بچے اپنے والدین کے کردار کا عکس ہیں، والدین ہی ان کے خاموش مگر حقیقی معلم و مربی ہیں
(چھٹیاں بغیر در و دیوار کا مدرسہ ہیں)
از: محمد توقیر رحمانی
لیکچرر: مرکز المعارف، ممبئی
گرمی کی چھٹیاں اپنے ساتھ صرف موسم کی حدّت نہیں لاتیں، بلکہ انسانی تعلقات کے ایک نئے مرحلے کا دروازہ بھی کھولتی ہیں۔ تعلیمی اداروں کے دروازے بند ہوتے ہیں تو گھروں کے دروازے حقیقت میں کھلتے ہیں، اور وہ بچے جو کل تک کتابوں، اسائنمنٹس اور اوقاتِ کار کے پابند تھے، اب ایک ایسی فضا میں داخل ہوتے ہیں جہاں آزادی بھی ہے اور خاموش اثر پذیری بھی۔ یہ آزادی بظاہر قید سے نجات معلوم ہوتی ہے، مگر درحقیقت یہ ایک نئے نظم میں داخلہ ہے—ایسا نظم جس میں نصاب نہیں ہوتا، مگر اثر اس سے کہیں زیادہ گہرا ہوتا ہے۔
بچہ جب اسکول سے نکل کر گھر کی فضا میں آتا ہے تو وہ سیکھنا بند نہیں کرتا، بلکہ اس کی سیکھنے کی نوعیت بدل جاتی ہے۔ اب اس کے سامنے کوئی سبق تختۂ سیاہ پر نہیں لکھا جاتا، بلکہ کردار کی صورت میں جیتا جاگتا دکھائی دیتا ہے۔ اگر ایک استاد کا ایک جملہ ذہن میں نقش ہوتا ہے تو والدین کا ایک رویہ دل میں اتر جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس مرحلے میں تربیت ایک خاموش عمل بن جاتی ہے—ایسا عمل جس میں الفاظ کم اور اثر زیادہ ہوتا ہے۔ یہ حقیقت سمجھنا مشکل نہیں کہ انسان سنی ہوئی بات سے زیادہ دیکھی ہوئی چیز سے متاثر ہوتا ہے۔ اگر ایک بچہ بار بار یہ دیکھے کہ اس کے والدین گفتگو میں تحمل رکھتے ہیں، اختلاف میں بھی احترام کا دامن نہیں چھوڑتے، اور روزمرہ کے معمولات میں نظم و وقار کا لحاظ رکھتے ہیں، تو یہ صفات اس کے اندر غیر محسوس طریقے سے منتقل ہونے لگتی ہیں۔ اس کے برعکس اگر گھر کا ماحول بے ترتیبی، تندی اور باہمی کھچاؤ کا شکار ہو، تو یہی عناصر بچے کی شخصیت میں بھی سرایت کر جاتے ہیں، چاہے اسے کبھی زبان سے ان کی تعلیم نہ دی گئی ہو۔

اس کو یوں سمجھا جا سکتا ہے کہ بچہ ایک خالی کاغذ نہیں بلکہ ایک حساس آئینہ ہے۔ وہ صرف الفاظ کو محفوظ نہیں کرتا بلکہ لہجوں، اندازوں اور تعلقات کی نوعیت کو بھی اپنے اندر جذب کرتا ہے۔ اگر آئینے کے سامنے روشنی ہوگی تو وہ روشنی کو لوٹائے گا، اور اگر اس کے سامنے اندھیرا ہوگا تو وہ اندھیرے ہی کو منعکس کرے گا۔ اس لیے یہ گمان کہ بچے صرف نصیحت سے سنورتے ہیں، ایک ادھورا فہم ہے؛ حقیقت یہ ہے کہ وہ ماحول سے بنتے ہیں۔ یہی وہ مقام ہے جہاں والدین کا کردار ایک نئے امتحان میں بدل جاتا ہے۔ معمولی سی بے احتیاطی، جیسے میاں بیوی کے درمیان تلخ کلامی یا اونچی آواز میں ایک دوسرے کو برا بھلا کہنا، بظاہر ایک وقتی ردِعمل ہوتا ہے، مگر بچے کے ذہن میں یہ ایک مستقل نقش چھوڑ جاتا ہے۔ وہ نہ صرف ان الفاظ کو سنتا ہے بلکہ تعلق کی اس نوعیت کو اپنے شعور کا حصہ بنا لیتا ہے، اور پھر یہی طرزِ عمل اس کے اپنے رویوں میں ظاہر ہونے لگتا ہے۔
اس کے برعکس اگر والدین اپنے تعلقات میں سنجیدگی، نرمی اور باہمی احترام کو برقرار رکھیں، تو یہ محض ایک اچھا اخلاقی عمل نہیں رہتا بلکہ ایک عملی تعلیم بن جاتا ہے۔ بچہ یہ سیکھتا ہے کہ اختلاف زندگی کا حصہ ہے مگر اس کا اظہار کس طرح ہونا چاہیے۔ وہ یہ جان لیتا ہے کہ طاقت آواز کی بلندی میں نہیں بلکہ رویے کی پختگی میں ہوتی ہے۔ یہ سیکھنا کسی کتاب میں نہیں ملتا، بلکہ صرف مشاہدے سے حاصل ہوتا ہے۔
یوں گرمی کی چھٹیاں دراصل ایک ایسا غیر مرئی مدرسہ بن جاتی ہیں جہاں نہ حاضری لگتی ہے اور نہ امتحانی پرچے ہوتے ہیں، مگر یہاں ہونے والی تربیت عمر بھر کے نتائج پیدا کرتی ہے۔ سوال یہ نہیں کہ بچے اس دوران کیا سیکھیں گے، کیونکہ وہ سیکھیں گے ہی؛ اصل سوال یہ ہے کہ وہ کیا سیکھیں گے۔ اور اس سوال کا جواب والدین کے اپنے طرزِ زندگی میں پوشیدہ ہے—کیونکہ بچے وہ نہیں بنتے جو انہیں کہا جاتا ہے، بلکہ وہ بنتے ہیں جو وہ دیکھتے ہیں۔
جب یہ حقیقت واضح ہو جائے کہ گھر کا ماحول خود ایک خاموش معلم ہے، تو پھر اس معلم کو صحیح سمت دینا ناگزیر ہو جاتا ہے۔ تربیت محض نصیحت کا نام نہیں، بلکہ ایک ایسے ماحول کی تشکیل ہے جہاں ہر لمحہ ایک پیغام بن کر بچے کے دل میں اترتا رہے۔ گرمی کی چھٹیاں اسی اعتبار سے ایک غیر معمولی موقع ہیں، کیونکہ اس دوران بچے سب سے زیادہ اپنے والدین کے قریب ہوتے ہیں اور یہی قربت ان کی شخصیت کے خدوخال متعین کرتی ہے۔ اس لیے والدین کے لیے ضروری ہے کہ وہ گھروں میں ایک باقاعدہ اجتماعی تعلیم کا نظم قائم کریں۔ روزانہ ایک متعین وقت پر، جب سب افراد موجود ہوں، ایک مختصر مگر باقاعدہ نشست ہو جس میں سب شریک ہوں۔ یہ محض پڑھنے کا عمل نہ ہو بلکہ ایک ایسی فکری مجلس ہو جس میں سیرتِ طیبہ کے روشن پہلو، حیاتِ نبوی کے واقعات، اور صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کی زندگیوں کے عملی نمونے پیش کیے جائیں۔ اسی طرح بزرگانِ دین، تابعین اور مشائخ کی جفاکشی، ان کی جدوجہد، مصائب پر صبر اور اپنے مقصد کے تعاقب میں ان کی استقامت کے واقعات کو بھی شامل کیا جائے۔ اس لیے کہ واقعات محض کہانیاں نہیں ہوتے، بلکہ وہ زندہ مثالیں ہوتے ہیں جو الفاظ سے زیادہ گہرائی کے ساتھ دل میں اترتے ہیں۔

جب ایک بچہ یہ سنتا ہے کہ کس طرح حیاتِ نبوی میں مشکل ترین حالات میں بھی اخلاق کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑا گیا، یا صحابۂ کرام نے کس طرح شدید آزمائشوں کے باوجود اپنے ایمان اور مقصد پر استقامت دکھائی، تو اس کے ذہن میں ایک معیار قائم ہو جاتا ہے۔ وہ یہ سمجھنے لگتا ہے کہ زندگی کا اصل حسن آسانیوں میں نہیں بلکہ اصولوں پر قائم رہنے میں ہے۔ اسی طرح جب وہ بزرگانِ دین کی زندگیوں میں مسلسل جدوجہد، قربانی اور صبر کے واقعات سنتا ہے تو اس کے اندر ایک خاموش جذبہ بیدار ہوتا ہے کہ انسان اپنی خواہشات کا غلام نہیں بلکہ اپنے مقصد کا پابند ہونا چاہیے۔ لیکن یہ تربیت صرف ان نشستوں تک محدود نہیں رہ سکتی۔ اصل امتحان تو روزمرہ کے معمولات میں ہوتا ہے، جہاں ہر چھوٹا عمل ایک بڑی تعلیم میں بدل جاتا ہے۔ اسی لیے والدین کو خاص طور پر اس بات کا خیال رکھنا چاہیے کہ وہ اپنے بچوں کو موبائل کا عادی نہ بنائیں۔ اس کا سب سے مؤثر طریقہ یہی ہے کہ وہ خود اس کا بے جا استعمال ترک کریں، خاص طور پر بچوں کے سامنے۔ کیونکہ بچہ نصیحت سے زیادہ نقالی کرتا ہے؛ وہ سنتا کم ہے اور دیکھتا زیادہ ہے۔ اگر والدین خود ہر وقت موبائل میں مصروف رہیں اور پھر بچوں کو اس سے روکیں، تو یہ تضاد بچے کے ذہن میں الجھن پیدا کرے گا۔ لیکن اگر وہ خود اسکرین سے فاصلہ رکھیں، گفتگو کو اہمیت دیں، اور بچوں کے ساتھ وقت گزارنے کو ترجیح بنائیں، تو یہ طرزِ عمل خود بخود ایک تعلیم بن جائے گا۔ بچے کے لیے یہ پیغام واضح ہو جائے گا کہ اصل اہمیت انسانوں کی ہے، تعلقات کی ہے، نہ کہ مشینوں کی۔
یوں یہ چھوٹے چھوٹے اقدامات مل کر ایک بڑی حقیقت کی تشکیل کرتے ہیں۔ ایک طرف سیرتِ طیبہ، حیاتِ نبوی اور صحابہ و بزرگانِ دین کے واقعات سے ذہن کو سمت ملتی ہے، اور دوسری طرف والدین کے اپنے رویے اور معمولات سے دل اور عادت کی تربیت ہوتی ہے۔ جب یہ دونوں پہلو ایک ساتھ جمع ہو جائیں تو تربیت ایک وقتی سرگرمی نہیں رہتی بلکہ ایک زندہ عمل بن جاتی ہے ایسا عمل جو بچے کے اندر ایک ایسی روشنی پیدا کرتا ہے جو اسے زندگی کے پیچیدہ راستوں میں بھی سیدھا چلنے کی قوت عطا کرتی ہے، اور یہی روشنی دراصل اس کی سب سے بڑی کامیابی ہے۔
