی تعلیمات، مختلف تشریحات، ثقافتی روایات اور فلسفیانہ استدلال کے جامع جائزے کے ساتھ ساتھ مختلف مذاہب کے درمیان مماثلتوں اور اختلافات کو بھی نمایاں کیا گیا ہے تاکہ اسلامی نقطۂ نظر مزید واضح ہو سکے۔
تیسرے باب میں مختلف مذاہب میں پائے جانے والے مشترکہ فلسفیانہ اور اخلاقی موضوعات کا جائزہ لیا گیا ہے مثلا انسانی زندگی کا مقصد کیا ہے؟
مرنے کے بعد کیا ہوتا ہے؟
آخرت کا عقیدہ، انسانی کردار اور اخلاقیات کو کس طرح متاثر کرتا ہے؟
انسان اپنی اخلاقی ذمہ داریوں کو کس بنیاد پر ادا کرتا ہے؟
چوتھے باب میں الحاد (Atheism) کا تنقیدی اور فلسفیانہ جائزہ پیش کیا گیا ہے۔اس کے تحت انسانی کردار اور اخلاقیات پر الحاد کے اثرات، جرم و سزا کے تصور پر الحادی فکر کا نقطۂ نظر، موت اور آخرت کے بارے میں الحاد کا نظریہ اور انسانی زندگی کے مقصد و جواب دہی کو زیر بحث لایا گیا ہے۔
پانچویں باب میں فلسفیانہ انداز میں یہ واضح کیا گیا ہے کہ آخرت پر ایمان یا انکار سے فرد اور معاشرہ کس طرح متاثر ہوتے ہیں۔
چھٹے باب میں پوری کتاب کے اہم مباحث کا خلاصہ پیش کرتے ہوئے انسان کو دعوت دی گئی ہے کہ وہ مختلف مذاہب میں بیان کیے گئے آخرت کے تصورات کی روشنی میں اپنی زندگی، اپنے اعمال اور اپنے انجام پر سنجیدگی سے غور کرے، تاکہ وہ اس اٹل حقیقت، یعنی موت اور آخرت، کے لیے خود کو تیار کر سکے۔

بہر کیف، یہ کتاب تقابلِ ادیان و بین المذاہب مکالمے کے حوالے سے ایک اہم اضافہ ہے۔ یہ کتاب قاری کو مختلف مذہبی تصورات سے روشناس کرانے کے ساتھ ساتھ فکر، تدبر، اخلاقی ذمہ داری اور انسانی زندگی کے مقصد پر بھی سنجیدہ غور و فکر کی دعوت دیتی ہے۔ اگر کوئی شخص مختلف مذاہب کے تصورِ آخرت کو ایک ہی کتاب میں علمی، متوازن اور منظم انداز میں سمجھنا چاہتا ہے تو یہ کتاب اس کے لیے نہایت مفید، وقیع اور قابلِ مطالعہ انتخاب ثابت ہوگی۔
