تو کیا, پھر ہم خاموش رہیں!
از: مدثر احمد قاسمی
اسسٹنٹ ایڈیٹر، ایسٹرن کریسنٹ، ممبئ
آج بعض ناقدین یہ کہتے ہیں کہ ہندوستانی عدلیہ اور حکومت اس نتیجے پر پہنچ چکی ہے کہ مسلمانوں کے خلاف چاہے جتنا بڑا فیصلہ کر لیا جائے، ان کی طرف سے کسی مؤثر اور سخت ردِّ عمل کا اندیشہ نہیں ہے۔ اسی احساسِ بے خوفی نے مظالم کے سلسلے کو دراز کر دیا ہےاور مسلمان یکے بعد دیگرے آزمائشوں کے حصار میں گھرتے چلے جا رہے ہیں۔
اگرچہ یہ بات ایک حد تک صحیح ہےلیکن اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ جو چند قلم ابھی سسکتے ہوئے لفظوں کے ساتھ زندہ ہیں، انہیں بھی خاموش کرا دیا جائے؛ اور جو چند زبانیں ابھی حق کی لرزتی ہوئی صدا بلند کر رہی ہیں، ان پر بھی سکوت کی مٹی ڈال دی جائے۔
یاد رکھیئے! قومیں صرف بموں کے گرنے سے نہیں مرتیں، بلکہ اس وقت بھی مر جاتی ہیں جب ان کے اہلِ درد خاموش ہو جائیں۔ اسی لیئے ظلم کے خلاف یہ چند کمزور آوازیں، حکومت وقت کو للکارنے سے کہیں زیادہ خوابیدہ مسلمانوں کو بیدار کرنے کی ایک کوشش ہے۔

اگر یہ آوازیں بھی خاموش ہو جائیں تو جانتے ہیں کیا ہوگا! پھر وہ لوگ، جو آج مصلحت کی چادر اوڑھ کر سو رہے ہیں، کل ابدی نیند سو جائیں گے اور ان کے وجود کی داستان صرف افسوس کے اوراق میں رہ جائے گی۔اس لیے جو اہلِ قلم ہیں انہیں لکھنے دیجیے، جو اہلِ زبان ہیں انہیں بولنے دیجیے، کیونکہ یہی آوازیں ملت کے ضمیر کو زندہ رکھتی ہیں۔ یہی تحریریں قوم کو غفلت کی گہری کھائی میں گرنے سے بچاتی ہیں۔ یہی صدائیں احساسِ زیاں کو بیدار کرتی ہیں، اور یہی چیخیں نئی نسل کو یہ سبق دیتی ہیں کہ ظلم کے سامنے مکمل خاموشی، ظلم سے بھی زیادہ خطرناک ہوتی ہے۔
