فلسطینی رہنما اسماعیل ہنیہ کی تہران میں شہادت

Eastern
4 Min Read
227 Views
4 Min Read

فلسطینی رہنما اسماعیل ہنیہ کی تہران میں شہادت: ایرانی سیکیورٹی پر سوالات اور فلسطینی تحریک کی مضبوطی

ای سی نیوز ڈیسک
31 جولائی 2024

تہران، ایران — فلسطینی رہنما اسماعیل ہنیہ کی تہران میں شہادت نے نہ صرف غم و غصے کی لہر دوڑادی ہے بلکہ اس کے ساتھ ہی ایرانی سیکیورٹی ایجنسیوں کے حوالے سے بھی سنگین سوالات اٹھائے ہیں۔ ہنیہ، جو حماس کے اعلیٰ رہنما اور غزہ کے حکمران تھے، ایران کی دعوت پر صدارتی حلف برداری میں شرکت کے لیے تہران آئے تھے، جہاں انہیں ان کے ایک محافظ کے ساتھ نشانہ بنایا گیا۔

حملہ اس وقت ہوا جب ہنیہ تہران کے ایک معروف علاقے میں موجود تھے۔ اطلاعات کے مطابق، نامعلوم مسلح افراد نے ان پر فائرنگ کی، جس کے نتیجے میں وہ شدید زخمی ہوئے اور بعد میں زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گئے۔ حماس نے فوری طور پر اس حملے کا الزام اسرائیل پر عائد کیا ہے، جو کہ فلسطینی رہنما کی جان کے درپیش خطرات کی عکاسی کرتا ہے۔

یہ قتل ایران کے نئے صدر مسعود پزشکیان کی حکومت پر سخت تنقید کا باعث بنا ہے، جنہیں مغربی مفادات کے حامی سمجھا جاتا ہے۔ نقادوں کا کہنا ہے کہ یہ واقعہ ایک اہم اسلامی رہنما کی سیکیورٹی میں شدید ناکامی کی علامت ہے، جس نے ایرانی سیکیورٹی ایجنسیوں کی قابلیت پر سوالات اٹھا دیے ہیں۔ ہنیہ کے قتل کو ایران کے سابق صدر ابراہیم رئیسی اور ان کے وزیر خارجہ کے قتل کے ساتھ جوڑتے ہوئے ایک وسیع تر نمونے کی شکل میں دیکھا جا رہا ہے۔

فلسطینی رہنما اسماعیل ہنیہ کا تہران میں شہادت
Advertisement

اس المناک واقعے کے باوجود، فلسطینی آزادی تحریک نے ہنیہ کی قربانی کو ایک طاقتور پیغام قرار دیا ہے۔ تحریک کے رہنماؤں نے واضح کیا ہے کہ ایسی قربانیاں ان کے عزم کو مزید مضبوط بناتی ہیں۔ ہنیہ کی موت کو ایک اہم نقصان کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، لیکن اس کے ساتھ ہی اسے فلسطینی جدوجہد کی حوصلہ اور استقامت کا ثبوت بھی مانا جا رہا ہے۔

اسماعیل ہنیہ اپنے معتدل اور عملی قیادت کے لیے جانے جاتے تھے۔ 2019 میں غزہ سے قطر منتقل ہونے کے بعد، وہ عالمی سطح پر فلسطینی حقوق کے لیے آواز بلند کرتے رہے۔ ان کی قیادت میں حماس نے کئی اہم کامیابیاں حاصل کیں، اور وہ فلسطینی عوام کے درمیان ایک مقبول شخصیت تھے۔ ان کی موت پر غزہ اور مغربی کنارے میں زبردست غم منایا جا رہا ہے، جہاں ان کی بہت عزت کی جاتی تھی۔

ابھی تحقیقات جاری ہیں، اور یہ دیکھنا باقی ہے کہ ہنیہ کی موت کا اثر علاقے میں کس طرح گونجے گا۔ سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ واقعہ ممکنہ طور پر خطے میں تناؤ میں مزید اضافہ کر سکتا ہے، خاص طور پر اسرائیل اور فلسطین کے درمیان جاری کشیدگی کے پس منظر میں۔

اس واقعے نے اس بات کی بھی تصدیق کی ہے کہ فلسطینی عوام اپنے رہنما کی قربانی کو بھولیں گے نہیں، اور وہ اپنے حقوق کے لیے جدوجہد جاری رکھیں گے۔ ہنیہ کی زندگی اور موت دونوں فلسطینی تحریک کی علامت بن چکی ہیں، اور ان کی یاد ہمیشہ زندہ رہے گی۔

Share This Article
3 تبصرے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Trending News

”سامعین کی توجہ اور فکری وزن کے بغیر تقریر بے اثر ہے“_سہیل مسعود

”سامعین کی توجہ اور فکری وزن کے بغیر تقریر بے اثر ہے“_سہیل…

Eastern

ٹریل بلیزر: فکر، ایمان و سائنس کا سنگم

ٹریل بلیزر: فکر، ایمان و سائنس کا سنگم از____ محمد توقیر رحمانی…

Eastern

ماہ ربیع الاول اور اسوۂ نبوی ﷺ کا تقاضا

ماہ ربیع الاول اور اسوۂ نبوی ﷺ کا تقاضا از____ محمد توقیر…

Eastern

انسان کی تخلیق محض وجود کیلئےنہیں ، خلافتِ ارضی کی عظیم ذمہ داری کیلئے ہے

انسان کی تخلیق محض وجود کیلئےنہیں ، خلافتِ ارضی کی عظیم ذمہ…

Eastern

نئے زمانے کے نئے بت

نئے زمانے کے نئے بت ازــــــ محمد توقیر رحمانی زمانے کی گردِش…

Eastern

زندیقیت کا سیلاب، الحاد کی فکری استعماریت کا مظہر اور اسلامی شعور کا کڑا امتحان ہے

زندیقیت کا سیلاب، الحاد کی فکری استعماریت کا مظہر اور اسلامی شعور…

Eastern

Quick LInks

ابوعبیدہ یعنی حذیفہ سمیر عبد اللہ الکحلوت

ابوعبیدہ یعنی حذیفہ سمیر عبد اللہ الکحلوت از: خورشید عالم داؤد قاسمی…

Eastern

”سامعین کی توجہ اور فکری وزن کے بغیر تقریر بے اثر ہے“_سہیل مسعود

”سامعین کی توجہ اور فکری وزن کے بغیر تقریر بے اثر ہے“_سہیل…

Eastern

نیشنل کمیشن فار ویمن سے مسلم ویمن کے ایک وفد نے ملاقات کرکے  اپنی شکایت  درج کرائی!

  نیشنل کمیشن فار ویمن سے مسلم ویمن کے ایک وفد نے…

Eastern