ٹرینڈنگ
سچ اور جھوٹ میں "سچ” ننگا اور کڑوا کیوں ہوتا ہے؟مقبوضہ فلسطین کے عربوں اور ہندوستانی مسلمانوں کی سیاست کا قیاس نامعقول ہےUCC: مسلم پرسنل لا بورڈ نے مہاراشٹر حکومت کے سوالات کے جوابات کے لیے QR کوڈ جاری کیادارالعلوم دیوبند میں رابطہ مدارس اسلامیہ کا کل ہند اجلاس، تعلیمی و انتظامی اصلاحات کے لیے اہم تجاویز منظورممبئی میں علماء کے لیے دو روزہ پیرا لیگل ٹریننگ ورکشاپ کا انعقادقوتِ گویائی ایک عظیم ترین نعمتآذربائیجان کے الہام علیوف اپنی ہی سیاسی قبر کھود رہے ہیںعربی زبان کے نامور ادیب اور کئی نسلوں کے استاذ مولانا سعید الاعظمی کی وفات کا سانحہسچ اور جھوٹ میں "سچ” ننگا اور کڑوا کیوں ہوتا ہے؟مقبوضہ فلسطین کے عربوں اور ہندوستانی مسلمانوں کی سیاست کا قیاس نامعقول ہےUCC: مسلم پرسنل لا بورڈ نے مہاراشٹر حکومت کے سوالات کے جوابات کے لیے QR کوڈ جاری کیادارالعلوم دیوبند میں رابطہ مدارس اسلامیہ کا کل ہند اجلاس، تعلیمی و انتظامی اصلاحات کے لیے اہم تجاویز منظورممبئی میں علماء کے لیے دو روزہ پیرا لیگل ٹریننگ ورکشاپ کا انعقادقوتِ گویائی ایک عظیم ترین نعمتآذربائیجان کے الہام علیوف اپنی ہی سیاسی قبر کھود رہے ہیںعربی زبان کے نامور ادیب اور کئی نسلوں کے استاذ مولانا سعید الاعظمی کی وفات کا سانحہ

ابھی اسلام زندہ ہے، ابھی قرآن باقی ہے

0%
ابھی اسلام زندہ ہے، ابھی قرآن باقی ہے
اسلام

ابھی اسلام زندہ ہے، ابھی قرآن باقی ہے

Eastern
1 min read22 views
Save this article for later

ابھی اسلام زندہ ہے، ابھی قرآن باقی ہے

مفتی طہٰ قاسمی جون پوری

لاء کمیشن آف انڈیا نے یونیفارم سیول کوڈ کے سلسلے میں گویا کہ استصواب رائے کی جو آخری (14 جولائی 2023) تاریخ دی تھی، اس کے اختتام کی چند ساعتیں ہی باقی بچی ہیں۔ مسلمانوں کی نمائندہ جماعتوں، اور تنظیموں اور بہت سے افراد نے انفرادی طور پر، محض اسلام کی سر بلندی، اور دین حق کی حفاظت کے لیے، لاء کمیشن آف انڈیا کے اس استصواب رائے کی بھر پور مخالفت کی۔

چوں کہ اس بار کی مخالفت ای میل کے ذریعے تھی، اس لیے اولا اسی طرز کو اپنایا گیا، اور شرعاً انسان اس کا مکلف ہے، کہ وہ جتنا کرسکتا ہے، کرے۔آگے کیا ہوتا ہے، وہ اس کا مکلف نہیں. کیوں کہ یہ تو نوشتہ دیوار ہے، کہ موجودہ حکومت کی نیت کیا ہے اور موجودہ چیئرمین لاء کمیشن آف انڈیا کوئی اور نہیں، بلکہ یہ وہی شخص ہے، جس نے کرناٹک میں حجاب کے خلاف فیصلہ پیدا دیا تھا، اس لیے وہ کیا کریں گے، ظاہر ہے۔

لیکن ایسی نازک صورت حال میں، وہ مسلمان جن کو، دین متین اور اسلامی احکام کی فکر ہے، (یہ بات قابل اہم ہے، کیوں کہ جب مؤرخ اس بات کو لکھے گا، تو وہ اس بات کو ضرور نوٹ کرے گا، کہ کچھ مسلمان ایسے بھی تھے، جو پے پروا ہوکر، اس غیر اسلامی قانون کی حمایت کررہے تھے) وہ اس بات کو ضرور یاد رکھیں، کہ اعداء اسلام نے شروع ہی سے، اس بات کی، جان توڑ کوشش کی ہے، کہ اللہ کا لایا ہوا، دین اور اس کے ماننے والے، روئے زمین سے مٹ جائیں. چناں چہ وقت کی قوموں نے تو نبیوں کو بھی قتل کرڈالا. اپنے عہد کے ظالمین نے، کنویں میں آگ لگاکر، ہزاروں اہل ایمان کو زندہ خاکستر کردیا. آخری نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے وجود کو بھی ختم کرنے کی کوشش کیں اور، سازشیں رچ ڈالیں، لیکن اس بات پر تاریخ شاہد عدل ہے، کہ وقت کے اعداء زمین میں مل کر، مٹی ہوگئے اور آج تک ان کا کوئی نام لیوا باقی نہ رہا، جب کہ اللہ کا لایا ہوا دین، جو کل بھی زندہ تھا، آج بھی زندہ ہے، اور ان شاء اللہ کل بھی تا قیام قیامت زندہ رہے گا۔

اللہ نے قرآن پاک میں وعدہ کررکھا ہے، کہ دین کے دشمن کی یہ آرزو ہے، کہ اسلام کی روشنی گل کردیں، لیکن اللہ اس روشنی کو عام و تام کرے گا، چاہے دشمن  کتنا بھی چیں بجبیں ہوں اور ترش رو ہوجائیں۔

اس لیے اس حوالے سے مسلمانوں کو گھبرانے کی ضرورت نہیں ہے. لیکن ساتھ ہی ساتھ اس بات کی سخت ضرورت ہے، کہ ہم سب خود اسلام پر مکمل عامل ہوں، رب سے رشتہ جوڑیں۔ گناہوں سے توبہ کریں، اور اپنی بساط بھر کوشش کریں۔ اللہ تمام مسلمانوں کا حامی و ناصر ہو۔

Eastern

Eastern

Staff writer at Eastern Crescent Urdu.

View all posts →

Comments (0)

Leave a Comment

اوپر تک سکرول کریں۔