ٹرینڈنگ
مشرقِ وسطیٰ میں امریکہ-اسرائیل اتحاد کو ایک اور بڑا دھچکامرکز المعارف ایجوکیشن اینڈ ریسرچ سینٹر، ممبئی میں انگریزی تقریری مقابلے کا انعقادشیخ محمد یحییٰ باسکندی کی مرکز المعارف، ممبئی آمد؛ طلبہ سے خطاب، تعلیم، تزکیہ اور تعلق مع اللہ کی اہمیت پر زورکیا ملت کو بیدار کرنے کی تمام کوششیں بند کردی جائیں!تحریک ریشمی روما ل: تاریخ کا ایک فراموش کردہ باباسلام اسپیکس: زبانِ عصر میں پیغامِ اسلام کی مؤثر ترجمانیملی اداروں کا مستقبل اور نوکِ قلم پر لٹکتی تلوار: ایف سی آر اے (FCRA) ترمیمی بل 2026 کا ایک تجزیہہواہےگوتیزوتندلیکن چراغ اپناجلارہاہےمشرقِ وسطیٰ میں امریکہ-اسرائیل اتحاد کو ایک اور بڑا دھچکامرکز المعارف ایجوکیشن اینڈ ریسرچ سینٹر، ممبئی میں انگریزی تقریری مقابلے کا انعقادشیخ محمد یحییٰ باسکندی کی مرکز المعارف، ممبئی آمد؛ طلبہ سے خطاب، تعلیم، تزکیہ اور تعلق مع اللہ کی اہمیت پر زورکیا ملت کو بیدار کرنے کی تمام کوششیں بند کردی جائیں!تحریک ریشمی روما ل: تاریخ کا ایک فراموش کردہ باباسلام اسپیکس: زبانِ عصر میں پیغامِ اسلام کی مؤثر ترجمانیملی اداروں کا مستقبل اور نوکِ قلم پر لٹکتی تلوار: ایف سی آر اے (FCRA) ترمیمی بل 2026 کا ایک تجزیہہواہےگوتیزوتندلیکن چراغ اپناجلارہاہے

آم کے غذائی اور طبی فائدے

0%
آم کے غذائی اور طبی فائدے
صحت

آم کے غذائی اور طبی فائدے

Eastern
1 min read18 views
Save this article for later

آم کے غذائی اور طبی فائدے

‏ڈاکٹر شمیم علیگ
بی یو ایم ایس (علی گڑھ مسلم یونیورسٹی)
ایم ڈی( نیشنل انسٹیٹیوٹ آف یونانی میڈیسن بنگلور)

انڈیا میں سب سے زیادہ پسندیدہ اور کھایا جانے والا پھل آم ہے۔ برسات میں پھلنے والا یہ خوش ذائقہ خوشنما اور صحت بخش پھل آم امیر و غریب سبھی کو یکساں طور پر پسند ہے۔ اور یہ بات بالکل درست ہے کہ آم ہی ایک  ایسا پھل ہے جسے دنیا بھر میں سب سے زیادہ پسند کیا جاتا ہے۔ آم کی بے شمار اقسام ہیں۔

غذائی صلاحیت اور وٹامنز
آم کے 100گرام خوردنی حصہ میں 81.0فیصد رطوبت، 0.6فیصد پروٹین، 0.4فیصدچکنائی، 0.4 فیصد معدنی اجزاء، 0.7فیصد ریشے اور 6.9فیصدکاربوہائیڈریٹس پاۓ جاتے ہیں۔
آم کے معدنی اور حیاتینی اجزاء میں کیلشیم 14ملی گرام فاسفورس 16ملی گرام ، آئرن 1.3ملی گرام، وٹامن سی 16ملی گرام اور قدرے وٹامن بی کمپلیکس شامل ہیں۔ آم کے 100گرام کی غذائی صلاحیت میں 74 کیلوریز ہیں۔

کچے آم میں وٹامن سی کا وافر ذخیرہ ہوتا ہے۔ جبکہ آدھے پکے یا پورے پکے آم کی نسبت وٹامن سی کی مقدار زیادہ ہوتی ہے۔ اس میں وٹامن بی1, بی2 اور نا یاسین بھی پائی جاتی ہے۔ ان وٹامنز کی مقدار مختلف اقسام میں مختلف اور پکنے کے مراحل اور ماحول کے مطابق ہوتی ہے۔ پکا ہوا آم مکمل غذا اور صحت بخش پھل ہے اسکا سب سے بڑا غذائی جزو گلوکوز ہے۔ پکے ہوئے آم میں پاۓ جانے والے ایسڈز میں ٹارٹیرک ایسڈ، میلک ایسڈ اور سٹرک ایسڈ شامل ہیں اور یہ جسم میں الکلی کے ذخیرے کو برقرار رکھنے میں مدد دیتے ہیں۔

آم کے طبی فائدے
آم کے استعمال سے بدن میں سات چیزوں میں مدد ملتی ہے ۔ معدے کی ہضم کرنے والی رطوبت، خون، چربی، گوشت، ہڈیوں کا گودا ، مادّہ منویہ وغیرہ۔ آم جگر کی خرابیوں، وزن کی کمی اور دیگر جسمانی بے قاعدگیوں کو دور کرتا ہے۔ قبض دفع کرتا ہے۔

Advertisement
Advertisement

وزن کی کمی کی صورت میں آم اور دودھ استعمال کرنا مثالی علاج ہے دن میں تین بار آم کودودھ کیساتھ لینے سے وزن میں اضافہ ہو جاتا ہے اس ضمن میں پختہ اور میٹھے آم استعمال کریں کم از کم ایک ماہ۔

آنکھوں کے امراض جیسے شب کوری(رات کو نظر نہ آنا) یا کم روشنی میں دیکھ نہ سکنا جیسے امراض میں پختہ آم بہترین علاج ہے۔ کیونکہ ان امراض کی وجہ وٹامن اے کی کمی ہوتی ہے اور یہ امراض غریب ماں باپ کے بچوں میں غذائیت کی کمی کے باعث بہت عام ہے۔ آموں کے موسم میں زیادہ سے زیادہ آم کھاتے رہنے سے اس مرض کے تدارک میں مدد ملتی ہے۔

میٹھا آم اعضائے رئیسہ کو طاقت دینے کے ساتھ ساتھ معدہ، آنت،گردہ،مثانہ اور سانس لینے کے اعضا کو قوت دیتا ہے۔ قوت مردانگی کو بڑھاتا ہے اور بدن کا رنگ صاف کرتا ہے۔

آئیے! عید الاضحی کو سمجھ کر منائیں

 

Eastern

Eastern

Staff writer at Eastern Crescent Urdu.

View all posts →

Comments (0)

Leave a Comment

اوپر تک سکرول کریں۔